30 نومبر 2025 - 18:20
بدعنوانی مقدمات کے دباؤ میں نیتن یاہو نے معافی مانگ لی، اپوزیشن کا سخت ردعمل

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدعنوانی کے مقدمات کے تناظر میں اپنے لیے صدارتی معافی کی باضابطہ درخواست اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ کو ارسال کر دی، جس پر اسرائیلی اپوزیشن نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز بدعنوانی مقدمات کے باعث اپنے لیے معافی کی باضابطہ درخواست صدر اسحاق ہرتزوگ کو ارسال کی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیتن یاہو اس سے قبل اسرائیلی قوانین کے تحت اپنے جرم کا اعتراف کرنے اور معافی مانگنے سے انکار کرتے رہے تھے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ درخواست باضابطہ طور پر صدر ہرتزوگ کو موصول ہو چکی ہے اور نیتن یاہو کے وکیل عامیت حداد کے ذریعے صدر کے دفتر کے قانونی شعبے کو بھجوا دی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اب یہ درخواست معمول کے قانونی طریقۂ کار کے تحت وزارتِ انصاف کے شعبۂ معافی کو بھیجی جائے گی، جہاں مختلف متعلقہ اداروں سے قانونی آرا حاصل کی جائیں گی۔ بعد ازاں یہ آرا صدر کے قانونی مشیر اور ان کی ٹیم کو پیش کی جائیں گی تاکہ صدر کی جانب سے حتمی فیصلہ صادر ہونے سے قبل مکمل قانونی رائے تیار کی جا سکے۔ نیتن یاہو اس وقت بدعنوانی کے کئی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں سزا کی صورت میں انہیں قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسی معاملے پر اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر ہرتزوگ سے مطالبہ کیا ہے کہ نیتن یاہو کو سیاسی میدان سے فوری طور پر الگ ہونے کے بغیر کسی صورت معافی نہ دی جائے۔

اپوزیشن لیڈر یائر لاپید نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا: “میں صدر ہرتزوگ سے اپیل کرتا ہوں کہ نیتن یاہو کو جرم کے اعتراف، پشیمانی کے اظہار اور سیاست سے فوری علیحدگی کے بغیر معافی نہیں دی جا سکتی۔”

اپوزیشن سے وابستہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما یائر گولان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: “صرف مجرم ہی معافی کی درخواست کرتا ہے۔ آٹھ سال کی عدالتی کارروائی کے بعد، اور جب الزامات ختم نہیں ہوئے، نیتن یاہو نے معافی مانگی ہے۔” انہوں نے مزید کہا: “واحد قابلِ قبول راستہ یہ ہے کہ نیتن یاہو اپنی ذمہ داری تسلیم کریں، جرم کا اعتراف کریں، سیاست چھوڑیں اور قوم و ریاست کو آزاد کریں۔”

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha