اسلام آباد میں نماز جمعہ کے دوران دہشت گرد حملہ؛ ایرانی سفیر کی شدید مذمت
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے دہشت گرد حملے پر پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ایرانی سفیر نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کی حکومت اور عوام کی جانب سے وہ اس بزدلانہ دہشت گرد حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔ انہوں نے اس واقعے کو انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا۔
رضا امیری مقدم نے پاکستان کی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس مشکل گھڑی میں پاکستانی قوم کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر شہداء کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق خودکش حملے میں شہداء کی تعداد بڑھ کر 24 ہو گئی ہے، جبکہ کم از کم 100 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس حملے کے پیچھے داعش یا تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ