اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے آغاز کی پہلی برسی پر جاری بیان میں اس حملے کو بین الاقوامی قانون، سفارت کاری اور عالمی معاہدوں سے کھلی غداری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف میں تاخیر ہوسکتی ہے، لیکن وہ بالآخر نافذ ہو کر رہے گا۔
سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا کہ آج امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی 12 روزہ جارحیت کی پہلی برسی ہے۔ ایک سال گزرنے کے باوجود نہ ایرانی قوم کے زخم بھر سکے ہیں اور نہ ہی اس سانحے کا درد کم ہوا ہے، بلکہ وقت کے ساتھ یہ زخم مزید گہرے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ جنگ بارہ دن تک جاری رہنے والی بمباری، دہشت گردی اور تباہی کا سلسلہ تھی، جس نے ایران کے مختلف شہروں کو المناک مناظر میں بدل دیا، جبکہ ملک کی پرامن جوہری تنصیبات کو جارح قوتوں کی بدعہدی اور دھوکے کی علامت بنا دیا۔ یہ صرف ایران کے خلاف حملہ نہیں تھا بلکہ سفارت کاری، جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) اور ان تمام بین الاقوامی اصولوں سے غداری تھی جو اقوام کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے تھے۔
ایرانی سفارتخانے نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے اپنی بلاجواز اور وحشیانہ جارحیت کے دوران کسی جرم سے دریغ نہیں کیا۔ معصوم شہریوں، خصوصاً بچوں کو صرف اس جرم میں شہید کیا گیا کہ وہ بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے تھے۔ اسی طرح ایسے سائنس دانوں کو نشانہ بنایا گیا جو علم و تحقیق کے میدان میں سرگرم تھے، جبکہ ملک کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور حکام کو بھی شہید کیا گیا جو ایران کی خودمختاری اور وقار کے محافظ تھے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ ایرانی قوم آج بھی اپنے شہداء کے غم میں سوگوار ہے اور ان عزیز ہستیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی جن کی یاد قوم کی رگوں میں دوڑتی ہے اور جن کے نام ہر شب ایرانی عوام کی دعاؤں میں زندہ رہتے ہیں۔
سفارتخانے نے بعض ممالک کی خاموشی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان حکومتوں کو کبھی نہیں بھولے گا جو ان جرائم کے دوران محض تماشائی بنی رہیں۔ ان ممالک نے بین الاقوامی قانون کے دفاع کے بجائے اپنے قلیل المدتی مفادات کو ترجیح دی، اور ان کی منافقت نے ایران کے خلاف 9 اسفند 1404 کی نئی جارحیت کے ساتھ ساتھ غزہ اور لبنان میں جاری نسل کشی اور نسلی تطہیر کی راہ ہموار کی۔
بیان میں کہا گیا کہ تاریخ یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھے گی کہ جب ایرانی عوام کے فرزندوں کا خون بہایا جا رہا تھا تو بعض طاقتیں دشمنوں کی تلواریں تیز کر رہی تھیں، اور جب ایران اپنے شہداء کو سپردِ خاک کر رہا تھا تو کچھ حلقے ان جرائم کے لیے جواز تراشنے میں مصروف تھے۔
ایرانی سفارتخانے نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ یہ دکھ اور غم طویل عرصے تک ایرانی قوم کی اجتماعی یادداشت کا حصہ رہے گا، تاہم ایران کو یقین ہے کہ انصاف، خواہ تاخیر سے ہی سہی، ایک دن ضرور قائم ہوگا۔
آپ کا تبصرہ