بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ رشت-آستارا ریلوے منصوبہ، بین الاقوامی شمال-جنوب کوریڈور (INSTC) کی سب سے اہم گمشدہ کڑی، دو دہائیوں کے انتظار کے بعد حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ایران اور روس کے درمیان نقل و حمل کے شعبے میں تعاون کے بارے میں ان دنوں تیز رفتار سفارتی مشاورتیں ہو رہی ہیں، یہ تعاون یوریشیا ٹرانزٹ میں ایک بڑی تبدیلی کی نوید دیتا ہے۔
تیزرفتاری کے لئے اعلیٰ سطحی مشاورتیں
تازہ ترین دور میں، ماسکو میں ایران کے سفیر کاظم جلالی اور روس کے نائب وزیر نقل و حمل دیمتری زویریف نے اس بنیادی منصوبے کے بنیادی ڈھانچے کے اس معاہدے پر جلد از جلد دستخط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ملاقات میں روسی کمپنی 'کیسپین سروس' کے سی ای او یوری کوزمین بھی موجود تھے، اور آخری تکنیکی اور انتظامی تقاضوں کا جائزہ لیا گیا۔
جلالی نے علاقائی تبدیلیوں اور کے ایران پر امریکہ اور صہیونی ریاست کے حالیہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے، ایران کے شمال میں بین الاقوامی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے تہران کے پختہ عزم پر زور دیا۔ اس سے قبل بھی، سڑکوں اور شہری ترقی کی ایرانی وزیر محترمہ فرزانه صادق نے اپنے روسی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطے میں، باقی ماندہ مسائل کے حل اور ایگزیکٹو معاہدہ پر دستخط کا مطالبہ کیا تھا۔
وقت طلب ترین مرحلے کا اختتام؛ اراضی کی ملکیت مکمل
ملکی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی کمپنی کے سی ای او "ہوشنگ بازوند" نے اس سال مئی کے وسط میں رشت-آستارا کے 162 کلومیٹر طویل راستے کی تمام اراضی کی ملکیت مکمل ہونے کی خبر دی۔ یہ مرحلہ جو برسوں سے اس منصوبے کی سب سے اہم رکاوٹوں میں سے ایک تھا، اب مکمل طور پر حل کیا گیا ہے اور زمین تعمیراتی کام شروع کرنے کے لئے روسی ٹھیکیدار کے حوالے کی جائے گی۔
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ تخمینوں کے مطابق اس راستے کی تکمیل اور نیٹ ورک کے دیگر حصوں کی بہتری کے ساتھ، شمال-جنوب کوریڈور میں سالانہ مال برداری کی گنجائش 10 سے 15 ملین ٹن تک پہنچ جائے گی۔ اس ریلوے لائن کی تعمیر میں تقریباً 5 سال لگیں گے۔
حتمی اتصال کے منتظر ٹرانزٹ میں شماریاتی چھلانگ
ایک طرف سے رشت-آستارا کے ایگزیکٹو معاہدے پر دستخط کے منتظر ہیں، تازہ اعدادوشمار شمال-جنوب کوریڈور کی دیگر شاخوں میں ٹرانزٹ کی نمایاں ترقی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
روس ریلوے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سرگئی پاولوف نے اشک آباد میں دولت مشترکہ کی آزاد ریاستوں (CIS) کی ریلوے نقل و حمل کونسل کے اجلاس میں اعلان کیا کہ سنہ 2025ع میں، شمال-جنوب کوریڈور کی مشرقی شاخ (ترکمانستان اور قازقستان کے راستے) میں مال برداری تقریبا 100 فیصد اضافے کے ساتھ 3 ہزار 200 کنٹینرز تک پہنچ گئی ہے۔
نیز اس کوریڈور کی مغربی شاخ (آذربائیجان سے آستارا کا راستہ) میں، کنٹینر نقل و حمل کی مقدار 50 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ 8 ہزار کنٹینرز سے تجاوز کر گئی ہے۔
پاولوف نے مشرقی راستے میں 2026 کے لئے یکجا کم شدہ محاصل میں توسیع کی بھی خبر دی اور کہا: 'مال برداری کا دائرہ افغانستان، عراق اور افریقی ممالک تک بھی پہنچ گیا ہے۔'
شمال-جنوب کوریڈور کا تزویراتی پیش منظر
رشت-آستارا کڑی کے اتصال کے ساتھ، ایران کا ریلوے نیٹ ورک براہ راست آذربائیجان اور روس سے منسلک ہو جائے گا۔ 7200 کلومیٹر طویل شمال-جنوب کوریڈور (INSTC) جس پر سنہ 2000 عیسوی میں روس، ہندوستان اور ایران نے دستخط کئے تھے، اب 14 رکن ممالک کے ساتھ، نہر سوئز کا ایک مختصر اور سستا متبادل بن سکتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یوکرین جنگ کے بعد روس کی بیرونی تجارت کا راستہ بدلنے اور خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے پانیوں میں ٹرمپ کی طرف سے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی وجہ سے، اس کوریڈور نے دوچند اہمیت حاصل کر لی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ