اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان میں مزاحمتی قیادت کے دو اہم رہنماؤں، نعیم قاسم اور نبیہ بری، نے واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اُن عناصر کو سخت پیغام دیا ہے جو مزاحمت کے خاتمے پر شرطیں لگا رہے تھے۔
فلسطینی تجزیہ نگار عبدالباری عطوان نے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ لبنان میں جاری حالیہ سیاسی اور عسکری پیش رفت خطے میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کر رہی ہے، جہاں مزاحمت ایک بار پھر مرکزی قوت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اپنے خطاب میں لبنان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کو “بڑی غداری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کو غیر مسلح کرنا دراصل لبنان کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہتھیار ڈالنا ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے برابر ہے اور ہم ہر قیمت پر اس کا مقابلہ کریں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت لبنان کی سرزمین اور عزت کا دفاع کر رہی ہے، اور جو بھی اس کے خلاف کھڑا ہوگا، اس کا سامنا اسی طرح کیا جائے گا جیسے اسرائیل کا کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری نے بھی ایک مضبوط خطاب میں مزاحمت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان گزشتہ تین برس سے مسلسل جارحیت اور تباہی کا شکار ہے، مگر قوم متحد ہو کر دوبارہ آزادی اور تعمیر نو کی صلاحیت رکھتی ہے۔
عبدالباری عطوان کے مطابق اسرائیلی فوج کے سربراہ کی جانب سے بیروت کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی دھمکی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے ڈرون حملوں سے شدید خوفزدہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی مسلسل جارحیت، جنگ بندی کی ہزاروں خلاف ورزیاں، اور لبنان میں تباہی نے عوام کو مزید متحد کر دیا ہے، جبکہ امریکہ کی حمایت یافتہ پالیسیوں پر اعتماد کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
اداریے کے مطابق لبنان ایک بار پھر عرب اور اسلامی دنیا میں عزت، خودمختاری اور مزاحمت کی علامت بنتا جا رہا ہے، اور اسرائیل و امریکہ کے اثر و رسوخ کے خلاف نئی صف بندی تشکیل پا رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ