اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیتاللہ العظمی مکارم شیرازی نے جمعرات کے روز قم کی مسجد اعظم میں اپنے سلسلہ وار درس اخلاق میں امام باقر علیہ السلام کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگر خدا، نبی اکرم (ص) اور ائمہ طاہرین علیہم السلام پر جھوٹ باندھا جائے اور انہیں جھوٹی نسبت دی جائے تو اس کی حرمت دوچند ہوجاتی ہے۔ انھوں نے کہا: امام باقر علیہ السلام نے اس حدیث میں اپنے ایک صحابی سے فرمایا: ہم پر جھوٹ مت باندھو کیونکہ تمہارا ایمان ضائع ہوجائے گا؛ اور مقام و منصب کے حصول کے لئے ہاتھ پاؤں مت مارو کیونکہ ایسا کرکے تم سب سے پیچھے رہ جاؤگے اور ہمیں (اور ہمارے نام کو) لوگوں سے آمدنی حاصل کرنے کا وسیلہ مت بناؤ کیونکہ ایسی صورت میں غریب سے غریب تر ہوجاؤگے؛ اور روز آخرت بھی خدا، رسول (ص) اور ائمہ (ع) سے یہ باتیں منسوب کرنے کے سلسلے میں جواب دوگے؛ اور اگر تم نے سچ بولا ہو ہم تمہاری مدد کو آئیں گے اور اگر تم نے جھوٹ بولا ہو تو ہم تمہیں جھٹلائیں گے اور روسیاہ اور رسوا ہوجاؤگے۔حوزہ علمیہ قم کے اس بلندپایہ استاد نے کہا: ہمارے زمانے میں بعض لوگ مختلف محرکات کی بنیاد پر خدا، رسول (ص) اور ائمہ (ع) سے جھوٹی باتیں منسوب کرتے ہیں اور جھوٹ باندھنے کا ایک نمونہ خرافات کی ترویج ہے؛ کئی لوگوں نے دکانیں کھول رکھی ہیں اور جو کچھ اسلام میں وجود ہی نہیں رکھتا، اسلام کے نام پر بیان کرتے ہیں اور دشمنوں کے سامنے اسلام کی آبرو مخدوش کردیتے ہیں تا کہ اس طرح اپنے مفادات حاصل کرسکیں۔حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: خدا، رسول (ص) اور ائمہ طاہرین علیہم السلام پر جھوٹ باندھنے کا ایک مصداق وہ خواب ہیں جو بعض لوگ دیکھتے ہیں اور ان ہی خوابوں کی بنیاد پر عمل کرتے ہیں اور خوابوں کو اپنے لئے حجت سمجھتے ہیں جبکہ اسلام میں خواب نہ تو حجت ہے نہ ہی خوابوں کا کوئی شرعی اعتبار ہے۔انھوں نے کہا: اس قسم کی جھوٹی باتوں کا سبب جہل ہے جو خرافات کا باعث بنتا ہے اور بعض لوگ ان ہی خرافات کے ذریعے مالی اور جنسی طور پر ناجائز فائدے اٹھاتے ہیں۔ انھوں نے کہا: بیگانہ طاقتیں بھی خرافات کا سرچشمہ ہیں جن کا منصوبہ ہے کہ اس طریقے سے خرافات کو اسلام میں مخلوط کردیں؛ تا کہ عوام دین اور علمائے دین سے بدظن ہوجائیں اور ان سے دوری اختیار کریں؛ دشمنان اسلام کی طرف سے فروغ پانے والے خرافات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں: جب امام زمانہ (عج) ظہور فرمائیں تو وہ اتنی خونریزی اور جنگ کریں گے کہ خون آپ (عج) کے گھوڑے کی رکاب تک چڑھ جائے گا؛ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امام علیہ السلام محبت و مہربانی لے کر تشریف لائیں گے اور صلح و محبت کا کا پیغام ساتھ لائیں گے۔ حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: بہائیت اور وہابیت جیسے بناوٹی مذاہب خرافات کے مجموعے ہیں اور حال ہی میں بعض نفس پرست لوگوں کے ذریعے شیطان پرستی کو فروغ دیا جارہا ہے جبکہ یہ لوگ پہلے سے ہی شیطان کے تابع چلے آرہے تھے۔انھوں نے آخر میں زور دے کر کہا: خدا، رسول (ص) اور ائمہ طاہرین (ع) پر جھوٹ باندھنا ناقابل مغفرت گناہ ہے اور چونکہ اس گناہ کے ذریعے کئی لوگ گمراہی کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی ہدایت واجب ہوجاتی ہے اور ان کی ہدایت گمراہ کرنے والوں کے لئے ممکن نہیں ہوتی اسی لئے یہ گناہ ہرگز قابل بخشش نہیں ہے اور اس کذب و خرافات سے نجات پانے کا بہترین اور امن ترین راستہ یہ ہے کہ لوگ دین کے سلسلے میں مسائل کا حل علماء اور فقہائے دین سے حاصل کریں تا کہ وہ کذب و خرافات کے ان آلودہ منابع میں گرفتار نہ ہوں۔
17 اپریل 2010 - 19:30
News ID: 176801
حضرت آیت اللہ مکارم نے کہا: ہمارے زمانے میں بعض لوگ مختلف محرکات پر مبنی خدا اور رسول (ص) پر جھوٹ باندھتے ہیں اور خرافات کی ترویج بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے؛ اور کچھ لوگوں نے دکان کھول رکھی ہے اور وہ مسائل جن کا اسلام میں وجود تک نہیں ہے انہیں اسلامی مسائل قرار دے کر بیان کرتے ہیں اور دشمنوں کی سامنے اسلام کی آبرو مخدوش کردیتے ہیں تا کہ اپنے وقتی مفادات حاصل کرسکیں۔