اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی سرحد پر جاری جھڑپوں اور حزب اللہ کے ساتھ مسلسل مقابلوں کے باعث صہیونی فوج کو شدید افرادی بحران اور عسکری دباؤ کا سامنا ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق فوج میں ہزاروں اہلکاروں کی کمی پیدا ہو چکی ہے، جبکہ جنگی محاذوں پر طویل تعیناتی نے فوجیوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر بری طرح متاثر کیا ہے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے رپورٹر نیتسان شاپیرا کی رپورٹ کے مطابق فوجی حکام نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ فوج کو تقریباً 12 ہزار اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔ ان میں بڑی تعداد جنگی یونٹس اور آپریشنل دستوں کی ہے، جہاں 6 ہزار سے زائد فوجیوں کی ضرورت فوری طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔
فوجی حکام نے موجودہ صورتحال کو “گہری فرسودگی” قرار دیا ہے، جس کی بنیادی وجہ لبنان میں طویل جنگ، متعدد محاذوں پر کشیدگی اور زخمی فوجیوں کی بڑی تعداد ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں اب تک ایک ہزار سے زائد اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
اسرائیلی فوجی ریڈیو نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ریزرو فورسز کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی لیے فوج حکومت اور پارلیمنٹ پر نئے فوجی قوانین منظور کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے، جن میں مذہبی یہودیوں کے لیے لازمی فوجی سروس، ریزرو فورس کے نئے قوانین اور لازمی فوجی مدت کو تین سال تک بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔
ادھر اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان پر مکمل قبضے کی صورت میں بھی حزب اللہ کے ڈرون اور میزائل حملے روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ صورتحال اسرائیلی فوج کے لیے ایک بڑے اسٹریٹجک چیلنج کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ