20 فروری 2026 - 11:58
مآخذ: ابنا
امام خمینیؒ نے منفی انتظار کو متحرک اور تمدن ساز فکر میں بدل دیا، آیت اللہ رضا رمضانی

اہلِ بیت عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی نے کہا ہے کہ امام خمینیؒ نے انتظار کے تصور کو منفی اور غیر فعال کیفیت سے نکال کر ایک متحرک، عملی اور تمدن ساز فکر میں تبدیل کر دیا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،اہلِ بیت عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی نے کہا ہے کہ امام خمینیؒ نے انتظار کے تصور کو منفی اور غیر فعال کیفیت سے نکال کر ایک متحرک، عملی اور تمدن ساز فکر میں تبدیل کر دیا۔

 آیت اللہ رمضانی نے زمانۂ آخر کے بارے میں دو مختلف نظریات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک نقطۂ نظر تباہی اور بدعنوانی پر مبنی ہے، جو دنیا کے خاتمے کو انسانیت کے خاتمے سے تعبیر کرتا ہے اور اس سوچ کو مغربی میڈیا خصوصاً ہالی ووڈ بھی فروغ دیتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرا نظریہ اصلاحی اور قرآنی ہے، جو اس وعدۂ الٰہی کی خبر دیتا ہے کہ زمین کے وارث بالآخر صالحین ہوں گے، اور یہ وعدہ ناقابلِ تبدیل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دورِ ظہور کا معاشرہ علم و دانش کی وسعت کا مظہر ہوگا۔ روایات کے مطابق علم کی ستائیس شاخوں میں سے اب تک صرف دو ظاہر ہوئی ہیں، جبکہ ظہور کے زمانے میں علم اپنے کمال کو پہنچے گا۔ ان کے مطابق مستقبل کا معاشرہ عقلانیت، امن اور اخلاق پر مبنی ہوگا، جہاں صالح افراد قیادت سنبھالیں گے اور عقیدہ، اخلاق اور شریعت کے میدان میں حقیقی اصلاح رونما ہوگی۔

آیت اللہ رمضانی نے کہا کہ آج کی انسانیت عدل، امن اور انسانی وقار کی پیاسی ہے، لیکن عالمی استکباری نظام میں عقلانیت کو روحانیت سے جدا کر کے پیش کیا جاتا ہے، جو محض مفاد پرستی پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس قرآن مجید میں تین سو سے زائد آیات تفکر، تعقل اور عقل و روحانیت کے باہمی تعلق پر زور دیتی ہیں، اور یہی مہدویت کی حقیقی فکر ہے۔

انہوں نے موجودہ عالمی بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غربت، امتیاز، ناانصافی، نسل پرستی اور جدید غلامی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہیں۔ استکباری نظام کے دائرے میں مذاکرات اقوام کی تحقیر اور دباؤ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ امام خمینیؒ نے اسی غلبہ پسند فکر کو چیلنج کیا اور انسان کو ایک باوقار، الٰہی اور فعال ہستی کے طور پر متعارف کرایا۔

ان کا کہنا تھا کہ امام خمینیؒ نے انسان کو خود اس کی ذات سے آشنا کیا، اور یہی خود آگاہی اسے خدا اور دوسروں سے ہم آہنگی کی طرف لے گئی۔ اس توحیدی نقطۂ نظر نے انسانیت کو دنیا میں عدل و امن پر مبنی نظام قائم کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر علم کو ایمان سے جدا کر دیا جائے تو غزہ جیسے سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے۔

آیت اللہ رمضانی نے انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور آزادی جیسے نعروں کے مغربی استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج انسانی حقوق کے دعوؤں کے باوجود بے دفاع خواتین اور بچوں کو بدترین طریقے سے قتل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حقیقی آزادی تمام انبیائے الٰہی کا مشترکہ پیغام تھا، اور امام خمینیؒ نے اسی حقیقی آزادی کو زندہ کیا اور ایرانی قوم کو استقلال کی راہ دکھائی، جس کی بھاری قیمت ملک کے سائنسدانوں اور کمانڈروں کی شہادت کی صورت میں ادا کی گئی۔

انہوں نے زور دیا کہ امام خمینیؒ نے انتظار کو محض خاموش امید کے بجائے آمادگی، اقدام اور ذمہ داری سے تعبیر کیا، اور اسی لیے روایات میں انتظار کو ’’افضل الاعمال‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

اپنے اختتامی کلمات میں انہوں نے کہا کہ یہ راستہ آج بھی رہبرِ انقلاب کی قیادت میں سادگی، استقامت اور مضبوطی کے ساتھ جاری ہے۔ اہلِ بیت عالمی اسمبلی کا مشن قرآن و سنت کی روشنی میں اہلِ بیتؑ کی فکر کو علمی و فکری حلقوں اور عالمی برادری تک پہنچانا ہے، کیونکہ مستقبل میں کامیابی انہی اقوام کا مقدر ہوگی جو انسانیت کو بہترین فکر، اخلاق اور نظریات پیش کریں گی۔
 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha