اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے سابقہ دعوؤں سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری خطے کے رہنماؤں پر ڈال دی۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف امریکہ کا منصوبہ بند فوجی حملہ، جو مبینہ طور پر کل کیا جانا تھا، بعض علاقائی رہنماؤں کی درخواست پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے بقول قطر کے امیر، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید نے ان سے ایران پر حملہ روکنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس درخواست کی وجہ ایران سے متعلق “سنجیدہ مذاکرات” کا جاری ہونا ہے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا کہ ممکنہ معاہدے کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ اور امریکی افواج کو ہدایت دی گئی ہے کہ حملہ فی الحال نہ کیا جائے، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو امریکی فوج ہر وقت “وسیع حملے” کے لیے تیار رہے۔
آپ کا تبصرہ