30 نومبر 2025 - 08:35
ظلم کے مقابلے میں جہاد ضروری ہے، عدالتیں حکومت کے دباو میں کام کر رہی ہیں:مولانا محمود مدنی

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی مذہبی رہنما مولانا محمود مدنی ایک بار پھر اپنے متنازع بیان کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔  انہوں نے بھوپال میں منعقدہ جمعیت علمائے ہند کے اجلاس میں جہاد کے تصور کو ایک مقدس فریضہ قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب داری پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔

جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسد مدنی ایک بار پھر اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے ملک کی سیاسی دنیا میں سرخیوں میں ہیں۔ مولانا مدنی نے جہاد کے تصور کو حق قرار دیتے ہوئے اسے اسلام کا مقدس فریضہ بتایا۔ انہوں نے موجودہ حکومت کی مسلم مخالف سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے’لو جہاد، لینڈ جہاد، تھوک جہاد‘ جیسے الفاظ کے استعمال پر شدید اعتراض کیا اور کہا کہ ان کا مقصد مسلمانوں کی توہین اور بدنامی ہے۔ مولانا مدنی کے اس بیان نے سماجی اور سیاسی حلقوں میں شدید بحث کو جنم دیا ہے، اور متعدد تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات معاشرتی کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

مولانا مدنی نے اپنے بیان میں سپریم کورٹ اور بھارتی عدلیہ کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بابری مسجد اور تین طلاق کے معاملات میں عدالتیں مرکزی حکومت کے دباؤ میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے علمواپی اور ماتھرا کے معاملات کی سماعت پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ یہ سب عبادتگاہ قانون (Places of Worship Act, 1991) کو نظرانداز کرتے ہوئے کیا جا رہا ہے، جو آئین کے اصولوں کے خلاف ہے۔

مولانا مدنی نے سپریم کورٹ کی ‘سربراہی’ کو ایک شرط سے جوڑتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اس وقت ہی سپریم کہلانے کا حق رکھتی ہے جب وہ آئین کی پابندی کرے، اور اگر ایسا نہ کرے تو سپریم کہلانے کا حق نہیں رکھتی۔ انہوں نے زور دیا کہ عدلیہ کی آزادی سے سمجھوتہ ملک کے جمہوریت کے لیے خطرناک ہے اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ سپریم کورٹ کا آئینی فریضہ ہے۔ بھوپال میں جمعیت کی گورننگ باڈی کونسل کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے مولانا مدنی نے براہ راست عدلیہ پر حکومت کے دباؤ میں کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کو سپریم کہلانے کا حق نہیں جب تک کہ وہ آئین کی پابندی کرے۔

مولانا محمود مدنی نے اسلام کے پیروکاروں سے جوڑے جانے والے ’جہاد‘ کے لفظ پر مسلم کمیونٹی کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے دشمنوں نے جہاد کے لفظ کو تشدد اور نفرت کے مترادف بنا دیا ہے، حالانکہ اسلام میں یہ ایک پاک فریضہ ہے۔ مولانا مدنی نے جہاد کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا، ’’جب جب ظلم ہوگا تب تب جہاد ہوگا۔ میں اسے دوبارہ دہراتا ہوں، جب جب ظلم ہوگا تب تب جہاد ہوگا۔‘‘ ان کے اس بیان کو جمعیت علمائے ہند کے صدر کے اس اجلاس میں ایک بڑے اعلان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مولانا مدنی کا یہ سخت بیان مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں منعقدہ جمعیت علمائے ہند کی گورننگ باڈی کونسل کی میٹنگ میں سامنے آیا۔ ان کے خطاب کا یہ حصہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اور اس پر شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پورے اجلاس کی ویڈیو جمعیت کے نیشنل مینجمنٹ کمیٹی اجلاس کے یوٹیوب لائیو اسٹریم پر دیکھی جا سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha