اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مصر کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکا کے درمیان جلد از جلد ایک جامع معاہدے تک پہنچنا انتہائی اہم ہے، جو تمام متعلقہ فریقوں، خصوصاً خطے کے ممالک کے تحفظات اور مفادات کو مدنظر رکھتا ہو۔
پیر کے روز جاری ہونے والے بیان میں مصری وزارت خارجہ نے زور دیا کہ ایسا معاہدہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عدم استحکام اور سکیورٹی خطرات کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ اور دنیا گزشتہ چند ماہ سے سنگین سکیورٹی، اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں جلد کسی سمجھوتے تک پہنچنا خطے میں امن و استحکام کی بحالی اور باقی ماندہ تنازعات کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور
مصری وزارت خارجہ نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پابندی کریں، ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کریں، ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں اور طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی و سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کشیدگی میں کمی اور سیاسی مفاہمت کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی دیگر علاقائی بحرانوں کے حل کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔
فلسطین خطے کے بحرانوں کا مرکزی مسئلہ قرار
قاہرہ نے اپنے بیان میں مسئلہ فلسطین کو خطے کے تنازعات کا بنیادی محور قرار دیتے ہوئے غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی صورتحال پر عالمی توجہ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مصری وزارت خارجہ نے غزہ سے متعلق مجوزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد جاری رکھنے اور دوسرے مرحلے کے اقدامات فوری طور پر شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ بیان کے مطابق یہ اقدامات خطے میں بحرانوں کے خاتمے اور پائیدار استحکام کے قیام کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
ممکنہ سرخیاں:
-
مصر کا ایران اور امریکا سے جلد معاہدے کا مطالبہ، خطے میں امن کے لیے اہم قرار
-
قاہرہ: ایران۔امریکا سمجھوتہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کر سکتا ہے
-
مصری وزارت خارجہ کا زور، سفارت کاری ہی علاقائی بحرانوں کا واحد حل ہے
-
فلسطین خطے کے تنازعات کا مرکز، مصر کا غزہ پر عالمی توجہ بڑھانے کا مطالبہ
آپ کا تبصرہ