اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ’’گلوبل مسلم ولیج‘‘ (Global Muslim Village) کے دوسرے سالانہ پروگرام میں 1200 سے زائد افراد نے شرکت کی، جن میں مسلم کمیونٹی کے اراکین، قونصل خانوں کے نمائندے، سماجی کارکن اور مختلف اسٹالز کے منتظمین شامل تھے۔
اس تقریب کا انعقاد Council on American-Islamic Relations Los Angeles کے لاس اینجلس دفتر اور Consulate General of the Republic of Indonesia کی میزبانی میں کیا گیا۔ پروگرام کا مقصد مختلف مسلم معاشروں کی ثقافتی اور سماجی تنوع کو نمایاں کرنا تھا۔
خاندانی اور کثیرالثقافتی نوعیت کے اس پروگرام میں عالمی بازار، حلال کھانوں کے اسٹالز اور مختلف ممالک کے ثقافتی و سماجی نمائشی مراکز قائم کیے گئے۔ شرکاء کو مختلف اسلامی ممالک کی تہذیب، روایات اور سماجی خدمات سے آگاہ کرنے کے لیے خصوصی سرگرمیوں کا اہتمام بھی کیا گیا۔
تقریب کے دوران سماجی انصاف کے موضوع پر مبنی فلموں کی نمائش کی گئی، جبکہ مختلف مسلم ممالک کے روایتی فنون اور ثقافتی مظاہروں نے حاضرین کی توجہ حاصل کی۔
اس پروگرام میں افریقی نژاد امریکی مسلمانوں کے نمائندوں کے علاوہ آذربائیجان، بیلیز، گھانا، انڈونیشیا، ملائیشیا، نائیجیریا، پاکستان، سینیگال، سیرا لیون اور ترکیہ کے قونصل خانوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے، جنہوں نے اپنے اپنے ممالک کے ثقافتی اور سماجی ورثے کو متعارف کرایا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حسام ایلوش نے کہا کہ ’’عالمی مسلم گاؤں‘‘ کا مقصد امت مسلمہ کی ثقافتی رنگا رنگی اور مشترکہ تہذیبی ورثے کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام مختلف مسلم ثقافتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
حسام ایلوش نے امریکہ میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ثقافت، اقدار اور مسلم معاشروں کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانا اور مختلف کمیونٹیز کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینا، مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کا مؤثر جواب ہے۔
آپ کا تبصرہ