30 مئی 2026 - 18:07
جنوبی سوڈان میں غذائی بحران سنگین، نصف سے زائد آبادی فوری امداد کی منتظر

ورلڈ فوڈ پروگرام کا انتباہ، ہزاروں افراد انتہائی خطرناک بھوک کا شکار، امدادی سرگرمیوں کے لیے مزید فنڈز درکار

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جنوبی سوڈان میں غذائی بحران خطرناک حد تک شدت اختیار کر گیا ہے اور ملک کی نصف سے زائد آبادی فوری غذائی امداد کی محتاج ہے۔

جنوبی سوڈان میں ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے سربراہ موتینتا چیموکا نے کہا ہے کہ ملک بھر میں لاکھوں افراد خوراک کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ صورتحال خاص طور پر صوبہ جونگلی میں انتہائی تشویشناک ہے جہاں لاکھوں افراد قحط جیسی کیفیت سے دوچار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جونگلی میں تقریباً 12 ہزار افراد غذائی عدم تحفظ کے انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں اور دودھ پلانے والی ماؤں میں شدید غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے کیسز پر بھی گہری تشویش پائی جاتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ سے متاثرہ شہر آکوبو میں ورلڈ فوڈ پروگرام نے 60 ہزار سے زائد افراد تک غذائی امداد پہنچائی ہے، تاہم بارشوں کا موسم شروع ہونے کے بعد امدادی سامان کی ترسیل مزید دشوار یا ناممکن ہو سکتی ہے۔

چیموکا نے کہا کہ انسانی جانیں بچانے کے لیے وقت بہت محدود ہے اور امدادی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے ورلڈ فوڈ پروگرام کو تقریباً 227 ملین یورو کی فوری ضرورت ہے۔

جھڑپوں میں اضافے سے صورتحال مزید خراب

جنوبی سوڈان میں صدر سالوا کیر اور ان کے دیرینہ سیاسی حریف ریک ماچار کے حامی گروہوں کے درمیان دسمبر 2025 کے اواخر سے جونگلی ریاست میں دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مخالف قوتوں کی پیش قدمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے اور جونگلی میں لڑائی فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی جھڑپیں لاکھوں افراد کی مزید نقل مکانی اور انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہیں۔

جنوبی سوڈان نے 2011 میں سوڈان سے علیحدگی کے بعد آزادی حاصل کی تھی، تاہم صدر سالوا کیر اور ریک ماچار کے درمیان 2013 سے شروع ہونے والی خانہ جنگی پانچ برس تک جاری رہی۔ دونوں رہنماؤں نے 2018 میں امن معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے نتیجے میں اقتدار کی شراکت پر مبنی حکومت قائم ہوئی، لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران جاری کشیدگی نے اس معاہدے کو کمزور کر دیا ہے۔

ریک ماچار کو اقتدار کی شراکتی حکومت سے الگ کر دیا گیا ہے اور وہ انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے سلسلے میں عدالتی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔

دنیا کے کم عمر ترین آزاد ملک جنوبی سوڈان کو قیام کے بعد سے مسلسل خانہ جنگی، غربت اور بدعنوانی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha