29 نومبر 2025 - 18:30
عملی اقدامات کے بغیر فلسطینیوں پر ظلم و ستم کا خاتمہ ممکن نہیں، علامہ سید ساجد علی نقوی

علامہ سید ساجد علی نقوی کی فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی، عالمی دن کے موقع پر اہم پیغام

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق علامہ سید ساجد علی نقوی نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر کہا: گذشتہ 48 سالوں سے ہر سال 29 نومبر کو یہ دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 2 دسمبر 1977ء کی قرارداد کے تحت تمام رکن ممالک فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے طور پر مناتے ہیں۔ جس کا مقصد فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور حقِ آزادی پر زور دینا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بھی اقوام عالم مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے بے بس و ناکام ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: اقوام عالم کی اس بے حسی کے باعث فلسطینی عوام سامراجی صیہونی مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں اور 78 سال سے صہیونی ظلم و جبر کا شکار ہیں جبکہ سامراج نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کر کے غاصب صہیونی ریاست کو مضبوط بنایا۔

علامہ ساجد نقوی نے عالم اسلام کی توجہ مسئلہ فلسطین کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا: غزہ سمیت مشرق وسطیٰ میں انسانیت سسک رہی ہے، معاہدوں کے بعد بھی غزہ کے مظلوم بچوں، خواتین، بوڑھوں اور جوانوں پر سامراجی صہیونیوں کی جانب سے بمباری و ظلم و ستم کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے، اسرائیل فلسطین میں ظلم کی تمام حدیں پار کر چکا ہے لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ اب زبانی و کلامی دعوے کرنے کی بجائے عملی طور پر تمام اسلامی ممالک متحد ہو کر سامراج و صہیونیوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں اور ان کے ظلم و ستم کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو روکا جا سکے۔

قائد ملت جعفریہ نے کہا: ہم روز اول کی طرح آج بھی فلسطینی عوام کے عالمی، آئینی، بنیادی اور انسانی حقوق کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور سامراجی، صہیونی قبضے اور بہیمیت کی شدید الفاظ میں مذمت کے ساتھ واضح کرتے ہیں کہ جب تک مسئلہ فلسطین فلسطینیوں کی اُمنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جائے گا خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہو گا۔ ان حالات میں پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عملی طور پر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے مستقل پر امن حل اور غزہ پر سامراجی صہیونی ظلم و ستم کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha