اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کعبہ کے پردہ داروں کے قبیلے نے ایک بیان جاری کرکے آل سعود کے ہاتھوں اپنے قبیلے بنی شیبہ کے حقوق کی تضئیع پر تنقید کی ہے۔قبیلہ بن شیبہ وہ قبیلہ ہے جو ابتدائے اسلام اور سنہ 10 ہجری سے کعبہ کا پردہ دار اور کلید دار ہے اور یہ عہدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنے ہاتھ سے اس قبیلے کو عطا کیا ہے۔ قبیلہ بنی شیبہ نے کہا ہے کہ آل سعود اس پر ظلم کررہا ہے اور اس کے ان حقوق کو پامال کررہا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے اس کو عطا کئے تھے۔ اس قبیلے کو فتح مکہ کے بعد ہی یہ عہدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی طرف سے عطا کیا گیا تھا اور کعبہ کی کنجیاں انہیں دی گئی تھیں۔ قبیلہ بنی شیبہ نے اپنے بیان میں کہا ہے: وہ بہت سے حقوق جو اس قبیلے کو 1400 برسوں سے حاصل تھے وہ آل سعود کے سلسلہ سلطنت کی تاسیس کے بعد سے اب تک ان سے چھین لئے گئے ہیں اور صورت حال یہ ہے کہ اب وہ سال میں چند ہی مرتبہ ـ وہ بھی آل سعود کے کہنے پر ـ کعبہ شریفہ کہ دروازہ کھول سکتے ہیں اور بند کرسکتے ہیں اور اب آل سعود نے یہ عہدہ ہی چھیننے کا منصوبہ بنایا ہے اور قبیلے کے بعض افراد کو ملنے والی ماہانہ تنخواہ کو 662 ریال تک گھٹا دیا گیا ہے جبکہ قبیلے کے دوسرے افراد کو تنخواہ سے بھی مکمل طور محروم کردیا گیا ہے۔ بنی شیبہ نے اپنے بیان میں کہا ہے: خاندان آل سعود ہمیں مکمل طور پر الگ کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ اور اس خاندان نے کعبہ کے قریب مقام باب المفتاح اور باب بنی شیبہ ـ جو صحن مسجد کا اصلی دروازہ تھا ـ ختم کردیا ہے۔ آل سعود نے ابھی تک اس بیان کا کوئی جواب نہیں دیا ہے تاہم لگتا ہے کہ بنی شیبہ نے یہ بیان مسلمانان عالم کو آل سعود کے تجاوزات سے مطلع کرنے کے لئے جاری کیا ہے۔ ادھر کعبہ کے خادم عبدالقادر الشیبی نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ اب ان کے پاس صرف کعبہ کی کنجیاں رہ گئی ہیں اور دوسرے تمام اختیارات چھین لئے گئے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا تھا کہ "خذوها يا بني أبي طلحة خالدة تالدة إلى يوم القيامة لا ينزعها منكم إلا ظالم"۔ اے بنی طلحہ! کعبہ کی چابیاں اور پردہ داری کو قیامت تک ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لے لو اور کوئی بھی تم سے یہ منصب نہيں لے گا سوائے اس کے جو ظالم ہے"۔ (1) انھوں نے کہا کہ کعبہ کے پردہ دار اور خزانہ دار وہی لوگ ہیں جن کے پاس کعبہ کی کنجی ہے اور یہ اسلام میں ایک خاص قسم کی ولایت سمجھی جاتی ہے ایک خاص قوم کے لئے ایک خاص شیئے کے لئے؛ پس ولایت سے مراد کعبہ کی خدمت، پردہ داری اور اس کے امور و معاملات کا انتظام ہے جس میں اس کا دروازہ کھولنے اور بند کرنے کا عہدہ بھی شامل ہے۔ شرعی طور پر یہ سب ایک خاص قوم کے لئے مقدر ہے۔ بنی شیبہ وہ لوگ ہیں جو شیبہ بن عثمان الاوقص بن ابی طلحہ سے منسوب ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فتح مکہ کے دن شیبہ بن عثمان کے چچا زاد عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ القرشی العبدری کی نیابت میں ـ اور پھر ان کے چچا زاد بھائی کی وفات کے بعد اپنی جانب سے ـ کعبہ کی کنجیاں سپرد کی تھیں اور اسی وقت سے بنو شیبہ اس کے وارث چلے آرہے ہیں۔ کعبہ کے کے موجودہ خادم نے اس بات کی تردید کی ہے کہ کسی جانب سے انھوں نے کسی فریق کو کعبہ کا تالا تبدیل کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ کعبہ میں داخل ہونے، اس کو کھولنے اور اس کو غسل دینے کے تمام اختیارات بنو شیبہ سے چھین لئے گئے ہیں۔ اور ان کی تنخواہوں کو گذشتہ 25 سال کے عرصے کے دوران 680 ریال تک محدود رکھا گیا ہے۔ عبد القادر الشیبی نے کہا: ہم ہرگز قدیم زمانے سے پردہ داری اور کلید داری اور کعبہ کو کھولنے اور بند کرنے کی سنت میں کسی قسم کی تبدیلی کو قبول نہیں کریں گے اور کعبہ کا تالا ایک ہی چابی سے کھلے گا جس کو کوئی مثنی چابی کسی کے پاس بھی نہ ہوگی سوائے اس کے کہ جب وہ معدنیات ہی بدل جائے جس سے تالے اور چابیاں تیار کی جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کعبہ کی کلید داری سے مراد کعبہ کی حفاظت نہیں ہے [اور حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کا جملہ دہراتے ہوئے کہا] کعبہ کا اپنا رب ہے جو اس کی حفاظت کرے گا" اور یہ چابی بے شک بنی شیبہ کی خدمت کی علامت ہے، بیت اللہ الحرام کی خدمت کی علامت اور بنی شیبہ کسی صورت میں بھی اپنے اس عہدے سے پسپا نہ ہونگے۔ عبدالقادر نے اخبار الحیات کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا: بنو شیبہ کے لئے 680 ریال مواجب مقرر کئے گئے ہیں تاکہ وہ ان تحائف کو ہاتھ نہ لگائیں جو زائرین اور حجاج کی طرف سے کعبہ شریفہ کو پیش کئے جاتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے یہ عہدہ بنی شیبہ کو عطا کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ "کعبہ کے اموال میں سے ضرورت کی حد تک استفادہ کرو"، اور یہ تھوڑے سے مواجب بھی گذشتہ 25 سال کے عرصے سے بنی شیبہ کے معدودے چند افراد کو دیئے جارہے ہیں۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ بنی شیبہ سے اس وقت کعبہ میں داخلے، اس کو کھولنے اور اس کو غسل دینے کے اختیارات چھین لئے گئے ہیں اور بنو شیبہ کے پاس سوائے کنجی کے کچھ بھی نہیں ہے؛ کعبہ کے پردہ دار چوکیدار بنا دیئے گئے ہیں اور اس سال بنو شیبہ کے صرف 100 افراد کو کعبہ میں داخلے کے لئے کارڈ دیئے گئے ہیں جن میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ انھوں نے کہا: بنو شیبہ کے بعض افراد نے سوشل سیکورٹی سے تنخواہ کی درخواست کی ہے اور باقی افراد نے شرم کے مارے یہ درخواست دینے سے اجتناب کیا اور کہا کہ مناسب نہیں ہے کہ سوشل سیکورٹی سے تنخواہ مانگی جائے؛ اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو غربت کی وجہ سے شادیان کرنے سے عاجز ہیں کیونکہ ان کو زندگی گذارنے کے لئے کچھ بھی نہیں دیا جاتا، خاص طور پر حالیہ توسیعی منصوبے کے بعد، جب ان کے تمام اوقاف بھی چھین لئے گئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔1۔ الطبراني في الكبير والأوسط من حديث عبد اللَّه بن المؤمل عن ابن أبي مليكة عن ابن عباس مرفوعا۔ بنو شیبہ کا سلسلہ نسب: بنو شیبہ بن شیبہ بن عثمان الأوقص بن أبی طلحہ عبد الله بن عبد العزى بن عثمان بن عبد الدار بن قصی بن كلاب بن مرہ بن كعب بن لؤی بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر وهو قریش بن كنانہ بن خزیمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
انٹرویو کا ماخذ: