4 مئی 2026 - 20:48
امریکہ کا سہ جُزْوی زوال؛ مہنگائی – محاصل - جنگ

"صدر [ٹرمپ] نے وعدہ کیا تھا کہ پہلے ہی دن، قیمتوں کو کم کرے گا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ / کلوبوچر نے کہا کہ "کسان اس صورتحال کو 'بدصورتی کا ایک مکمل نمونہ' کہتے ہیں۔ تین ٹوٹے ہوئے وعدے، تین بحران، تین تباہیاں؛ یہ وہ کامیابیاں ہیں جو ٹرمپ نے امریکی عوام کو تحفے میں دیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ڈیموکریٹ سینیٹر ایمی کلوبوچر (Amy Klobuchar) نے ٹرمپ کو درپیش تین بڑے چیلنجوں کو اچھالا: آسمان سے باتیں کرنے والی مہنگائی، امریکہ کو نقصان پہنچانے والے محاصل (ٹیرفس)، اور وہ جنگ جس نے کھاد کی قیمت دو گنا کر دی ہے۔ امریکی بیک وقت تین طوفانوں تلے کچلے جا رہے ہیں۔

پہلا دھچکا؛ مہنگائی اور کھوکھلے وعدے

ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے نعروں کے ضمن ميں "جیبیں پیسوں سے بھر دو" کا وعدہ تھا، لیکن؛

فروری 2026 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکی معیشت روزگار کے 92 ہزار مواقع کھو چکی ہے اور بیروزگاری کی شرح 4.4 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

مارچ 2026 میں مہنگائی کی شرح 3.3 فیصد تک جا پہنچی، جو بنیادی طور پر ایران جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ تھی اور پچھلے دو سالوں کی بدترین مہنگائی ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسم بہار میں PCE (1) مہنگائی کی شرح 4 فیصد تک پہنچ جائے گی اور فیڈرل ریزرو سود کی شرح میں کمی کو مزید اطلاع تک روکنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ 'پچھلے دو سالوں کی بدترین مہنگائی'، '92 ہزار ملازمتوں کا نقصان'، 'ہر خاندان پر 2500 ڈالر کا محصول' اور '4٪ مہنگائی کی شرح'؛ یہ وہ 'کامیابیاں!، ہیں جن کا ٹرمپ نے لوگوں سے وعدہ نہیں کیا تھا۔

دوسرا دھچکا؛ امریکہ کو نقصان پہنچانے والے محاصل

ٹرمپ کے محاصل کی پالیسی ایک معاشی تباہی پر منتج ہوئی ہے۔

سنہ 2026ع‍ میں اوسط مؤثر محصول (ٹیرف) کی شرح 10.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو 1946 کے بعد سب سے اونچی سطح ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے 24 فروری 2026 کو IEEPA (2) پر مبنی تمام محصولات (ٹیرف) بشمول کینیڈا پر 35 فیصد اور میکسیکو اور چین پر 25 فیصد محصول (ٹیرف) کو کالعدم قرار دے دیا۔ لیکن اس کا نقصان پہلے ہی معیشت کو پہنچ چکا تھا۔ امریکی خاندان اس سال محصولات (ٹیرف) کی وجہ سے 2500 ڈالر سے زیادہ اضافی لاگت ادا کر رہے ہیں۔ کسانوں نے اپنی برآمدات کھو دی ہیں اور چھوٹے کاروبار دوہرے اخراجات کے بوجھ تلے بند ہو رہے ہیں۔

تیسرا دھچکا؛ ایران جنگ اور کھاد کا بحران

لیکن معاملے کا سب سے تباہ کن حصہ وہ ہے جہاں ایران جنگ لوگوں کے دسترخوان تک پہنچ گئی ہے۔ دنیا کی 30 فیصد کیمیائی کھاد اور تقریباً نصف یوریا اور دنیا کی 30 فیصد امونیا آبنائے ہرمز سے گذرتی ہے۔

مصر کی دانے دار یوریا کی قیمت، جو عالمی اشاریہ (انڈیکس) ہے، جنگ سے پہلے 400 سے 490 ڈالر کی حد سے بڑھ کر تقریباً 700 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے،

یوریا کی قیمت میں 50٪، اور امونیا کی قیمت 20٪ اضافہ ہؤا ہے اور نائٹروجن کھادوں کی قیمت تقریباً دو گنا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کے پہلے چھ مہینوں میں کھاد کی قیمت 15 سے 20٪ کے درمیان بڑھ جائے گی۔ 'یہ صرف توانائی کا بحران نہیں ہے، یہ ایک مکمل خوراک کا بحران ہے۔'

پانچ ماہ سے بھی کم عرصے میں، 2026 کی خزاں میں، یہ مہنگائیاں روٹی، گوشت اور خام مال کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں لوگوں کی دسترخوان پر خود کو ظاہر کریں گی۔

شرمندہ تعبیر نہ ہونے والا خواب امریکیوں کے لئے مہنگا پڑا

آج امریکی خاندان بیک وقت تین بحرانوں سے نبرد آزما ہیں: مہنگائی جسے کنٹرول کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، محاصل جنہوں نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے، اور وہ جنگ جس نے امریکہ کو مشرق وسطیٰ سے باہر نکالنے کے بجائے ایک نئی دلدل میں پھنسا دیا ہے اور اب کیمیاوی کھاد اور خوراک کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔ جیسا کہ کلوبوچر نے کہا کہ "کسان اس صورتحال کو 'بدصورتی کا ایک مکمل نمونہ' کہتے ہیں۔ تین ٹوٹے ہوئے وعدے، تین بحران، تین تباہیاں؛ یہ وہ کامیابیاں ہیں جو ٹرمپ نے امریکی عوام کو تحفے میں دیں۔

امریکہ کا سہ جُزْوی زوال؛ مہنگائی – محاصل - جنگ

ایمی کلوبوچر بمقابہ ٹرمپ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Personal Consumption Expenditures Price Index [PCE] = ذاتی استعمال کے اخراجات کی قیمت کا اشاریہ

2. International Emergency Economic Powers Act [IEEPA]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: فاطمہ کاوند

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha