اہل بیت نیوز ایجنسی کے مطابق، ایرانی چیف جسٹس حجتہ الاسلام والمسلمین غلام حسین محسنی اژهای نے واضح کیا ہے کہ ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے والوں کے ساتھ اب کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور عوام و ریاست کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کو قانون کے مطابق فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی چیف جسٹس نے آج غیر معمولی عدالتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کرنسی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی مسائل پر گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ قومی احتسابی ادارے نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران حکومت، پارلیمان اور نگران اداروں کے تعاون سے زرمبادلہ کے بحران کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، جس کے نتیجے میں 17 نکاتی جامع رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کنٹرول اور زرِ مبادلہ میں استحکام کے لیے متعلقہ اداروں پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔
چیف جسٹس نے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن عناصر ملک میں بدامنی پھیلانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران احتجاج کرنے والے شہریوں اور تخریب کار عناصر کے درمیان واضح فرق کے قائل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام ذمہ دار حکام پر لازم ہے کہ وہ بازاروں، مساجد، جامعات اور عوامی اجتماعات میں جا کر عوام کے تحفظات سنیں، شکوک و شبہات کا ازالہ کریں اور اپنے طرز حکمرانی کے حوالے سے جواب دہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی تنقید اور معاشی و سماجی مسائل سے متعلق اعتراضات کو متعلقہ اداروں تک منتقل کرنا اور ماہرین و نخبگان سے مشاورت کرنا نظام کو مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
محسنی اژهای نے کہا کہ نظام اسلامی ہمیشہ فتنہ و فساد کے دوران ان افراد کو موقع دیتا ہے جو لاعلمی یا فریب میں آ کر غلط راستے پر چلے گئے ہوں، تاکہ وہ خود کو تخریب کاروں سے الگ کر سکیں لیکن جو عناصر جان بوجھ کر بدامنی پھیلاتے اور عوام کی سلامتی کو نشانہ بناتے ہیں، ان کے ساتھ قانون کے مطابق سخت اور فوری کارروائی کی جائے گی۔
چیف جسٹس نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آئندہ فسادی عناصر کے لیے کسی قسم کی رعایت یا نرمی نہیں ہوگی، خصوصاً ایسے حالات میں جب امریکہ اور صہیونی حکومت کھلے عام ایران میں بدامنی کی حمایت کر رہے ہیں۔
انہوں نے ملک بھر کے پراسیکیوٹرز کو ہدایت دی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر امن عامہ میں خلل ڈالنے والے عناصر اور انہیں سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس نوعیت کے مقدمات کی تفتیش اور سماعت میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے، کیونکہ عدالتی تاخیر بازدارندگی کو کمزور کرتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ مسلح یا سنگین جرائم میں ملوث فسادی عناصر کے مقدمات کے لیے تجربہ کار اور باصلاحیت ججز پر مشتمل خصوصی عدالتی شعبے قائم کیے جائیں۔
چیف جسٹس نے اجلاس کے دوران وینزویلا میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر کے اقدامات کو عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ مفادات، خصوصاً تیل، کے حصول کے لیے ایک خودمختار ملک میں فوجی مداخلت اور اغوا جیسے اقدامات امریکہ کے نام نہاد تہذیبی دعوؤں کو بے نقاب کرتے ہیں۔
اجلاس میں محسنی اژهای نے حضرت زینب کبریٰ (س) کے یومِ وفات پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کربلا کے بعد آپؑ کے جرات مندانہ کردار نے حقائق کو مسخ ہونے سے بچایا۔انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی (ع) کی عدل و تقویٰ کو حکمرانوں کے لیے عملی نمونہ قرار دیا۔
انہوں نے شہید جنرل قاسم سلیمانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ میدان جنگ اور سفارت کاری دونوں میں غیر معمولی بصیرت کے حامل تھے اور دوست و دشمن سب ان کی ذہانت اور اثر انگیز شخصیت کے معترف تھے۔
آپ کا تبصرہ