بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔۔۔۔۔
کینیڈین نامہ نگار، مصنف، مشرق وسطی اور روس کے امور کے ماہر ایرک رالبرگ نے اس سیمینار کے مقالہ نگار کے طور پر اپنے مقالے کے دوسرے حصہ میں لکھا:
۔۔۔۔۔ہم نے اس لمحے تک روسیوں کے قتل کے لئے 22 ارب ڈالر کا اسلحہ یوکرین کو فراہم کیا ہے؛ جبکہ ہمارے اپنے عوام روز بروز غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں۔ ہم سماجی بہبود کا بجٹ کم کرتے ہیں، اور اپنا پورا پیسہ یوکرین بھیجتے ہیں؛ اور زیادہ سے زیادہ ہتھیار بناتے ہیں۔ اور آپ یوکرین اور کمبوڈیا کے درمیان مماثلتیں دیکھ رہے ہیں۔ ان دو کے درمیان فرق یہ ہے کہ یوکرین یورپ کے بیچ میں واقع ہؤا ہے۔ چنانچہ یوکرین کے فاشسٹوں کو امداد کی فراہمی یورپ اور امریکہ کے لئے بہت آسان تھی اور وہ اس کام کے شیدائی ہیں، وہ روس کو ٹکڑیوں میں بانٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
میں نے اپنے مقالے میں ایک کانفرنس کی تصویر بھی درج کی ہے جو ہر سال روس کی تقسیم اور روس کے بعد کے مشرق کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے منعقد ہؤا کرتی ہے۔ مثلا ایک تجویز یہ ہے کہ "روس کے مشرق کا ایک حصہ چین کو دیا جائے، چینیوں کو میدان میں اتار دیں" مجھے یقین ہے کہ ان کا ایک منصوبہ یہی ہے؛ کہ "اگر ہم [مغربی] چین کو آمادہ کر سکيں کہ سائبریا کے حصے پر قبضہ کرے، شاید چین کو روس کی بربادی کے نقشے میں شامل کر سکیں"۔ ان کے منصوبے اس قدر شرارت آمیز اور شیطانی ہیں۔ یہاں تک کہ ہم دینی اور نظریاتی دائروں کے اندر عالمی واقعات کے بارے میں بات کریں۔ چنانچہ اس صورت حال میں یوکرین کی پوزیشن [یورپ میں] اہم ہے؛ چین کا کردار بھی۔ میں نے مزاحیہ انداز سے کہا کہ چین بھی شاید میدان میں آئے اور روس کے ایک حصے پر قابض ہوجائے، لیکن ممکن ہے کہ یہ حقیقت میں بھی ہو جائے؛ معلوم نہیں ہے کہ اگلے 10 یا 20 برسوں میں کون کس کا اتحادی ہے۔ اس وقت چین روس کا اتحادی ہے؛ جیسا کہ سوویت یونین کے دور میں بھی ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔ اگر چین سنہ 1970ع میں ـ جب امریکہ ویتنام میں مداخلت میں داخل ہؤا ـ سوویت روس کا اتحادی ہوتا تو امریکہ ویتنام میں مداخلت نہ کرتا۔ اگر روس اور چین ایک دوسرے کے حلیف بن کر رہتے تو ممکن تھا کہ سوشلزم پورے یورپ میں آ موجود ہوتا۔ آج ہماری دنیا بہت مختلف ہوتی۔ لیکن چین روس کا دشمن بن گیا تھا اور اس نے امریکہ کے ساتھ مل کر سوویت روس کی نابودی میں کردار ادا کیا۔
اس کے باوجود، چین آج کچھ زیادہ امپریلسٹ [اور سامراجی حکومت] نہیں ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ ایک سوشلسٹ حکومت ہو، لیکن بہرحال وہ امریکہ یا یورپی یونین کی طرح جارح امپریلسٹ نہیں ہے۔ یورپی اتحاد کی سامراجیت قابل رحم (Pathetic) اور افسوسناک (Deplorable) ہے؛ وہ آج بھی اپنی سابقہ نوآبادیوں کی طرف نظر رکھتے [اور ان سے توقعات رکھتے] ہیں۔ وہ افریقہ پر بھی اور جہاں بھی ممکن ہے، اپنا تسلط قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اپنے غیر متوازن تعلقات کی حفاظت کریں۔ چین موجودہ صورت حال میں روس کے زوال کا سد باب کرتا ہے۔ میرے خیال میں حالات اتنے ہی مبہم اور خراب ہیں۔ چنانچہ ہمیں حال حاضر میں چین کا شکرگزار ہونا چاہئے۔
نتیجہ:
کمبوڈیا میں کیا ہؤا؟ ویتنام اور کمبوڈيا کے درمیان ایک سرد سا امن (Cold peace) برقرار ہے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے دوست نہیں ہیں۔ کمبوڈیا چین سے محبت کرتا ہے، کیونکہ چینیوں کے پاس سستی اشیاء بہت ہیں۔ چین ہمیشہ اپنی عالمی ساکھ مضبوط کرنے کے لئے کوشاں رہا ہے۔ کچھ جزوی سے اختلافات اور ویتنام مخالف بغاوتیں سنہ 1990ع کی دہائی میں موجود تھیں، جو اب ختم ہوچکی ہیں؛ اور یہ صورت حال بہترین منظرنامہ ہے جس کی ہمیں یوکرین کے سلسلے میں بھی امید رکھنی چاہئے۔ یہ کہ بالآخر یوکرین کی فوج شکست کھا جائے، روسی بھی بالکل ویتنامیوں کی طرح ـ جو کمبوڈیا میں داخل ہوئے اور پول پوٹ کا خاتمہ کر گئے ـ یوکرین میں داخل ہوجائیں اور فاشسٹوں کا خاتمہ کریں، اور پھر ملکی حالات کو مستحکم کریں۔ یوکرین ایک مستقل ملک ہو لیکن روس کا اتحادی ہو۔ اس کو ضمانتیں دی جائیں لیکن نیٹو کی طرف سے نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی طرف سے، جنوبی کوریا کی طرح۔ یا کہ آخرکار ایک سرد سا امن برقرار ہو جائے؛ ویتنام اور کمبوڈیا کی طرح۔ چنانچہ میرے خیال میں حالات اس ڈگر پر ہیں۔
خلاصہ یہ کہ امریکہ کو خانہ جنگ کے بعد قاعدے کے مطابق اپنے زخم چاٹنا چاہئے تھے، جنوب کے ساتھ امن قائم کرنا چاہئے تھا، ملک کی تعمیر نو کا انتظام کرنا چاہئے تھا۔ لیکن ایسا ہؤا نہیں۔ امریکہ وہ ملک تھا جو غلام پروری، نسل کشی اور جنگ پر قائم ہؤا تھا۔ سترہویں صدی سے آج تک ایسا ہی تھا چنانچہ اس سے، اس سے بہتر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ یہ ملک اپنی 250 سالہ عمر میں ـ سنہ 1776ع سے آج تک ـ تقریبا 235 سال مسلسل جنگ کی حالت میں رہا ہے۔ ٹرمپ اس صورت حال کی نمایاں مثال ہے۔ اب امریکی "وزارت دفاع" "وزارت جنگ" بن گئی ہے اور دائیں اور بائيں ـ بالخصوص ایران ـ کو دھمکی دیتا ہے۔ چنانچہ جو کچھ میں کہہ سکتا ہوں یہ ہے کہ "امید ہے کہ آپ ایرانی طاقتور دفاعی اور فوجی صلاحیتیں کے مالک ہوں اور اس بھوت کے مقابلے میں مقاومت و مزاحمت کر سکيں۔ ہماری اور مغرب کے بہت سے دوسرے دانشوروں اور مفکرین کی آنکھیں " دنیا کی بقاء کے لئے بنیادی عنصر کے طور پر ایران پر" پر لگی ہوئی ہیں/ اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ