6 جون 2026 - 21:54
کرغیزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دو اجلاس؛ ایران پر امریکی جارحیت کی مذمت

شنگھائی تعاون تنظیم جون 2026ء کے دو اجلاس کرغیزستان میں منعقد ہوئے اور اس ملک نے اس تنظیم کی صدارت سنبھالی۔ اس دوران دو اہم وزارتی اجلاس منعقد ہوئے: پہلا، 5 جون کو بشکیک میں داخلی امور اور عوامی سلامتی کے وزراء کا اجلاس، اور دوسرا، 5 جون ہی کو چولپان-آتا میں وزارت صنعت کی چوتھی میٹنگ۔ / اجلاس میں ایرانی وفود کی شرکت اور کردار

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

کرغیزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دو اجلاسوں کے محرکات

ان اجلاسوں کے انعقاد کے اہم محرکات حسب ذیل تھے:

• بڑھتے ہوئے علاقائی خطرات: کرغیزستان کے صدر سدیر جاپاروف کے مطابق، رکن ممالک کو دہشت گردی اور سائبر حملوں سمیت متعدد خطرات کا سامنا ہے۔

• مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے نئے چیلنج: ایس سی او کے سیکرٹری جنرل نورلان یرمیکبایف نے خبردار کیا کہ خفیہ سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، خاص طور پر منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے ساتھ اس کی قربت باعث تشویش ہے۔

کارکردگی

اجلاس کے دوران اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا:

• خطرات کی نشاندہی: شرکاء نے منشیات کی غیرقانونی تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے جرائم، اور انسانی اسمگلنگ (Human Smuggling) جیسے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔

• صنعتی تعاون: وزرائے صنعت کے اجلاس میں کثیرالجہتی صنعتی تعاون کو فروغ دینے، نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال، اور کم کاربن پیدا کرنے والی صنعتوں کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔

• معلومات کے تبادلے پر زور: شرکاء نے انسدادِ دہشت گردی کے لئے خصوصی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔

نتائج

اجلاس کے اہم نتائج درج ذیل ہیں:

• پروٹوکول پر دستخط: داخلی امور کے وزراء کے اجلاس کے اختتام پر ایک پروٹوکول پر دستخط کئے گئے، جس میں مستقبل میں تعاون کے لئے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی۔

• مشترکہ اعلامیہ: صنعت کے وزراء نے ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا، جس میں کثیرالجہتی صنعتی تعاون اور ٹیکنالوجیکل پارٹنرشپ پر زور دیا گیا۔ اس اعلامیے میں ایران پر امریکی-صہیونی جارحیت کی مذمت کی گئی۔

• سرمایہ کاری کے منصوبوں کا ڈیٹا بیس: تاجکستان کی تجویز پر رکن ممالک کے صنعتی سرمایہ کاری منصوبوں کا ڈیٹا بیس بنانے کے ضابطے کی منظوری دی گئی۔

• ٹیکسٹائل کلسٹر کی تشکیل: شرکاء نے ٹیکسائل کلسٹر بنانے اور ہلکی صنعت کی مصنوعات کی باہمی رسائی میں سہولت فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

خلاصہ

کرغیزستان کی صدارت میں ہونے والے یہ اجلاس علاقائی سلامتی اور صنعتی تعاون کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئے۔ خاص طور پر ڈیٹا بیس آف انڈسٹریل انویسٹمنٹ پراجیکٹس کا قیام اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا اجلاس کی کامیابیاں ہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔

اجلاس میں ایرانی وفود کی شرکت اور کردار

ایرانی وفود نے ان اجلاسوں میں سرگرم اور دو طرفہ تعاون پر مبنی کردار ادا کیا۔

تفصیل درج ذیل ہے:

داخلی امور کے وزراء کا اجلاس (بشکیک، 4-6 جون 2026)

اس اجلاس میں ایران کی نمائندگی وزیر داخلہ اسکندر مؤمنی نے کی۔

کارکردگی کے اہم پہلو:

1۔ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعاون

ایرانی وزیر داخلہ نے پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں درج ذیل امور پر تبادلہ خیال کیا گیا:

• امریکہ-ایران کشیدگی میں کمی: دونوں وزراء نے علاقائی استحکام کے لئے مسلسل سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ایرانی وزیر نے اس سلسلے میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔

• دو طرفہ تجارت کو فروغ: ایرانی وزیر داخلہ نے پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کی تجویز پیش کی، جسے پاکستانی وزیر نے سراہا۔

• سرحدی تعاون: دونوں رہنماؤں نے سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

• پائیدار امن کا عزم: دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں مستقل امن کے لئے مسلسل سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔

2۔ علاقائی سلامتی کے چیلنجوں پر مشترکہ موقف

ایرانی وزیر داخلہ نے اجلاس میں شرکت کو علاقائی اور دو طرفہ مشاورت کے لئے ایک اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم، اور سائبر خطرات جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

۔۔۔۔۔

وزارت صنعت کے وزراء کی چوتھی میٹنگ (چولپان-آتا، 5 جون 2026)

اس اجلاس میں ایران کی نمائندگی وزیر صنعت، کان کنی اور تجارت سید محمد اتابک نے کی۔

کارکردگی:

1۔ صنعتی تعاون میں فعال شرکت

ایرانی وزیر نے صنعتی تعاون کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، اور نئی ٹیکنالوجیز کے نفاذ پر زور دیا۔

2۔ مشترکہ اعلامئے میں شمولیت

ایران نے دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر صنعتی سرمایہ کاری، منصوبوں کے ڈیٹا بیس بنانے کے ضابطے اور ٹیکسٹائل کلسٹر کی تشکیل کی تجویز کی حمایت کی۔ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے آخری اعلامئے میں ایران پر امریکی-اسرائیلی جارحیت کی مذمت کا کامیاب انتظام کیا۔

ایرانی نمائندوں کی کارکردگی کا خلاصہ

سفارتی مصروفیات: پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات، امریکہ-ایران کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں تعاون

اقتصادی تعاون:  دو طرفہ تجارت 10 ارب ڈالر کرنے  اور صنعتی منصوبوں میں شمولیت کی تجویز

علاقائی سلامتی: مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لئے معلومات کے تبادلے پر زور

بین الاقوامی تعلقات:

پاکستان کی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم، مستقبل کے دوروں کی دعوت

مجموعی طور پر، ایرانی وفد نے ان اجلاسوں میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے، علاقائی کشیدگی کم کرنے، اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی۔ ان کی کارکردگی کو سفارتی لحاظ سے فعال اور تعمیری قرار دیا جا سکتا ہے۔

 (چولپان-آتا، 5 جون 2026) کے آخری اعلامیے میں ایک شق کا اضافہ کروایا جس میں ایران پر امریکی-اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی۔

یہ قابلِ ذکر سفارتی کامیابی تھی کہ انہوں نے اجتماعی اعلامئے میں یہ شق شامل کروائی۔ اس سے قبل اس اجلاس میں وزیر داخلہ اسکندر مؤمنی بھی شنگھائی تعاون تنظیم کے داخلی امور کے اجلاس میں امریکی-اسرائیلی حملوں کے خلاف سخت موقف اپنا چکے تھے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha