اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں شمالی مغربی کنارے میں اپنی فوجی کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے خصوصی دستوں نے شہر جِنین میں دھماکا خیز مواد اور بم تیار کرنے کی ایک ورکشاپ برآمد کی ہے۔
دوسری جانب فلسطینی ذرائع نے بتایا ہے کہ چار دن تک جاری رہنے والی شدید جھڑپوں اور وسیع پیمانے پر تباہی کے بعد اسرائیلی فوج نے طوباس کے پورے ضلع سے مکمل طور پر پسپائی اختیار کر لی ہے۔
طوباس کے گورنر احمد الاسعد کے مطابق اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 350 فلسطینی گھروں کو نقصان پہنچا، 200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 150 سے زیادہ شہری زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران اپاچی ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کیا گیا اور طمون کے پانی کے نیٹ ورک کو تباہ کر دیا گیا۔
یہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی تازہ ترین کارروائی ہے جو غزہ میں جاری تباہ کن جنگ کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق غزہ پر جنگ کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں 1085 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ میں شہادتوں کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
آپ کا تبصرہ