بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ترک مصنف اور صحافی کمال اوزتورک (Kemal Öztürk) نے الجزیرہ نیٹ میں ایک تجزیاتی مضمون شائع کرکے لکھا ہے: میں نے فرانس کی سوربون یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر نوزات چلیک سے یورپ کے مستقبل کے بارے میں بات کی۔ جب میں نے ان سے ان کی پیشین گوئیوں کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیا: "یورپ آپ کی توقع سے کہیں پہلے، ٹوٹ جائے گا اور سب سے پہلے گرنے والا ملک فرانس ہوگا۔"
ہمارے انٹرویو کے تھوڑی دیر بعد، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا: "اگر ہم نے اقدام نہ کیا تو یورپ پانچ سال میں ڈوب جائے گا۔"
لیکن امریکہ کے بارے میں، یہ ملک یورپ پر دباؤ ڈالنا جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کے خاتمے کو تیز کر رہا ہے۔ دریں اثنا، کچھ امریکی دانشوروں کا خیال ہے کہ "امریکہ کا دور" بھی ختم ہو چکا ہے اور یہ ریاست اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے جارحانہ پالیسیاں اپنا رہی ہے۔
ادھر میں نے چین اور امریکہ کی دشمنی اور ممکنہ تصادم کے بارے میں، انقرہ میں مشرق وسطیٰ کے مطالعاتی مرکز (ORSAM) میں چین کے امور کے ماہر ڈاکٹر مراد اوزتونا سے سوال کیا تو انھوں نے: "چین اور امریکہ بالآخر کسی نہ کسی مفاہمت تک پہنچ جائیں گے اور میں نہیں سمجھتا کہ تصادم ہوگا۔ لیکن دنیا چین کی طاقت کے بارے میں مبالغہ آرائی کر رہی ہے۔"
میں نے پوچھا: "کیا مستقبل میں چین کے زیرقیادت عالمی نظام قائم ہوگا؟" تو انھوں نے کہا: "چین کے پاس امریکہ کی طرح ایسے نظام کو چلانے کے لئے مناسب ڈھانچہ اور طاقت موجود نہیں ہے۔"
بے قاعدگی کا عبوری مرحلہ جارحانہ کارروائیوں کے ساتھ
امریکہ نے کس قانون کی بنیاد پر وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو رات کے اندھیرے میں ان کے گھر سے اغوا کیا؟ یا اسرائیل نے قطر پر حملے کے لئےکس بین الاقوامی اصول پر انحصار کیا؟ کوئی نہیں۔
ایران، لبنان، غزہ، یمن اور شام پر حملے کسی قانون یا اصول پر مبنی نہیں ہیں۔ موجودہ مرحلہ عالمی نظام (ترتیب یا آرڈر) میں عبوری مرحلہ ہے جو قوانین و ضوابط کی عدم موجودگی اور ممالک کی سرزمین پر جارحیت میں اضافے کا سبب ہے۔
دوسرے لفظوں میں اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈنمارک کے جزیرے گرین لینڈ پر طاقت کے زور پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں یا اسرائیل دوبارہ ایران پر حملہ شروع کر دیتا ہے تو انہیں کون روکے گا؟
اگر چین اس قانونی افراتفری کو تائیوان کے اپنی سرزمین میں ضم کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے یا روس پورے یوکرین پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
چنانچہ ورلڈ آرڈر افراتفری کا ماحول پیدا کر رہا ہے، یعنی قوانین اور ضوابط کی عدم موجودگی۔ مسلم ممالک اس خلا میں کیسا عمل کریں گے؟
آج، موجودہ عالمی نظام کے خاتمے اور ایک نئے کے معرض وجود میں آنے کے ساتھ، ہمیں اپنے موقف پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ اگر کثیر قطبی نظام تشکیل پا رہا ہے تو ہمیں (مسلم ممالک کو) بھی طاقت کا مرکز بنانا ہوگا۔
دنیا کس عالمی ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے؟
2 فروری کو، یوراگوئے کے صدر کی میزبانی کے دوران، چینی صدر شی جن پنگ نے مستقبل کے عالمی نظام کے لئے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا: "ہمیں ایک منصفانہ اور منظم کثیر قطبی دنیا اور باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی عالمگیریت کی طرف بڑھنے کے لئےمل کر کام کرنا چاہئے۔"
لہذا، عالمی نظام سنبھالنے کے سلسلے میں چین کی عدم صلاحیت کے حوالے سے ڈاکٹر مراد اوزتونا کے دلائل کو دیکھتے ہوئے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کثیر قطبی عالمی نظام میں ان قطبوں کی قیادت کون کرے گا؟ اور کتنے قطب ہوں گے؟
اس پیچیدہ سوال کا جواب دینے کے لئے کئی امکانات پر غور کیا جا سکتا ہے: بھارت، روس، چین اور برازیل ان ممالک میں شامل ہیں جو ممکنہ طور پر ان قطبوں کی قیادت کر سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں اپنے علاقے پر تھوڑی سی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
کثیر قطبی دنیا؛ عالم اسلام کو طاقت کا مرکز بنانا ہوگا
کثیر قطبی دنیا میں مشرق وسطیٰ اور اسلامی دنیا کو مشرقی یا مغربی قطب میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ ان کے لئے اپنا خاص قطب بنانا ایک ضرورت بن گیا ہے۔
برطانیہ، امریکہ، فرانس اور روس کے ساتھ اتحاد کے بعد سب سے زیادہ نقصان مسلم ممالک کو ہؤا ہے اور جنگیں، تنازعات، دہشت گردی، تقسیم، غربت اور استحصال کا نزلہ ہمیشہ ان پر گرا ہے جس کا سبب مذکورہ ـ سابقہ ـ بڑی طاقتوں پر انحصار ہی تھا۔
آج عالمی نظام کے زوال اور ایک نئے نظام کے ظہور کے ساتھ ہمیں اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ اگر کثیر قطبی نظام تشکیل پا رہا ہے تو ہمیں (اسلامی دنیا) کو بھی طاقت کا مرکز بنانا ہوگا۔
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مذاکرات اس عمل کا مرکزہ بن سکتے ہیں۔ اور ایک یا چند ممالک کی قیادت میں طاقت کا ایک قطب بنایا جا سکتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ایک اہم توازن حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ہمارے پاس انسانی وسائل ہیں، نوجوان ہیں، فوجی صلاحیتیں ہیں، جوہری توانائی، توانائی کے وسائل اور مالیاتی صلاحیتیں ہیں تو ہمارے پاس مرکزِ ثقل (Center of gravity) اور بااثر قوت بننے میں کس چیز کی کمی ہے؟ ہمیں صرف نظریئے (Idea) پر یقین رکھنے، اختلافات پر قابو پانے اور اتحاد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
طاقت کا نیا مرکز: بحیرہ روم کا اتحاد (Mediterranean Alliance)
یورپی یونین ٹوٹ جانے کی صورت میں رکن ممالک کیا کریں گے؟ کیا انہیں انسانی وسائل، توانائی، سلامتی اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے نئے اتحاد کی ضرورت نہیں ہوگی؟ اس کا حل یہ نہیں کہ وہ چین کا رخ کریں جو کہ جغرافیائی لحاظ سے یورپ سے بہت دور ہے، بلکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک کے ساتھ یورپ کا تعاون یورپ کے لئےنئے آفاق کھول سکتا ہے۔
بحیرہ روم کے ممالک کی مشترکہ ثقافت، اسلامی ممالک کے انسانی وسائل، توانائی کے وسائل اور عسکری صلاحیتیں، دفاعی صنعتیں اور مالی وسائل وہ تمام عناصر ہیں جن کی یورپ کو اشد ضرورت ہے۔ جب ہسپانیہ، اٹلی، یونان اور فرانس ـ بحیرہ روم کے ممالک ـ اس ابھرتے ہوئے قطب میں شامل ہوں گے تو دنیا میں طاقت کا ایک مختلف مرکز ابھرے گا۔
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کی قربت پر غور کریں، اور تصور کریں کہ باقی اسلامی ممالک بھی اس راہ میں شامل ہوں؛ تو اگر دنیا ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے تو ہمیں بھی اپنے پاور سسٹم کو ایک نئے قطب کے طور پر رکھنا چاہئے۔ یہ خواب نہیں بلکہ ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ