جنگ میں اب سعودیوں، اردنیوں، مصریوں اور یمنی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی کود پڑا ہے مگر اس جنگ کا فائدہ گویا ان کی قسمت میں لکھا ہی نہیں ہے؛ یہ جنگ امریکہ، اسرائیل، سعودیوں اور دیگر اسرائیل نواز عرب حکمرانوں کے حق میں ہے ہی نہیں۔ یہ زمینی حقیقت ہے اور اسی حقیقت کی بنا پر ہی علاقے کے مسائل پر نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال بھی یہی ہے کہ یہ جنگ حوثیوں کے حق میں اختتام پذیر ہوگی کیونکہ زمینی حقائق یہی بتارہے ہیں؛ جنگ کا میدان 50 ہزار سے زائد حوثی مجاہدین کے ہاتھ میں ہے اور جنگ میں تخلیقی سرگرمیاں بھی مجاہدین ہی انجام دے رہے ہے اور جیسا چاہتے ہیں جنگ کا رخ اسی طرح موڑ رہے ہیں؛ جب چاہتے ہیں کسی بھی علاقے میں دشمن کو ماربھگاتے ہیں اور جب بھی ہتھیاروں کی ضرورت ہوتی ہے دشمن کے فوجی اڈوں پر حملہ آور ہو کر ہتھیاروں کی ضرورت پوری کردیتے ہیں؛ چنانچہ لگتا یہی ہے کہ ظلم و ستم اور قتل و غارت کے مرتکبین اور بچوں، عورتوں، بے گھر کیمپ نشینوں اور مریضوں کے قاتلین کو بدنامی اور رسوائی کے سوا کچھ بھی نہ ملے گا اور فتح و نصرت صرف مظلوموں کی ہوگی یہ ایک حقیقت ہے جذباتی نعرہ نہیں۔
* زیدی شیعہ طبرستان سے و دیلم سے یمن تک
سوال: یمن میں حوثیوں کی تحریک کب اور کن مقاصد کے لئے تشکیل پائی؟
پیربداغی: یمن میں پہلی جنگ پانچ سال قبل انجام پائی مگر عالمی رائے عامہ خاص طور پر عالم اسلام کی ذرائع ابلاغ اس جنگ سے بی خبر یا پھر غافل رہے۔ اس موضوع کی شناخت یمن کے حالات سے آگہی میں ممدّ و معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
شیعیان یمن کی تحریک اندرونی اور انڈدیجنس اور درون خیز (؟) طور پر اٹھی اور بالکل مقامی تھی جس میں کوئی بھی بیرونی عامل مؤثر نہ تھا. صحیح اور سچے زیدی اہل تشیع کے بہت قریب ہیں، شیعیان زیدی نے تیسری صدی ہجری میں شمالی ایران، شمالی یمن اور شمالی افریقی ملک مراکش میں حکومتیں تشکیل دیں. ایران کے شمال میں طبرستان اور دیلم زیدی شیعیان کے اقتدار کے ابتدائی مراکز ہیں جہاں زیدی اماموں نے حکومت تشکیل دی. یہ حکومت عرصۂ دراز تک قائم رہی اور ایران کے لئے مثبت نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوئی. دیلمیوں یا آل بویہ کی دو صدیوں پر محیط حکومت اسی حکومت کے بطن سے اٹھی تھی اور شمالی یمن میں "یحیی بن الحسن" زیدی حکومت کی بنیاد رکھی۔ یحیی بن الحسن امام حسن مجتبی علیہ السلام کی ذریت مطہرہ سے تھے۔
یحیی مختلف وجوہات کی بنا پر شمالی ایران میں حکومت قائم نہ کرسکے تھے چنانچہ وہ اپنے آٹھ سو ساتھیوں سمیت یمن کے شمال میں صعدہ کے علاقے میں وارد ہوئے اور دینی قبائل کے تعاون سے حکومت تشکیل دی. یحیی کے ساتھی بعد کی جنگوں میں شہید ہوئے جو ایک ہی مقام پر مدفون ہیں اور اس مقام کا نام "مقبرة الطبریین" کے نام سے مشہور ہے اور خاص و عام کی زیارتگاہ ہے۔
زیدیوں کی حکومت کی قوت اور ضعف کا انحصار یمنی قبائل میں ان کے اثر و رسوخ کی کمی اور زیادتی پر تھا. کسی زمانے میں جب ان کی حکومت کی عملداری وسیع ہوئی تو عمان میں ظفار کے علاقے سے سعودی عرب میں واقع طائف تک ان کی حکومت رہی مگر کمزوری اور ضعف کے وقت ان کی عملداری صعدہ تک محدود ہوکر رہ جاتی تھی۔
یمن میں زیدی سلسلہ ایک گہرا اور عمیق و اصیل سلسلہ ہے جس کی عمر 11 صدیوں پر محیط ہے۔ 1962 میں مصر کی مداخلت اور صنعاء میں جمہوریت پسندوں کی تحریک کے نتیجے میں زیدی حکمرانوں کا تختہ الٹ دیا گیا اور اسی سال بے شمار زیدی علماء کو دہشت گردی کی ایک لہر کھڑے کرکے قتل کیا گیا اور کثیر تعداد میں زیدی علماء کے قتل اور جلاوطنی کی وجہ سے زیدی سلسلہ بھی گوشہ نشینی پر مجبور ہوا.
* زیدیوں کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیاں سلفیت کے فروغ میں رکاوٹ
زیدی شیعہ اس مدت میں دینی حوزات اور مدارس میں علمی اور ثقافتی سرگرمیوں میں مصروف ہوئے جبکہ شیعیان اثنی عشری اپنی پوری تاریخ کے دوران فکری اور ثقافتی اور تعلیمی و تربیتی امور میں مصروف رہے اور آخرکار عصر حاضر میں امام خمینی رحمة اللہ علیہ نے حالات کو مناسب پاکر حکومت کی بنیاد رکھی۔
یمن میں زیدیوں کی فکری اور ثقافتی سرگرمیاں وہابی تفکر اور سلفی مکتب کے فروغ کے لئے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور اگر یہ سرگرمیاں نہ ہوتیں یمن اس وقت پوری طرح طرح وہابیت اور سعودی حکمرانوں کے زیر تسلط ہوتا.
*"شباب المؤمن"تحریک کی تأسیس:
گذشتہ چار عشروں کے دوران زیدی علماء کی استقامت اور کوشش کے نتیجے میں 1990 میں شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد کے وقت "شباب المؤمن" کی تشکیل کے لئے راستہ ہموار ہوا. زیدیوں نے یمن کے نوجوانوں پر کام کیا تھا اور انہیں اسی روز کے لئے تیار کررکھا تھا. وہ رمضان اور محرم کے دوران یمن کے مختلف صوبوں، شہروں اور دیہاتوں میں تبلیغ کے لئے نکلتے تھے۔
انقلاب اسلامی اور ایرانی عوام کی تحریک کے نتیجے میں ظہور پذیر ہونے والی حق طلبی کی لہر یمن میں بھی پہنچ چکی تھی۔
ایران اور یمن کے درمیان تاریخی، مذہبی اور فکری رشتے موجود تھے اور ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کی بنا پر یمنی زیدیوں نے بھی محسوس کیا کہ وہ اپنی عظمت رفتہ اور پامال شدہ حقوق دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں؛ چنانچہ زیدی سلسلے کے بیچ سے "سید حسین بدرالدین الحوثی" نے "شباب المؤمن تحریک" کی بنیاد رکھی۔
اس تحریک نے فکری، اعتقادی اور سیاسی شعبوں میں زیدی نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا آغاز کیا. یہ تحریک زیدی نوجوانوں میں ایک نئے اور نہایت مثبت سلسلے کا باعث ہوئی. اس تحریک نے 1990 سے 2004 تک نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھا.
البتہ یہ تحریک نشیب و فراز سے گذری ہے؛ بے بنیاد اور غیر اصیل زیدی اقلیت ـ جو سعودی عرب اور یمنی حکمرانوں سے وابستہ تھی ـ نے موقع سے فائدہ اٹھا کر سرکاری اور وہابی پشت پناہی کی بدولت سماجی حوالے سے ترقی کی اور انھوں نے اپنا تعارف اصلی زیدیوں کے عنوان سے کرایا. یمنی حکومت جو زیدیوں کو اپنے مفاد کی بنیاد پر اپنی مرضی سے منظم کرنے کے درپے تھی، زیدی اقلیت کی حمایت پر کمربستہ ہوئی اور زیدی اکثریت کے حقوق ایک بار پھر پامال ہوتے نظر آئے تو صحیح اور اصل و نسب والے زیدیوں نے حسین بدرالدین الحوثی کی قیادت میں قیام کیا.
* زیدیوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے یمنی سرکار کی طرف سے چھ جنگیں مسلط کی گئیں
سوال: حکومت یمن کے ساتھ زیدیوں کی چھ جنگیں کیوں، کب اور کیوں وقوع پذیر ہوئیں؟
پیربداغی: پہلی جنگ کے بارے میں یوں کہنا چاہئے کہ حسین بدرالدین الحوثی نے اس جنگ سے ایک سال قبل 2003 میں ایک سیاسی حرکت کا آغاز کیا.
انھوں نے امریکہ کے سامنے یمنی حکمرانوں کی پالیسیوں اور یمن میں امریکی فوجی موجودگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پانچ نعروں یعنی "اللہ اکبر، الموت لامریکا، الموت لاسرائیل، اللعنة علی ا