8 فروری 2026 - 06:22
اسلامی انقلاب اور جدید دنیا کے مزاج کا آمنا سامنا 

امریکی فطرت کی نقاب کے بغیر تصویر اور میک اپ کے بغیر چہرہ ٹرمپ کی شکل میں اجاگر ہؤا ہے، اور ایپسٹین کیس بھی جدید دنیا کے حکمرانوں کی حقیقی شکل عیاں کرنے میں اچھا خاصا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس مزاج کے پیش نظر، تعجب کی بات نہیں کہ غزہ میں 70 ہزار سے زیادہ عورتوں اور بچوں کے قتل کے باوجود، اس جدید دنیا میں نہ صرف یہ کہ کوئی خاص حرکت نہیں ہوتی، بلکہ قاتلوں کو مکمل تعاون اور حمایت بھی دی جاتی ہے؛ تو کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ کہ جدید دنیا یکجا اسرائیل کے پیچھے کھڑی ہے تاکہ وہ بچوں کا قتل عام جاری رکھ سکے؟

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || لاشبہ، اس نام نہاد جدید تہذیب کے پاس پہلے ہی سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ ریڈ انڈینز اور تقریباً دس کروڑ افریقی سیاہ فاموں کے قتل کا ریکارڈ موجود ہے۔ نیز، دو عالمی جنگوں کے دوران، اسی نام نہاد مہذب دنیا کے لوگ زمینی جنت کی تلاش میں ایک دوسرے کے خلاف لڑ پڑے اور 10 کروڑ سے زیادہ افراد ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے گئے، دونوں فریق جدید اور "تہذیب یافتہ" دنیا سے تعلق رکھتے تھے!

اسلامی انقلاب وہ حقیقی بنیادی انسانی تحریک ہے جو نہ صرف احتجاج کے لئے، بلکہ دنیا کا یہ زوال کی طرف جانے والی دنیا کے زوال کے عمل کا رخ بدلنے کے لئے برپا ہؤا ہے۔ بغیر دین کے انسان، اپنی انسانیت میں بھی خلل کا شکار ہو جاتا ہے، اور یہی انبیاء کی بعثت کا راز ہے۔ اگر انسانی عقل انسانیت کے تسلسل کے لئے کافی ہوتی، تو وحی اور نبوت کی ضرورت پر بھی سوال اٹھتا۔

اسلامی انقلاب انسان کی انسانیت کی بحالی کے لئے کوشاں ہے جو صرف وحی کے سائے میں ہی ممکن ہے۔ لہٰذا یہ بات باعث حیرت نہیں ہے کہ جدید مغرب اسلامی انقلاب کے خلاف ہر قسم کی یلغار کر رہا ہے، کیونکہ وہ اسے اپنی ذات کے منافی اور اپنے ناقص نظام کے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔

مغرب سے اسلامی انقلاب کی کشمکش اصولوں، اقدار اور اخلاق سے شروع ہوتی ہے اور سیاسی، معاشی، فوجی، سائنسی اور ٹیکنالوجی کے میدانوں تک پھیل جاتی ہے۔

امریکی قیادت میں مغرب کے اس غلبے کے مقابلے میں، مؤمن انسان دو محاذوں پر دوہری کوشش کرتا ہے: ایک طرف سے وہ نفسانی خواہشوں اور شیطان رجیم کا مقابلہ کرتے ہوئے، اپنے باطن کی تطہیر و تہذیب (تزکیہ نفس) اور ایمان کی مسلسل تقویت و ارتقاء کے لئے کوشاں ہے، اوردوسری طرف سے، اپنے اسلامی انقلاب کی برکت سے آزادی اور خودمختاری حاصل کرنے والے ملک کے خلاف بیرونی شیطان کی سازشوں سے نمٹنے کے لئے تدبیر اور منصوبہ سازی کرتا ہے؛ جبکہ وہ اللہ کے سوا کسی سے بھی نہیں ڈرتا۔

واضح رہے کہ یہ قتل اور قاتل سے نہ ڈرنے کا رجحان آج کی دنیا میں مستکبرین اور نام نہاد تہذیبوں کو درپیش چیلنجوں میں سر فہرست ہے؛ اور اس رجحان کی بنا پر مغربی تہذیب کی ترجمانی کرنے والی استعماری طاقتوں کو اپنا مستقبل بالکل تاریک نظر آتا ہے جبکہ اسیر قوموں میں امید کی لہریں دوڑ گئی ہیں۔

یہ اللہ ہی ہے جو "نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ"  کی سنت اور گردش ایام کا مالک ہے اور (فتح و شکست کے) دنوں کو لوگوں کے درمیان پھیرتا رہتا ہے۔ وہ تاریخ کے تغیرات اور تبدیلیوں کی راہنمائی خود فرماتا ہے۔ انسان پر صرف اپنے تاریخی دور میں اپنے ایمانی فریضہ ادا کرنا اور توحیدی عقلیت کے مطابق عمل کرنا، لازم ہے؛ نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو، وہ خدا کی مرضی اور مشیت کے مطابق ہی ہے؛ بلاشبہ کبھی نتیجہ فتح خیبر و فتح مکہ کی صورت اور کبھی فرزند رسول(ص) کا سر مبارک نیزے پر سجائے جارنے کی صورت میں؛ اسلامی انقلاب اسی منطق سے شروع ہؤا اور اسی منطق سے سے جاری و ساری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: عزیز نجف پور آقابیگلو

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha