اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ موجودہ مذاکرات کا مرکزی مقصد جنگ کا خاتمہ ہے اور اس مرحلے پر جوہری معاملات زیرِ بحث نہیں ہیں۔
ہفتہ وار پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار ریاستی نظام کا حصہ ہیں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے دھمکیاں اور دباؤ سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، تاہم ایران زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر فیصلے کر رہا ہے۔
بقائی نے کہا کہ جنگ بندی کے مجوزہ فریم ورک میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کی شق شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ پیش رفت کئی ہفتوں سے پاکستانی ثالثی کے ذریعے جاری مذاکرات کا نتیجہ ہے، تاہم ابھی کسی حتمی معاہدے کے فوری اعلان کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے امریکی پالیسی کو “غیر مستقل اور متضاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ چند گھنٹوں میں مختلف اور متناقض بیانات سامنے آتے ہیں، جس سے مذاکراتی عمل پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے مشترکہ نظام تیار کر رہے ہیں، کیونکہ اس آبی گزرگاہ کی سلامتی پوری دنیا کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس راستے سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی “ٹیکس” عائد نہیں کر رہا، البتہ فراہم کی جانے والی خدمات اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے اخراجات لینا ایک فطری امر ہے۔
بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق فیصلے صرف ایران اور عمان کا حق ہیں اور کسی دوسرے ملک کو اس میں مداخلت کا اختیار نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے عمان کا دورہ بھی اسی مقصد کے تحت کیا تاکہ محفوظ بحری نقل و حرکت کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کیا جا سکے۔
اسماعیل بقائی نے عراقچی کے نیویارک دورے کے بارے میں بتایا کہ ویزا مسائل کے باعث یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت بنیادی طور پر جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز اور سمندری سلامتی سے متعلق ہے، جبکہ جوہری پروگرام کی تفصیلات بعد کے مرحلے میں زیرِ بحث آئیں گی۔
بقائی نے امریکا اور اسرائیل پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں سے دستبردار نہیں ہوگا اور اگر کوئی نئی جارحیت ہوئی تو ایرانی مسلح افواج اس کا “زیادہ شدت” سے جواب دیں گی۔
آپ کا تبصرہ