30 مئی 2026 - 14:27
مآخذ: ابنا
جنوب مشرقی ایشیا میں غذائی قلت اور مہنگائی کے بڑھتے خطرات پر انتباہ

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو غذائی تحفظ اور مہنگائی کے سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ شدید موسمیاتی مظہر "سپر ال نینو" زرعی پیداوار کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث پیداوار اور نقل و حمل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو غذائی تحفظ اور مہنگائی کے سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ شدید موسمیاتی مظہر "سپر ال نینو" زرعی پیداوار کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث پیداوار اور نقل و حمل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ناموافق موسمی حالات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے رکن ممالک کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ ایندھن اور کیمیائی کھادوں کی بڑھتی قیمتوں کے ساتھ خشک سالی کے باعث زرعی پیداوار کو لاحق خطرات نے مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

سنگاپور کے ایک مشاورتی ادارے کے ماہر خور یو لنگ کا کہنا ہے کہ انتہائی خشک موسم آسیان ممالک کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق سپر ال نینو کا مطلب خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہے کیونکہ طویل خشک سالی اور بے ترتیب بارشیں غذائی اجناس کی پیداوار کم کر سکتی ہیں، جس سے رسد متاثر اور قیمتیں بلند ہو جائیں گی۔

ماہرین نے خاص طور پر چاول کی پیداوار میں کمی کو تشویشناک قرار دیا ہے کیونکہ چاول خطے کے بیشتر ممالک کی بنیادی غذا ہے اور عالمی سطح پر اس کی تجارت محدود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رسد میں معمولی رکاوٹ بھی برآمدی پابندیوں، ذخیرہ اندوزی اور ہنگامی خریداری کو جنم دے سکتی ہے، جس سے قیمتیں حقیقی نقصان سے کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔

امریکی قومی سمندری و فضائی انتظامیہ کے مطابق مئی سے جولائی کے درمیان ال نینو کے آغاز اور فروری 2027 تک اس کے برقرار رہنے کا امکان 82 فیصد ہے۔ ماہر موسمیات شیبا چنولی نے خبردار کیا ہے کہ سپر ال نینو، جس کی خصوصیت سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں دو ڈگری سینٹی گریڈ اضافے سے ہوتی ہے، زرعی پیداوار میں نمایاں کمی اور بعض علاقوں میں وسیع جنگلاتی آگ کا سبب بن سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات نے کھادوں کی فراہمی اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر موسمیاتی دباؤ اور جغرافیائی سیاسی بحران ایک ساتھ شدت اختیار کرتے ہیں تو خطے میں خوراک کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

غذائی تحفظ کے بڑھتے چیلنجز کے پیش نظر آسیان ممالک علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جنوبی کوریا زرعی ٹیکنالوجی، ہنگامی چاول ذخائر اور اسمارٹ فارمنگ نظام کے فروغ کے ذریعے خطے کی غذائی سلامتی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، سپر ال نینو اور عالمی سیاسی کشیدگی کا امتزاج جنوب مشرقی ایشیا کے لیے ایک بڑا امتحان بن سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف زرعی شعبے بلکہ مجموعی معیشت اور عوامی زندگی پر بھی مرتب ہوں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha