بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، عرب قومی سلامتی، مصر کی اقتصادی سلامتی اور ـ دنیا کی اہم ترین تجارتی آبی گذرگاہ - نہر سوئز کے خلاف ایک نیا اور کثیرالجہتی خطرہ ابھر رہا ہے۔ یہ دھمکی براہ راست بحری جہاز رانی، بین الاقوامی تجارت اور بحیرہ احمر کے ساحلی ممالک ـ بشمول یمن اور سوڈان ـ کو متاثر کرتی ہے۔
یہ خطرہ اس بار نہ تو یمن کی انصار اللہ کے اسرائیل یا غزہ جنگ کے حامیوں سے منسلک جہازوں پر حملوں سے پیدا ہؤا ہے اور نہ ہی قرن افریقہ اور صومالیہ کے ساحلوں پر بحری قزاقوں کی کی واپسی سے۔
منشأ این تحول خطرناک، اعلام رسمی اسرائیل مبنی بر بهرسمیت شناختن «سومالیلند» است؛ منطقهای که از منظر حقوق بینالملل، بخشی جداییناپذیر از خاک سومالی محسوب میشود و تاکنون از سوی هیچ قدرت جهانی بهعنوان کشوری مستقل به رسمیت شناخته نشده است.
اس خطرناک پیشرفت کا سرچشمہ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ علاقہ صومالیہ کا اٹوٹ حصہ سمجھا جاتا ہے اور اب تک کسی بھی عالمی طاقت نے اسے آزاد ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔
اسرائیل کے اقدامات سے مصر اور خطے کو لاحق خطرات (خلاصہ)
اسرائیل کا متنازعہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اور ایتھوپیا کے ساتھ مل کر بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اسٹراٹیجک بندرگاہ بربرا پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش، خطے میں ایک نئی اور کثیرالجہتی خطرناک صورتحال کو جنم دے رہا ہے۔ یہ اقدام مصر کو، جو خود اسرائیل سے سازباز کرنے والوں میں شامل ہے، براہ راست خطرے میں ڈال رہا ہے۔
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اس سے عرب قومی سلامتی، مصر کی معیشت اور نہر سوئز جیسی اہم ترین عالمی تجارتی گذرگاہ کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ یہ خطرہ براہ راست عالمی بحری جہاز رانی، بین الاقوامی تجارت اور بحیرہ احمر کے ساحلی ممالک جیسے یمن اور سوڈان کو متاثر کرے گا۔
خطرے کی اصل جڑ:
بین الاقوامی قانون کے مطابق صومالیہ کا اٹوٹ حصہ تصور کئے جانے والے صومالی لینڈ کو کسی عالمی طاقت نے تسلیم نہیں کیا۔ اسرائیل کا اسے تسلیم کرنا دنیا کے اس حساس جغرافیائی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور جنوبی بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں اثر و رسوخ کی دوڑ کو بھڑکانے کے مترادف ہے۔
مصر کے لئے براہ راست خطرہ:
اس اقدام سے ایک اسرائیلی-ایتھوپیائی محاذ بننے کا خطرہ ہے جس کا مقصد باب المندب میں بحری راستوں، عالمی تجارت اور توانائی کی نقل و حرکت پر کنٹرول ہوگا۔ اس کا منطقی نتیجہ مصر کا جنوب سے محصور ہوجانے اور نہر سوئز کے لئے براہ راست خطرے کی صورت میں برآمد ہوگا، جو مصر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
عالمی تجارت پر اثرات:
بحیرہ احمر میں کسی بھی قسم کی ناامنی بحری نقل و حمل کے اخراجات، جہازوں کے انشورنس، توانائی کی قیمتوں اور عالمی رسد کے تسلسل پر فوری منفی اثرات ڈالے گی۔ اسرائیل کے لئے یہ خطے کے ممالک پر معاشی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کا ایک اہم ہتھیار ثابت ہوسکتا ہے۔
خطے میں موجودہ بحرانوں کا پہلے سے مجتمع ہونا:
خطہ پہلے ہی کئی بحرانوں میں گھرا ہؤا ہے: سوڈان میں خانہ جنگی، مصر، سوڈان اور ایتھوپیا کے درمیان سد النہضہ پر تنازعہ، اور ایتھوپیا - اریٹریا اور صومالیہ کے اندر سمندر تک رسائی کی کشمکش۔ اسرائیل کا یہ قدم اس "بارود کے ڈھیر" میں ایک نئی چنگاری ثابت ہو سکتا ہے۔
ایتھوپیا کی بندرگاہ کی ہوس:
زمین بند (Landlocked) ایتھوپیا نے صومالی لینڈ کے ساتھ متنازعہ معاہدہ کر کے "بربرا بندرگاہ" تک طویل مدتی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، جس کی صومالیہ اور دیگر عرب و افریقی ممالک نے شدید مخالفت کی ہے۔ اسی طرح اَساب بندرگاہ (اریٹریا) تک رسائی کے لئے ایتھوپیا کی تاریخی خواہش خطے میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔
یمن میں مداخلت:
یمن میں جاری جنگ اور اس کے ساحل پر کنٹرول کی کشمکش نے بحیرہ احمر کی صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ اسرائیل کا اس خطے میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا موجودگی عالمی تجارت اور معیشت کے لئے مزید مشکلات کا سبب بنے گی۔
اسرائیل کے اصل اہداف:
اسرائیل جانتا ہے کہ عالمی برادری صومالی لینڈ کو تسلیم نہیں کرتی۔ اس لئے اس کا مقصد سفارتی طور پر تسلیم حاصل کرنا نہیں، بلکہ خطے میں جغرافیائی بگاڑ پیدا کرنا، تناؤ بڑھانا اور باب المندب کے راستے پر کسی نہ کسی قسم کا کنٹرول حاصل کرنا یا اس میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔
نکتہ اور سبق:
یہ اقدام واضح کرتا ہے کہ اسرائیل اپنے مفادات کے لئے خطے کو غیر مستحکم کرنے اور اہم آبی گذرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے منصوبے پر کاربند ہے۔ اس کا نشانہ نہ صرف اس کے مخالف بلکہ وہ عرب ممالک بھی ہیں جنہوں نے اس کے ساتھ ساز باز کرکے اسرائیل کے حق میں فلسطینیوں، قبلۂ اول اور مسلمانوں سے غداری کی ہے؛ اور مصر اس کا واضح ثبوت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب اپنے مقاصد کے لئے اپنے عرب وفاداروں کی سلامتی اور معیشت کو بھی خطرے میں ڈالنے سے گریز نہیں کرتا، وہ سبق جسے یہ ممالک عام طور پر بھول جاتے ہیں حالانکہ اسرائیل نے گذشتہ 75 برسوں میں اپنا یہی رویہ جاری رکھا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ