اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران کے خلاف بڑے اسٹریٹجک اہداف مقرر کیے تھے، جن میں نظام کی تبدیلی، جوہری پروگرام کا خاتمہ اور میزائل صلاحیتوں کو ختم کرنا شامل تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ زمینی حقائق نے ان اہداف کو بدل کر ایک محدود ہدف تک سمیٹ دیا، یعنی آبنائے ہرمز کو کھولنا اور عالمی جہاز رانی کو یقینی بنانا۔
تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ بڑی جنگوں کے نتائج کا اندازہ ابتدائی نعروں سے نہیں بلکہ آخری صورتحال سے لگایا جاتا ہے، اور اصل خطرہ شکست نہیں بلکہ اس شکست کے مطابق اہداف کو دوبارہ ترتیب دینا ہوتا ہے۔
ایران کی حکمت عملی غیر متناسب ردعمل پر مبنی ہے، جس میں سمندری راستوں کو مکمل کنٹرول کرنے کے بجائے ان کے استعمال کو مہنگا اور خطرناک بنانا شامل ہے۔ اسی تناظر میں آبنائے ہرمز کی بندش کو ایک غیر متوقع اقدام نہیں بلکہ ایک منطقی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی حکمت عملی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی بنیاد ایک مختصر جنگ کے مفروضے پر رکھی گئی تھی، جس کے ذریعے ایران میں فوری سیاسی اثرات پیدا کرنے کی امید تھی۔ لیکن عملی صورتحال اس کے برعکس نکلی، جہاں ایران نہ صرف برقرار رہا بلکہ اس نے اپنی عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی جاری رکھا۔
امریکی بیانات میں بھی واضح تبدیلی دیکھی گئی، جہاں ابتدا میں نظام کی تبدیلی جیسے بڑے اہداف پر زور دیا جا رہا تھا، وہیں بعد میں توجہ صرف خطرات کو محدود کرنے، توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ تک محدود ہو گئی۔
یورپی ممالک نے بھی اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیا اور کسی بڑے فوجی اتحاد میں شامل ہونے سے گریز کیا، کیونکہ ان کے مطابق اس طرح کی مداخلت خطے میں وسیع جنگ کو جنم دے سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو جنگ کا مرکزی نکتہ بنانا دراصل ایک واضح حکمت عملی کی علامت نہیں بلکہ ایک وسیع منصوبے کے محدود بحران میں تبدیل ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ جنگ کے ابتدائی اندازے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
آخرکار یہ نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ جنگ کو اس کے اعلانات سے نہیں بلکہ ان اہداف سے جانچا جاتا ہے جو راستے میں ترک کر دیے گئے ہوں، اور اسی تناظر میں کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اپنے مقاصد میں جنگ کے اختتام سے پہلے ہی ناکامی کا سامنا کر چکا ہے۔
آپ کا تبصرہ