5 فروری 2026 - 23:58
امریکی فوجی ایران کا جائز ہدف ہوں گے، کمانڈر سپاہ پاسداران کے مشیر

پاسداران کے کمانڈر انچیف کے مشیر نے دھمکی دی کہ اگر امریکہ ایران پر جنگ مسلط کرتا ہے تو امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ امریکی فوجی بھی ایرانی افواج کے لئے جائز ہدف ہوں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر  کے مشیر حمید رضا مقدم فر نے المیادین ٹی وی چینل کے تہران دفتر میں "عشرہ فجر کی خصوصی خبریں" کے پروگرام میں شرکت کی اور اس لبنانی نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے، اعلان کیا کہ "اگر امریکہ ایران پر جنگ مسلط کرتا ہے تو اس خطے میں اس کے فوجی، ایرانی افواج کا جائز ہدف ہوں گے اور اب صرف ایک یا دو اڈوں کو نشانہ بنانا کافی نہیں سمجھا جائے گا۔

امریکی فوجی ایران کا جائز ہدف ہوں گے، کمانڈر سپاہ پاسداران کے مشیر

سپاہ پاسداران کے کمانڈر انچیف کے مشیر نے کہا کہ دشمن نے یہ تصور کیا تھا کہ اگر وہ لشکر کشی کرے اور ایران کے گرد گھیرا تنگ کر دے تو ایران کے ہمسائے اور خطے کے ممالک اس کا ساتھ دیں گے، لیکن جو ہؤا وہ اس کے برعکس تھا اور انہیں اعلان کرنا پڑا کہ "ہم تو جنگ کے خلاف ہیں" اور رہبر انقلاب نے بھی فرمایا کہ "اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو جنگ علاقائی ہوگی، اور یہ انقلاب اسلامی کے رہبر معظم کا قطعی بیان تھا۔

تمام امریکی اڈے اور فوجی جائز نشانہ ہیں

انھوں نے مزید کہا کہ رہبر انقلاب کے اس بیان کا کیا مطلب تھا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ خطے میں امریکہ کے تمام مفادات، تمام فوجی اور اس کے تمام اڈے ایران کے مسلح افواج کے لئے جائز اہداف (Legitimate Target) ہوں گے۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ وہ آکر ایران کو مار کر بھاگ جائیں گے؛ نیز اسرائیل بھی ہمارے براہ راست حملوں کا نشانہ ہوگا۔ معاملہ صرف ایک یا دو اڈوں کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں رہے گا۔ اب پہلے جیسا نہیں ہوگا۔ امریکیوں کے پاس اس خطے میں 23000 افرادی قوت اور کئی اہم اقتصادی مراکز ہیں، ٹرمپ اور اس کے داماد دونوں ان تمام حقائق سے بہت اچھی طرح واقف ہیں۔

مقدم فر نے کہا کہ ہم 12 روزہ جنگ کے بعد سے ـ جس میں اسرائیل کو سخت شکست ہوئی، ـ نئی فتنہ انگیزی کی توقع کر رہے تھے۔ لہٰذا، یہ کہنا کہ ہمیں اچانک اور ناگہانی طور پر حالیہ فتنے کا سامنا کرنا پڑا ـ غلط ہے۔ ہمیں توقع تھی کہ دشمن ـ جو جنگ میں شکست کھا چکا ہے، ـ نرم جنگ کی طرف مائل ہوگا۔ جیسا کہ چھتیس سال پہلے، صدام کی مسلط کردہ جنگ میں، ـ جب انہیں انقلاب پر حملے کے لئے اکسایا گیا، تب سے ـ انہوں نے چھتیس سال کے لئے منصوبہ بندی کی تھی اور ایک نیا منظر نامہ تیار کیا تھا۔ اسرائیل نے حالیہ جنگ میں امریکہ کو یہ ضمانت دی تھی کہ وہ تین دنوں میں ایران کے نظام کو گرائے گا تاکہ امریکی 'رضا پہلوی' یا کوئی اور ـ جسے چاہیں اقتدار پر بٹھا سکیں، ـ لیکن پھر بھی انہیں سخت شکست ہوئی۔

ایران کے اسلامی انقلاب کی فتح کے تین ارکان

ثقافتی و ابلاغیاتی امور میں کمانڈر انچیف پاسداران کے  مشیر نے ایران کی قوم کی استواری میں اسلام کے کردار کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس انقلاب کی بنیادی پشت پناہ تھا۔ اسلام ہی تھا جس نے ایرانی قوم کو تشخص دیا، آزادی سے ہمکنار کیا اور غیروں کے تسلط سے نجات دلائی۔ انقلاب کی اسلامی شناخت، انقلاب کی فتح کی علامت اور بنیادی سبب تھی۔ میں نے اشارہ کیا کہ عام طور پر انقلابات یا تو فوجی طاقت پر انحصار کرتے ہیں یا بیرونی طاقت پر، لیکن اسلامی انقلاب عوام پر انحصار کرتا ہے اور اس نے عوام کی طاقت کے بل بوتے پر حاصل کی ہے۔ قوم نے خالی ہاتھوں، بغیر فوجی طاقت کے سہارے اور امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کی حکیمانہ قیادت اور ولایت فقیہ کے کی برکت سے کامیابی حاصل کی۔

انھوں نے کہا: "انقلاب اسلام کی فتح اور استقامت تین ستونوں پر استوار ہوئی ہے:

1- اسلام جو ناانصافی کو رد کرتا ہے،

2- ایرانی عوام

3- انقلاب اسلامی کی قیادت۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹر: وحید صمدی

ترجمہ ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha