اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جاپان کے کچھ طلبہ نے ٹوکیو میں امریکی سفارت خانے کے نزدیک اجتماع کر کے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحانہ کارروائی کی مخالفت کی۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا "امریکہ اور اسرائیل، ایران پر حملہ بند کریں اور مذاکرات شروع کریں!" اور جنگ کی مذمت میں بیانات پڑھے۔ یہ احتجاج "ٹوکیو ہائی اسکول اسٹوڈنٹس پیس سیمینار" نے منعقد کیا اور اس میں کثیر تعداد میں طلبہ شریک تھے۔
شرکاء نے امریکی سفارت خانے کے سامنے نعرے لگائے جیسے "ٹرمپ، فوراً حملے بند کرو" اور "بچوں کو مت مارو"۔ اس موقع پر جاپان کے دیگر علاقوں اوکیناوا، شیزوئوکا، فوکویی اور ہیروشیما کے طلبہ کے احتجاجی بیانات بھی پڑھے گئے۔ ۱۷ سالہ کانتیکو شیوری نے کہا کہ امریکہ کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کے بجائے امن کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
۱۷ سالہ یامادا شوگو نے بھی جاپان کی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ ٹوکیو صرف واشنگٹن کے احکامات پر عمل کر رہا ہے اور جب تک جاپان امریکہ کی جنگی پالیسی کو نہیں روکتا، یہ خونریزی جاری رہے گی۔
شرکاء نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کوبا پر دباؤ بڑھانے اور اس کے تیل کی رسد بند کرنے پر بھی تنقید کی، جس سے وہاں کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ۷۷ سالہ ریٹائرڈ استاد مینورو اوکیمورا نے کہا کہ "یہ مظاہرہ ایک اہم پہلا قدم ہے کیونکہ حتیٰ کہ ہائی اسکول کے طلبہ بھی جنگ کے خلاف جذبات رکھتے ہیں لیکن اظہار کرنا آسان نہیں۔"
یہ مظاہرے اس وقت ہو رہے ہیں جب جاپان کی عوام اور سیاسی جماعتیں امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف جارحیت کی سخت مخالفت کر رہی ہیں۔ جیجی پرس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، ۷۵ فیصد سے زیادہ جاپانی شہری اس جارحیت کے خلاف ہیں۔
ٹوکیو شیمبون کے ایک سرمقالے میں بھی امریکی اور اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ جاپان کے کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ شیرو کازو اور پارٹی ریوا شینسنگومی کے نمائندے جوجی یاماموتو نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ امریکی صدر کا بغیر سلامتی کونسل کی قرارداد کے اعلان کردہ جنگ غیر قانونی ہے اور ٹوکیو کو اس پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
ایرنا کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے خلاف مشترکہ فوجی حملہ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ سے شروع ہوا، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان غیر مستقیم مذاکرات علاقائی ممالک کی ثالثی میں جاری تھے۔ ایران نے اس جارحیت کے جواب میں منصوبہ بند، دقیق اور متناسب جوابی کارروائی کی، جس میں اسرائیل میں امریکی اور صہیونی مراکز کو موشک، ڈرون اور فضائی حملوں سے نشانہ بنایا گیا۔
آپ کا تبصرہ