بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رہبر انقلاب کا یہ موقف ایک واضح پیغام کا حامل تھا اور وہ یہ کہ "ٹرمپ کے ہاتھ خالی ہیں۔" رہبر انقلاب نے اس رسی کو ناکارہ بنا دیا جسے ٹرمپ ایران کو دھمکانے کی بھاری قیمت ادا کرنے سے بچنے کے لئے [سانپ کے طور پر] استعمال کر رہا تھا۔ شروع سے ہی واضح تھا کہ ٹرمپ کا دعوٰی محض وہم ہے، کیونکہ ایران میں قانونی کارروائی کیس کے تمام تر پہلوؤں کی گہری جانچ پڑتال کی وجہ سے وقت طلب ہے، نہ تو کوئی فیصلہ اتنی تیزی سے دیا جاتا ہے اور نہ ہی نافذ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ دعوی ـ کہ ایران دہشت گرد بلوائیوں کی ایک خاص تعداد کو پھانسی دے رہا تھا اور میرے [ٹرمپ کے] کہنے پر اس نے یہ فیصلہ مؤخر کیا ـ سرے سے بے بنیاد تھا، اور حقیقت یہ تھی کہ رہبر انقلاب کے مضبوط موقف نے ٹرمپ کو باضابطہ طور پر رسمی طور پر رنگ (اکھاڑے) کے گوشے میں دھکیل دیا۔
اس خطاب کے بعد، ٹرمپ ایک چاروں طرف سے بند گلی میں پھنس گئے۔ نہ تو وہ حملہ کر سکتا تھا؛ کیونکہ اگر ایسی صلاحیت ہوتی تو حملہ منسوخ کرنے کے لئے مضحکہ خیز بہانے بنانے کی ضرورت نہ پڑتی؛ اور نہ ہی اپنے موقف سے باعزت پیچھے ہٹ سکتے تھے؛ کیونکہ انھوں نے پہلے ہی اس معاملے کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا تھا، لیکن اس نفسیاتی اور ادراکی جنگ میں اپنی ناکامی کے امکان کا درست انداز نہیں لگا سکے تھے۔
امریکہ کو ان تمام دھمکیوں، بحری جنگی مہم جوئی اور ماحول سازی کے لئے ایک کامیابی کی ضرورت تھی، ورنہ اس کے لئے بے عزتی کے سوا کچھ بھی نہ بچتا۔ واحد راستہ مذاکرات کی طرف واپس لوٹنا تھا، "تاکہ وہ یہ دعویٰ کر سکیں کہ یہ ساری ہلڑ بازی 'بے فائدہ' بھی نہیں تھی۔"
ایران نے بھی اپنی شرائط مسلط کرتے ہوئے مذاکرات میں شمولیت پر اتفاق کیا؛ ایسے مذاکرات جو پابندیاں اٹھوانے کے لئے ہیں۔
مذاکرات کے آغاز کے طریقہ کار کو دیکھئے: مذاکرات سے پہلے، ٹرمپ نے شرائط رکھ دیں کہ ایران کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات درست کرنا ہوں گے؛ مذاکرات کی جگہ امریکہ مقرر کرے گا؛ اور بات چیت کا موضوع صرف جوہری مسئلہ نہ ہو بلکہ میزائل ٹیکنالوجی اور علاقائی مسائل بھی ان کی مرضی کے مطابق حل کئے جائیں۔
لیکن ان میں سے کوئی بھی شرط قبول نہیں ہوئی اور امریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہی امریکہ کی حقیقت ہے؛ ایک ایسی طاقت جسے صرف آرنلڈ (Arnold Schwarzenegger) اور ہرکولیس (Hercules) جیسے ڈرامے کرنے کی عادت ہے لیکن حقیقی دنیا میں وایسا کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔
ٹرمپ کا امریکہ آج سخت دباؤ میں ہے۔ پچھلے ایک سال میں، ٹرمپ انتخابی نعروں اور وعدوں کے برعکس، امریکی عوام کے لئے تقریباً کوئی بھی ٹھوس کامیابی حاصل کرنے ميں ناکام رہے ہیں۔ وعدے ایک ایک کرکے تعطل کا شکار ہو گئے ہیں:
• نہ یوکرین کی جنگ تین دن میں ختم ہوئی،
• نہ چین پر لگائے گئے محاصل کامیاب ہو سکے ہیں،
• نہ یمن تباہ ہؤا ہے (یہی نہیں بلکہ یمن نے امریکہ کو شکست بھی دی ہے)،
• نہ گرین لینڈ، منیاپولس اور شور شرابوں سے بھرپور منصوبے کسی نتیجے پر پہنچے ہیں!
• وینزویلا قائم دائم ہے اور مادورو حکومت برقرار ہے،
• وینزویلا اب بھی مادورو حکومت کے ساتھ قائم ہے اور اس کے علاوہ،
• ایپسٹین کے معاملے سے جنم لینے والے دباؤ نے ٹرمپ کو مزید پھنسا دیا ہے۔
چنانچہ امریکہ آج اپنے کمزور ترین دور سے گذر رہا ہے۔
البتہ امریکہ ایک چیز میں ماہر ہے: تشہیری و ابلاغی کھیل اور نفسیاتی جنگ۔ جھوٹ گھڑنا اور جعلی خبریں بنانا تقریباً ان کا واحد باقی ماندہ ہتھیار ہے، ایسا ہتھیار جو آخر کار ان کے عہدے داروں اور میڈیا کی ساکھ کو اور بھی کمزور کر رہا ہے۔ بہرحال، مذاکرات کے حوالے سے نفسیاتی جنگ کی کئی لہروں کی توقع رکھنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ