اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے خبردار کیا ہے کہ غیرملکی روابط رکھنے والے مسلح شرپسند عناصر کے خلاف سکیورٹی ادارے اور عدلیہ انتہائی سخت کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
جمعہ کو سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں علی لاریجانی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو ہدایت دی گئی ہے کہ عوام کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچانے کے لیے مکمل احتیاط برتی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو عناصر اسلحہ لے کر میدان میں آئیں گے یا ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی نیت رکھتے ہوں گے، ان کے ساتھ فیصلہ کن سلوک کیا جائے گا۔
انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اسی سطح کی بیداری اور ہوشیاری برقرار رکھیں جو جون میں اسرائیلی رژیم اور امریکا کی جانب سے مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ کے دوران قوم نے دکھائی تھی۔
لاریجانی نے کہا کہ ایران کے دشمن اب انہی عوامل کو نشانہ بنا رہے ہیں جو اس جنگ کے دوران قومی استحکام اور طاقت کا باعث بنے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری عزیز قوم کو آگاہ رہنا چاہیے کہ دشمنوں نے اسی عنصر کو نشانہ بنایا ہے جو جنگ کے دوران قوم کی طاقت اور کامیابی کا سرچشمہ تھا۔‘‘ انہوں نے قومی یکجہتی اور شعور کی ضرورت پر زور دیا۔
علی لاریجانی نے کہا کہ فسادی عناصر کی کارروائیوں کا محور ایران کی قومی اور مذہبی شناخت کی علامتیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان عناصر نے اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم کو نذرِ آتش کیا اور قومی ہیروز کے مجسموں، خصوصاً شہید جنرل قاسم سلیمانی کے مجسمے کی توڑ پھوڑ کی کوشش کی، جو ایرانی ہیرو تھے اور 2020 میں امریکا کے حملے میں شہید ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض واقعات میں قرآنِ پاک کو جلانے اور مساجد کو نشانہ بنانے جیسے قابلِ مذمت اقدامات بھی کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ دکانوں کی لوٹ مار اور املاک کو نذر آتش کرنا کسی بھی صورت معاشی احتجاج کی عکاسی نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ جسے معاشی مسئلہ ہو وہ دکان لوٹنے نہیں جاتا، ایسی کارروائیاں عوامی خدمات کو نقصان پہنچاتی ہیں اور ان کے پیچھے معاشی اصلاحات کے بجائے دیگر بدنیتی پر مبنی مقاصد کارفرما ہیں۔
علی لاریجانی نے فسادات اور تخریب کاری کو قابض اسرائیلی حکام کے سابقہ بیانات جو ایران کے خلاف براہِ راست فوجی حملے کے بجائے اندرونی عناصر کو استعمال کرنے کی حکمتِ عملی کا ذکر کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق غیرملکی روابط رکھنے والے مسلح عناصر کے اہداف اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ معاملہ محض معاشی احتجاج تک محدود نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے فسادات کے سرغنہ عناصر کی نشاندہی کر لی ہے، جن میں سے بعض کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری جلد متوقع ہے۔
لاریجانی کے مطابق تحقیقات میں G3 رائفلز، پستول اور دیگر اسلحے کے استعمال کے شواہد سامنے آئے ہیں، جو پہلے سے منصوبہ بندی، اسلحے کی ترسیل اور تقسیم کے منظم طریقۂ کار کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مراکز پر قبضے کی کوششیں داخلی تصادم کو ہوا دینے اور غیرملکی مداخلت کی راہ ہموار کرنے کی سازش کا حصہ تھیں، تاہم سکیورٹی فورسز کی بروقت تیاری کے باعث یہ کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بھی واضح کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران تخریب کاری یا غیرملکی سرپرستی میں ہونے والے فسادات کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران ’’شرپسندوں کے سامنے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا‘‘، تاہم ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ معاشی مسائل پر پُرامن احتجاج عوام کا جائز حق ہے
آپ کا تبصرہ