بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رہبر انقلاب کے مشیرر ایڈمرل علی شمخانی نے لبنان کے ٹی وی چینل المیادین کے ڈائریکٹر غسان بن جدو کے ساتھ اپنے تازہ ترین انٹرویو میں فوجی وردی زیب تن کرکے، شرکت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایران ممکنہ جنگ کے لئے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو ایران یقیناً "اسرائیل" پر حملہ کرے گا۔
انھون نے کہا کہ تہران دو شرائط پر امریکہ سے مذاکرات کے لئے تیار ہے اور اگر دھمکیوں سے پاک مفاہمت کا ماحول پیدا ہو تو جوہری معاملے پر مفاہمت ممکن ہے۔
انھوں نے جوہری معاملے کے علاوہ کسی دوسرے موضوع پر مذاکرات کے امکان کو بالکل اور قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے زور دیا کہ اس موضوع پر بھی مذاکرات دو شرائط سے مشروط ہیں۔
انھوں نے افزودہ یورینیم کی بیرون ملک منتقلی کی کوئی وجہ نہیں ہے اور مفاہمت کی ایک اہم بنیاد "ایٹمی ہتھیاروں کی ممانعت کے بارے میں رہبر معظم فتویٰ" ہے۔
مفصل انٹرویو
ایڈمرل شمخانی کے فوجی یونیفارم کا پیغام
غسان بن جدو: کیا آپ کا فوجی یونیفارم زیب تن کرنا بذات خود کسی اہم سیاسی پیغام کا حامل ہے؟
ایڈمرل شمخانی: اس یونیفارم کا واضح پیغام یہ ہے کہ "ہم بالکل تیار ہیں"، حقیقت یہ ہے کہ ہم جنگ کے ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں، اور جنگ کا سایہ محسوس کر رہے ہیں۔ لہٰذا، ہم ہر ممکنہ صورت حال کے لئے تیار ہیں۔ یہ تیاری، فوجی طور پر، جنگ کو قبول کرنے، دھمکی دینے یا جنگ کی کوشش کے مترادف نہیں ہے۔ لیکن ہم ناانصافی پر مبنی حالات، ناانصافی کی جنگ اور ناانصافی کی دھمکیوں کی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں جو ہمارے دشمنوں کی مسلط کردہ ہے، اور وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ کا حقیقی مقصد
غسان بن جدو: ایران کے خلاف جنگ کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
ایڈمرل شمخانی: رہبر انقلاب نے اشارہ کیا ہے کہ دشمنوں کا مقصد ایران کو نگل لینا ہے اور اب عوام اور اسلامی جمہوریہ امریکی عزائم کی تکمیل میں رکاوٹ ہیں۔
غسان بن جدو: کیا جنگ یقینی ہے؟
ایڈمرل شمخانی: ہمیں فوجی فورسز کے طور پر جنگ کو ناگزیر سمجھنا چاہئے، لیکن سیاسی حقائق یہ ہیں کہ ابھی وقت باقی ہے اور اس موقع سے صحیح طریقے سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ کئی پیچیدہ مسائل باقی ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ صحیح راستے کا ایک پہلو سفارت کاری اور گفت و شنید ہے۔ یقینا جنگ کی تیاری کے ساتھ ساتھ اس راستے کو بھی مضبوط و مستحکم کرنا چاہئے۔ انہوں نے ہمارے پاس کچھ تجاویز بھیجی ہیں۔ اگر یہ تجاویز دھمکیوں سے خالی ہوں، معقول شرائط پر مشتمل ہوں اور تکبر سے خالی ہوں، تو بلا جواز تباہی کا راستہ روکنے کی امید ہے۔ یہ معاملے کے ابتدائی مراحل ہیں اور میرا ماننا ہے کہ اس مقصد کا حصول اور جنگ روکنے کا امکان موجود ہے۔
غسان بن جدو: کیا مذاکرات کا امکان موجود ہے؟ یورپ بالکل بے بس ہے!
ایڈمرل شمخانی: امریکہ اور مغرب کے ساتھ مذاکرات کے امکان کے بارے میں کہنا چاہئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ ـ صرف امریکہ کے ساتھ ـ ہمیشہ عملی مذاکرات کے لئے اپنی تیاری کا بارہا اعلان کیا ہے، کسی اور کے ساتھ نہیں۔ یورپ نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ سنہ 2018ع میں ٹرمپ کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد، یورپ کوئی کارروائی کرنے سے عاجز تھا۔ نیز گذشتہ جون میں جنگ سے پہلے ہونے والے مذاکرات میں، یورپ نے ثابت کیا کہ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا اور عاجز و بے بس ہے۔ ٹرمپ نے انہیں ان معاملات میں مداخلت کی اجازت تک نہیں دی۔ لہٰذا، معاملہ صرف امریکہ کے ساتھ اور صرف جوہری مسئلے پر ہے۔ جوہری مسئلے کے بارے میں معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔
درحقیقت، بات چیت اور مذاکرات کا امکان موجود ہے، بشرطیکہ ہم دھمکیوں اور شیخیوں کے ماحول اور دھمکیوں کے اوزاروں اور تمہیدات سے دور رہیں اور انصاف کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور باہمی افہام و تفہیم تک پہنچنے اور غیر منطقی و غیر معقول شرائط و غیر منطقی مطالبات سے دور رہنے کی بنیاد پر، دو طرفہ مذاکرات کا آغاز کریں۔ تب معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے۔
افزودہ یورینیم ایران سے باہر نہیں جائے گا
غسان بن جدو: کیا افزودہ یورینیم ایران سے باہر بھیجا جائے گا؟ جوہری مذاکرات میں، ایران امریکہ کو قائل کرنے کے لئے کیا مزید پیشکش کر سکتا ہے - میں رعایتوں کی بات نہیں کر رہا بلکہ لچکدار موقف کی بات کر رہا ہوں - مثال کے طور پر، ہم نے سنا ہے کہ ایران یہ ماننے پر آمادہ ہو سکتا ہے کہ اپنے افزودہ جوہری ذخائر کو ایران سے، شاید روس کو، منتقل کر دے۔ اولاً، کیا یہ بات درست ہے؟ اور ثانیاً، کیا یہ امریکی فریق کو یہ قائل کرنے کے لئے ایک لچکدار قدم ہے کہ ایران اپنے اس دعوے میں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھنا چاہتا، واقعی سنجیدہ اور مخلص ہے؟
ایڈمرل شمخانی: جہاں تک جوہری ہتھیاروں کا تعلق ہے تو مغرب شاید نہ سمجھے، یا نہ سمجھنا چاہے، جب ہم کہتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ سازی ممنوع ہے تو یہ عملی احکام میں تبدیل نہیں ہوتا؛ لیکن جوہری ہتھیاروں کی تیاری، ذخیرہ سازی اور استعمال، کے مسئلے کو جب ایک دینی مرجع تقلید، یعنی رہبر انقلاب کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، یعنی جب وہ ایک مذہبی حکم میں اس کا اعلان کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے میں کوئی شک نہیں ہے، کہ "یہ [ایٹمی] ہتھیار اسلامی جمہوریہ ایران کے عملی دائرہ کار میں نہیں آتے۔" پچھلے مذاکرات کے پانچویں دور میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے تین "نہیں" بیان کیے گئے: ہم جوہری ہتھیار "نہیں" چاہتے، ہم جوہری ہتھیار تیار "نہیں" کریں گے اور ہم کبھی بھی جوہری ہتھیار ذخیرہ "نہیں" کریں گے۔
تو آپ [اے مغرب] ہمیں اس کی قیمت پیش کریں۔ تو اس کی قیمت کیا ہے؟ قیمت بہت واضح ہے۔ منفی اقدامات جو انہوں نے اٹھائے ہیں، جب آپ 60 فیصد تک افزودہ جوہری ہتھیاروں یا جوہری مواد کی اسٹاک پائلنگ کی بات کرتے ہیں، ہم نے اسے فوجی مقاصد کے لئے تیار نہیں کیا ہے۔ ہمارا جوہری ہتھیار بنانے کا کبھی کوئی ارادہ نہیں رہا۔ آپ جانتے ہیں کہ 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخائر کا معاملہ، تین سال سے زائد عرصے سے چل رہا ہے اور انہوں نے ہمارے خلاف کارروائی کی اور ہمارے خلاف بین الاقوامی قراردادیں جاری کر دیں تاکہ ہمارے خلاف ٹریگر میکانزم کو فعال کیا جا سکے۔ یہ پہلی بات۔ دوسری بات یہ کہ انہوں نے ہمارے خلاف پابندیاں سخت اور شدیدتر کر دیں اور اس کے نتیجے میں منفی اقدامات اور پابندیوں کے ذریعے مقابلے کی تیاریاں بڑھ گئیں۔ یہ قاعدہ اب بھی قائم ہے۔ جو کچھ بھی اسلامی جمہوریہ اس جوہری شعبے میں کرتی ہے وہ ان کی سمت بندی اور موقف و اقدامات کے مطابق ہونا چاہئے۔ یہ ایک غلط تجزیہ ہے، لیکن کوئی بات نہیں۔ ہم اس کی قیمت چاہتے ہیں اور یہ ممکن ہے۔
غسان بن جدو: میں اپنا سوال دہراتا ہوں؛ کیا یہ آپ کی طرف سے تقریباً تصدیق ہے، کیونکہ آپ نے پہلے ہی جوہری بم پر پابندی عائد کر رکھی ہے، اور یہ 60 فیصد تک افزودہ یورینیم ایران سے باہر جا سکتا ہے؟
ایڈمرل شمخانی: نہیں، ایران سے باہر نہیں جائے گا۔ لیکن آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمارے پاس اس شعبے میں مہارت ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا پروگرام پرامن ہے اور یہ اندرونی صلاحیتیں ہیں۔ 60 فیصد تک افزودگی کو کم کر کے 20 فیصد پر لایا جا سکتا ہے۔ اگر وہ فکرمند ہیں، تو ہم افزودگی کی سطح 20 فیصد تک کم کر سکتے ہیں، لیکن انہیں اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔
افزودہ مواد کی ایران سے باہر منتقلی کی کوئی وجہ نہیں ہے گو کہ ان کی تشویش دور کی جا سکتی ہے۔ یہ درحقیقت یورانیا (Urania) ہے جسے 60 فیصد تک کم کیا گیا ہے اور اسے 20 فیصد پر واپس لانے کا امکان موجود ہے۔ لہٰذا، اس خطرناک مواد کو باہر منتقل کرنے کے لئے اتنی پریشانی اور پیچیدہ مراحل طے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ