اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، انڈونیشیا میں ایران کے ثقافتی مرکز نے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اس بار روایتی ’’شہر فرنگ‘‘ قصہ گوئی کو ایک متحرک کنٹینر کی شکل میں پیش کیا، جس میں صوبہ ہرمزگان کے شہید طلبہ کی داستانیں جاکارتہ کی سڑکوں تک پہنچائی گئیں۔
اس ثقافتی اقدام کو دنیا کے سب سے بڑی آبادی والے اسلامی ملک کے مختلف طبقات نے بھرپور توجہ دی۔ ایک کنٹینر بردار گاڑی پر ایسے منفرد اور اثر انگیز مناظر آویزاں کیے گئے تھے جو شجرۂ طیبہ پرائمری اسکول پر امریکہ کے متعدد حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی بچوں کی ابدی پرواز کی عکاسی کرتے تھے۔
اس سے قبل بھی شہدائے میناب کی یاد میں انڈونیشی عوام مختلف پروگراموں کے ذریعے اپنی محبت اور یکجہتی کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں ’’الحسنہ‘‘ تعلیمی کمپلیکس میں شجرکاری کی تقریب اور ’’کار فری سنڈے‘‘ ریلی کے دوران اسکولی بستوں سے مزین ثقافتی اشیاء کی تقسیم شامل تھی، جن کے ذریعے ان شہید بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ