22 جنوری 2026 - 15:52
عالمی عدالت کے احکامات کے بعد نتن یاہو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار، صہیونی صدر کا اعتراف

صہیونی صدر اسحاق ہرتزوگ نے اعتراف کیا ہے کہ عالمی عدالت کی جانب سے گرفتاری کے احکامات جاری ہونے کے بعد صہیونی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور سابق وزیر جنگ یوآو گیلانٹ کی بین الاقوامی سرگرمیاں شدید طور پر محدود ہو گئی ہیں اور وہ عالمی تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسحاق ہرتزوگ کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے خدشات کے باعث نتن یاہو اور گیلانٹ کئی اہم عالمی دوروں اور بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت سے قاصر ہیں، جس سے صہیونی قیادت پر عالمی دباؤ واضح ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ہونے والے اہم اجتماعات، خصوصاً سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں میں صہیونی حکام کی عدم شرکت اسی قانونی دباؤ کا نتیجہ ہے، کیونکہ انہیں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے احکامات پر عملدرآمد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

صہیونی صدر نے اس صورتحال کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عالمی قانونی نظام کو صہیونی قیادت کو عالمی محافل سے دور رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جسے انہوں نے ایک منظم اور رسوا کن گھیراؤ قرار دیا۔

دوسری جانب صہیونی اخبار ہاآرٹز نے رپورٹ کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی جانب سے یہ اعلان سامنے آنے کے بعد کہ وہ نتن یاہو کے خلاف عالمی فوجداری عدالت کے گرفتاری کے حکم پر عمل کرے گا، صہیونی وزیر اعظم نے ڈیووس میں منعقد ہونے والی غزہ امن کونسل کی افتتاحی تقریب میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق، گرفتاری کے خدشات نے صہیونی قیادت کی عالمی نقل و حرکت کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث نتن یاہو کی سفارتی سرگرمیاں شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha