اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شاتم اسلام ولندیزی رکن پارلیمان "گیرت ویلدررز" نے جب یہ فلم بنائی تو پوری دنیا کے مسلمانوں نے اس پر احتجاج کیا؛ بعض ممالک نے ولندیزی شاتم کو اپنی سرحدوں میں داخلے سے روکا اور حال ہی میں برطانیہ میں بھی اس کو داخلے سے روکا گیا تھا مگر اب ہاؤس آف دی لارڈز نے برطانوی مسلمانوں کی شدید مخالفت کے باوجود اس کی نمائش کی اجازت دے دی اور برطانیہ کے قدامت پسندوں نے بڑے شوق سے اس فلم کا مشاہدہ کیا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ گیرت ویلدرز جو اس سے پہلے برطانیہ میں داخلے سے روکا گیا تھا اور اس کے مسلمان اراکین کی کوششوں سے دارالامراء میں اس فلم کی نمائش پر پابندی بھی لگ گئی تھی تا ہم اسلام دشمن ڈچ ممبر پارلیمنٹ اس بار ہاؤس آف دی لارڈز کے دو اراکین کی دعوت پر برطانیہ بلایا گیا اور اس نے اپنی توہین آمیز فلم ہاؤس آف دی لارڈز کی عمارت میں ہاؤس کے اراکین کو دکھائی۔ ویلدرز نے ہاؤس آف لارڈز سے خطاب بھی کیا اور دعوی کیا: اسلام اور جمہوریت دو متضاد چیزیں ہیں اور اس فلم کی نمائش کی مخالفت جمہوریت کی خلاف ورزی ہے۔ تا ہم ویلدرز نے اس مغربی قاعدے کی طرف اشارہ نہیں کیا کہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی آزادی کو پامال کرنا اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا جمہوریت کی پامالی کے مترادف ہے اور یہ کہ آزادی کا مطلب دوسروں کوآزار و و اذیت پہنچانا نہیں ہے۔
متعلقہ رپورٹ: اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گیرت ویلدرز نے کافی عرصے سے بوڑھے استعمار برطانیہ کے دارالامراء میں اپنی فتنہ انگیز فلم فتنہ کی نمائش کی کوشش شروع کررکھی تھی؛ ملاحظہ فرمائیں:ہاؤس آف لارڈز میں فلم”فتنہ“ کی نمائش منسوخ کر دی گئی (24/1/2009)لندن (نمائندہ جنگ) اسلام دشمن ڈچ ممبر پارلیمنٹ کی ”فتنہ“ کے نام سے فتنہ انگیز فلم کی ہاؤس آف لارڈ میں نمائش منسوخ کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے میں جہاں یہ پہلو حکام کے مدنظر رہا کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھیں گے وہاں ڈچ اپیل کورٹ کے اس فیصلے کا بھی دخل ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کے پرچار پر خیرت ولڈر کو ہالینڈ کی عدالت میں مقدمہ کا سامنا ہے اور اس کے قانونی اثرات برطانیہ پر بھی مرتب ہوں گے۔ مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی لارڈ احمد کر رہے تھے جن کے ذریعہ مسلمانوں کو اس فلم کی نمائش کا علم ہوا اور لارڈ احمد کے جذبات کا بھی پتہ چلا کہ وہ اس پر اس حد تک احتجاج کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے یا ان کی لارڈ شپ ختم کی جا سکتی ہے۔ لارڈ احمد نے لارڈز میں بکنگ کے ذمہ دار بلیک راڈ، لیڈر آف دی ہاؤس لارڈ جان رائل، اپوزیشن لیڈر لارڈ کلائیڈ اور چیف وہپ کو خطوط لکھ کر نہ صرف اس شرمناک فلم کی نمائش پر احتجاج کیا تھا بلکہ انہیں بتا دیا تھا کہ وہ لارڈز میں ”سٹ ان“ احتجاج کے لیے بدھ 28 جنوری کو لارڈز کا اجلاس ختم ہونے کے بعد چیمبر سے باہر نہیں نکلیں گے۔ واضح رہے کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد چیمبر لاک کر دیا جاتا ہے، چیمبر خالی نہ کرنے پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ لارڈ احمد کے علاوہ دیگر مسلم لارڈز، بیرونس سعیدہ وارثی، لارڈ شیخ اور لارڈ پٹیل نے بھی خطوط لکھے تھے۔ جمعہ کی صبح کو لارڈ احمد، ایم سے بی کے نائب صدر داؤد، برٹش مسلم فورم کے پیرزادہ امداد حسین اور پاکستان کمیونٹی سنٹر کے صدر طارق ڈار کے ساتھ بلیک راڈ سے ملے تو انہوں نے وفد کو بیرونس کاکس کے پروگرام کی منسوخی کی اطلاع دی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہ وعدہ نہیں کرتے کہ مذکورہ فلم آئندہ نہیں دکھائی جائے گی کیونکہ کوئی اور لارڈ کا رکن کچھ عرصہ بعد بکنگ کر سکتا ہے تاہم ڈچ کورٹ کا فیصلہ اس سلسلے میں اہم رول ادا کرے گا۔ بیرونس کاکس نے لارڈ کا موزز روم جمعرات 29 جنوری کے لئے بک کیا تھا جس میں مباحثہ کا عنوان ”آزادی اظہار اور یورپین اسلام!!! اسلامی تشدد کا ہم کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں“ رکھا گیا تھا۔ اس موقع پر پہلے چینل فورم کے ایک پروگرام "Kill or be killed" پر خیرت ولڈر کی فلم ”فتنہ“ دکھائی جاتی جس کے بعد مباحثہ ہوتا۔ فلم کی نمائش پر برطانیہ بھر کی مسلم جماعتوں نے احتجاج اور مظاہرے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں لیبر پارٹی سے مسلمانوں کے تعلقات کشیدہ ہونے کا خدشہ تھا۔ لارڈ احمد نے فلم کی نمائش کی منسوخی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے ان تمام تنظیموں کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے ”ناموس قرآن رسول“ کے تحفظ کے لیے والہانہ لبیک کہتے ہوئے اپنا احتجاج شامل کیا تھا۔
.......................
/110