بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || دنیا بھر میں مسلمانوں کے موجودہ دشمنوں کے ساتھ مذاکرات یا تعامل کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کے لئے، بہتر ہے کہ ہم تاریخ کی طرف رجوع کریں اور دشمنوں کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے تعامل (اور تقابل) کی کیفیت اور مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے معاہدوں کے انعقاد کے طریقہ کار پر نظر ڈالیں، تاکہ ہم اس سے سبق لیں اور آقائے دو عالم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی پیروی کرتے ہوئے قوم و ملت اور اسلام کے مفاد میں قدم اٹھا سکیں۔
میثاق حدیبیہ ان واقعات میں سے ایک ہے جن کے ذریعے اللہ کے گرامی رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اپنی حکمت اور تدبر سے مسلمانوں کو جنگ سے دور رکھا اور فتح مکہ کی راہ ہموار کی۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور ائمۂ معصومین (علیہم السلام) کا قول، فعل اور ان کی طرف سے کسی کے قول یا فعل کی توثیق، (تقریر)، شریعت کے حکم کی رو سے ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
"لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا؛ (سورہ احزاب، آیت 21۔)
تمہارے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ذات [اور روش و سلوک] میں پیروی کے لئے اچھا نمونہ موجود ہے اس کے لئے جو اللہ اور روز آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو خوب یاد رکھتا ہے۔"
لہٰذا، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا بہترین نمونہ، خاص طور پر جنگ، صلح اور جنگ بندی جیسے معاملات میں، ہمیشہ سے مؤمنین کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور رہے گا۔
میثاق حدیبیہ، جس کی تفصیل قرآن کریم کی سورہ "فتح" میں آئی ہے اور تاریخ اسلام میں اسے اکثر غلطی سے "صلح حدیبیہ" کہا گيا ہے، مؤمنین کے علمی حلقوں، خاص طور پر سیاسی اور حکمرانی کے حلقوں میں قابل توجہ ہے اور اس سے استناد کیا جاتا ہے۔ یہ سورت تفصیل سے سنہ 6ھ کے معاہدہ حدیبیہ اور اس سے متعلق دیگر واقعات و حوادث کو بیان کرتی ہے۔
بیعت رضوان، معاہدہ حدیبیہ کی تمہید
بیعت رضوان یا بیعت شجرہ یا بیعت حدیبیہ سے مراد مؤمنین کے ایک گروہ کا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے وہ عہد و پیمان ہے جو سنہ 6ھ میں، مکہ کے قریب حدیبیہ کے کنویں کے پاس منعقد کیا گیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ہجرت کے بعد سنہ 6ھ میں خواب دیکھا کہ آپ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، سر منڈوایا اور کعبہ کی کنجی ہاتھ میں لی۔ آپ نے یہ خواب مسلمانوں کو سنایا اور انہیں عمرہ کی دعوت دی۔
سورہ فتح کی آیت 27 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مسجد الحرام میں داخلے کے خواب کا ذکر کرتی ہے اور اس کی تعبیر کو اللہ کا وعدہ قرار دیتی ہے۔ ذو القعدۃ الحرام کے مہینے میں، نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) اپنے 1400 سے 1600 ساتھیوں کے ہمراہ، جو صرف مسافروں کے ہتھیاروں سے لیس تھے، بیت اللہ کی زیارت اور عمرہ کے مناسک ادا کرنے کے لئے مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن قریش کے مشرکین نے انہیں مکہ میں داخلے سے روک دیا۔
ان حالات میں، نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور قریش کے درمیان سفیر آتے جاتے رہے، لیکن قریش کے ہاتھوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ایک سفیر کے قتل کی افواہ نے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو مؤمنین سے بیعت لینے پر مجبور کر دیا اور مؤمنین نے پختہ عہد کیا کہ آخری سانسوں تک آپؑ کا دفاع کریں گے۔
مشرکین مکہ کو معلوم ہؤا کہ مؤمنین جنگ و جدال کے لئے پر عزم ہیں، تو مؤمنین کے مکہ میں داخلے کے خوف سے، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے مذاکرات کے لئے ایک نمائندہ بھیجا تاکہ کسی بھی معاہدے کے ذریعے آپؑ اور آپؑ کے ساتھیوں کو مکہ میں آنے سے روک سکیں۔ اس طرح بیعت رضوان نے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور مکہ کے مشرکوں کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کی بنیاد فراہم کی اور اس کا نتیجہ معاہدہ حدیبیہ کی صورت میں نکلا۔
معاہدہ حدیبیہ کے مندرجات
اس معاہدے کی دفعات درج ذیل ہیں:
الف) قریش اور مسلمان عہد کرتے ہیں کہ دس سال تک ایک دوسرے کے خلاف جنگ اور جارحیت ترک کریں گے۔
ب) اگر قریش کا کوئی فرد اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر مکہ سے بھاگ کر مسلمانوں سے آ ملے، تو محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو اسے مکہ واپس بھیجنا ہوگا۔ لیکن اگر مسلمانوں میں سے کوئی قریش سے جا ملے، تو قریش پر اسے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے حوالے کرنے کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ مسلمان اور قریش جس قبیلے سے چاہیں معاہدہ کر سکتے ہیں اور ان کے ساتھ متحد ہو سکتے ہیں اور تعلق رکھ سکتے ہیں۔
ج) محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور آپؑ کے ساتھی اس سال حدیبیہ سے مدینہ واپس چلے جائیں گے، لیکن اگلے سالوں میں آزادی سے مکہ آ سکتے ہیں، بشرطیکہ صرف تین دن مکہ میں قیام کریں اور مسافر کے ہتھیار یعنی صرف ایک تلوار کے سوا کوئی اور ہتھیار ساتھ نہ رکھیں۔ قریش کو بھی انہیں تنگ کرنے کا حق نہیں ہوگا۔
د) دستخط کرنے والے عہد کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کے اموال کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کی چال بازی، دھوکہ دہی اور خیانت سے پرہیز کریں گے۔ مکہ میں داخل ہونے والے مسلمانوں کی جان اور مال محترم ہیں۔
جیسا کہ متن سے واضح ہے، میثاق حدیبیہ ایک جنگ بندی کا نام ہے اور جنگ بندی، معاہدے کی صورت میں، ہو سکتی ہے۔ میثاق حدیبیہ صرف کفارِ قریش اور مدینہ کے مسلمانوں کے درمیان 10 سالہ جنگ بندی کا معاہدہ تھا اور اس نے فریقین کے درمیان کوئی اقتصادی، سماجی یا سیاسی تعلق قائم نہیں کیا تھا۔ یہ معاہدہ بنیادی طور پر جنگ بندی کا سمجھوتہ تھا، نہ کہ صلح اور امن کا معاہدہ! یہاں تک کہ جن مفسرین اور مؤرخین نے میثاق حدیبیہ کو صلح حدیبیہ کا نام دیا ہے، وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مذکورہ معاہدہ عارضی جنگ بندی کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔
معاہدے کا بنیادی محور، مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان دس سال تک جنگ و جدال کا خاتمہ اور مسلمانوں کے لئے اقتصادی، سماجی اور سیاسی آزادی اور ان کے اموال اور اثاثوں کا احترام ہے۔
مشرکینِ مکہ نے یہ معاہدہ سنہ 8 ہجری میں، انعقاد کے صرف 22 ماہ گذرنے کے بعد، توڑ دیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو معاہدے کی خلاف ورزی کی اطلاع ملنے کے بعد، اگرچہ ابوسفیان معافی مانگنے مدینہ آیا، لیکن اس کی کوشش ناکام ہوئیں اور نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) مہاجرین و انصار اور مختلف قبائل کے تقریبا 10 ہزار افراد پر مشتمل لشکر لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور لشکرِ اسلام نے مکہ مکرمہ کو فتح کر لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ