معاشی اسباب و عوامل
سعودی مداخلت کا ایک سبب معاشی ہے۔
سعودی عرب اہل تشیع کی سرکوبی کا شوقین ہونے کے ساتھ ساتھ یمن سے معاشی فوائد بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔
سعودی عرب نے شمالی یمن کے "نجران، اثیر اور جیزان" صوبے کرائے پر حاصل کرلئے تھے اور کرائے کی مدت 1990 میں ختم ہوگئی ہے مگر سعودی حکام یہ صوبے یمن کو واپس کرنے کا روادار نہیں ہے؛ سعودیوں کہا بہانہ یہ ہے کہ شمالی یمن میں اہل تشیع کو اثر و رسوخ حاصل ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ شیعہ اکثریتی صوبے "نجران" میں حال ہی میں تیل کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں اور سعودیوں کی کوشش ہے کہ یمن کو خانہ جنگیوں میں مصروف رکھے؛ زیدی اور اسماعیلی اہل تشیع کے درمیان اختلاف ڈال دے اور ان حالات سے اپنے مفاد میں فائدہ اٹھائیں۔
سعودی مداخلت اور یمنی حکومت اور انتہا پسند سنیوں کی حمایت کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ اپنی جنوبی پٹی میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنا چاہتا ہے تا کہ اس طرح وہ بحر احمر میں واقع فوجی اور معاشی اہمیت کے حامل آبنائے "باب المندب" پر مسلط ہونا چاہتا ہے اور سعودی حکمران سنہ 1990 سے اس منصوبے پر کام کررہے ہیں۔
اسی بنا پر یمن کے تاریخی علاقوں ـ جیسے "عدن، مکلا، تعز اور صعدہ" میں ـ اپنا اثر و نفوذ بڑھانے کی کوششیں کرتا رہا ہے۔
حائل پٹی "بفر زون"
سعودی عرب آج یمنی عوام کے خلاف جنگ میں اعلانیہ طور پر کود پڑا ہے اور یمن کی خانہ جنگی نے نئی صورت اختیار کرلی ہے۔ سرحد کی دونوں اطراف میں ہزاروں اسماعیلی اور زیدی شیعہ جنگ کی وجہ سے اپنا گھر بار اور کلّی طور پر شمالی یمن اور جنوبی سعودی عرب کے علاقے چھوڑ چکے ہیں جبکہ سعودی حکمران یمن کے ارضی دعوؤں کے مکمل خاتمے کی غرض سے عرصۂ دراز سے اس علاقے میں ایک بفر زون کے قیام کا خواب دیکھتے آئے ہیں اور اس وقت اس بفر زون میں اپنی جنوبی پٹی اور صعدہ میں ایک بفر زون کے قیام کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
غزہ پر حملے کے وقت صہیونیوں کی حمایت کرنے والے عرب حکمرانوں کا کردار
عرب ممالک پر مسلط غیر منتخب حکومتوں کو اندرونی عوامی حمایت حاصل نہیں ہے چنانچہ انہیں اقتدار قائم رکھنے کے لئے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت درکار ہے اور اس سلسلے میں وہ وہ پورے عالم اسلام کا سودا کرنے کے لئے بھی تیار نظر آتے ہیں۔
عرب ممالک پر مسلط نظام ہائے حکومت امریکہ اور مغرب کے مفادات کے محافظین کی حیثیت سے سعودی عرب کی حمایت کررہے ہیں؛ مصر، اردن اور کویت نے ریاض کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
خلیج فارس تعاون کونسل نے ایک بیان میں سعودی عرب کو کونسل کے رکن ممالک کی غیرمشروط حمایت کا یقین دلایا ہے اور یمن میں مداخلت کے حوالے سے سعودی فوجی اقدام کی حمایت کی ہے۔
کونسل کے گیارہویں اجلاس میں کونسل کا بیان عمانی وزیر خارجہ "یوسف بن علوی" نے پڑھ کر سنایا۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہمیں پورا یقین ہے کہ سعودی عرب جارحیتوں کا جواب دے سکتا ہے؛ اور یمن و سعودی عرب کا امن کونسل کے رکن ممالک کے امن و استحکام سے براہ راست جڑا ہوا ہے"۔
قطری وزیر اعظم/ وزیر خارجہ، احمد بن جاسم آل ثانی نے کہا ہے کہ "سعودی عرب کے امن و استحکام میں تزلزل خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کے امن و استحکام کا تزلزل ہے"۔
عرب لیگ کی سیکریٹری جنرل "عمرو موسی" نے کہا ہے "ہمارے نزدیک سعودی عرب یا یمن کے استحکام پر ہر قسم کی جارحیت ناقابل قبول ہے"۔
انھوں نے حوثی اہل تشیع کے خلاف سعودی حملوں کے بارے میں کہا: "بہت مسائل زیر غور ہیں، اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں۔ بہرحال سعودی اور یمنی امن و استحکام پر کوئی بھی حملہ قابل قبول نہیں ہے"۔
کویت کے وزیر دفاع شیخ جابر المبارک نے سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی اور شیعیان یمن کی سرکوبی کے لئے سعودی جارحیت کی حمایت کا اعلان کیا۔
اردنی بادشاہ ـ جو برطانونی فوج کے حاضر سروس کرنل بھی ہیں ـ نے اپنے سپیشل گارڈ کے 450 فوجی سعودی عرب روانہ کردیئے ہیں جو کئی مواقع پر شیعیان یمن کے خلاف جنگ میں شامل ہوگئے ہیں اور مزید 1150 اردنی فوجی بھی بہت جلد سعودی عرب پہنچنے والے ہیں۔ (((())))
دریں اثناء سعودی عرب کے امریکی اور برطانوی ساخت کے ایف 15 اور ٹورناڈو طیارے صعدہ اور دیگر شیعہ علاقوں کے ہزاروں افراد کے بے گھر ہونے کا باعث بن گئے ہیں
عرب افواج شیعیان یمن کے خلاف جنگ میں جوق درجوق شامل ہورہے ہیں مگر یہی لوگ فلسطین کے معاملی میں ہمیشہ "غیرجانبدار" رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور فلسطینیوں کو کمک پہنچانے والوں کو جیلوں میں بند کردیتے ہیں کیونکہ انہیں خدا کی بجائے قبلۂ اول کے غاصب صہیونیوں اور امریکہ و یورپ کی خوشنودی ان کا مطمع نظر ہے اور جس طرح کہ وہ فلسطین کے معاملے میں عربوں کی غیرجانبداری سے خوشنود ہوتے ہیں یمن کے مسئلے میں اہل تشیع کے خلاف جنگ میں ان کی مداخلت سے بھی خوشنود ہورہے ہیں چنانچہ وہ دونوں صورتوں میں اپنے آقاؤں کو خوش کرنے میں پوری طرح سے کامیاب ہیں۔
یمن کی جھڑپوں میں مغربی دنیا کا کردار
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق چھٹی جنگ اگست کی ابتداء میں یمنی صدر اور امریکی سینیٹر مک کین کے درمیان متعدد نشستوں کا نتیجہ ہے۔
مک کین نے ان نشستوں میں جنرل علی عبداللہ صالح کو امریکی کانگریس اور صدر اوباما کی کا پیغام پہنچایا اور اس کو مکمل امریکی حمایت کا یقین دلایا۔
تا ہم اسی وقت بعض غیرجانبدار ذرائع نے بتایا تھا کہ یہ مذاکرات یمن میں القاعدہ کو دوبارہ سرگرم کرنے کے حوالے سے تھے تا کہ شیعیان یمن کے خلاف جنگ شروع ہونے کی صورت میں القاعدہ جنرل صالح سرکار کے ساتھ مل کر اہل تشیع کے خلاف کاروائیاں کرے۔
یمنی اخبار "المصدر" کی رپورٹ کے مطابق مک کین اور اس کے ساتھ آنے والے وفد نے یمن کے دورے کے دوران جنرل علی عبداللہ صالح سے ملاقات کی جبکہ جنرل صالح اس سے قبل امریکہ میں مک کین اور دیگر امریکی اہلکاروں کے ساتھ ـ امریکی کانگریس میں ـ متعدد نشستوں میں شریک ہوا تھا اور صالح ـ مک کین کی ایک خفیہ ملاقات بھی ہوئی تھی جس میں کسی اور کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
در حقیقت کہا جاسکتا ہے کہ یہ ملاقاتیں درحقیقت اس سازش کا حصہ تھیں جس کی بنا پر امریکی افواج کو یمن میں داخل کرنا اور انہیں شیعہ مجاہدین کے خلاف استعمال کرنا تھا۔
برطانیہ
جہاں بھی شرارت ہو برطانیہ کا ہونا بظاہر ضروری ہوتا ہے؛ تاہم اس بار ظاہری طور پر یمن کی جنگ شروع ہونے کے دوہفتے بعد برطانیہ نے بھی یمن حکومت کی حمایت کا اعلان کیا اور "برطانیہ مستقبل قریب میں اس جنگ میں فوجی مداخلت پر مجبور ہے!" اور برطانوی موقف سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کی جنگ پیشگی منصوبے کے تحت شروع ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں یمن امریکہ اور برطانیہ کی وسیع جارحیت کا نشانہ بننے والا ہے۔
یمن کے عوام کو راضی کرنے اور امریکی و برطانوی فوجوں کی مداخلت کے لئے تیار کرنے کے لئے، امریکہ نے یمنی حکومت کو فوجی کمک بھیج دی اور سعودی عرب کو اس طرح سے اس جنگ میں دھکیل دیا کہ وہ یمن کی حاکمیت اعلی کو پامال کردے اور سعودی میزائلوں، توپوں اور طیاروں کے ذریعے یمنی عوام کو نشانہ بنادیا جائے!
امریکہ نے شیعیان یمن کے خلاف جو اقدامات کئے ہیں ان میں ایک اہم اقدام یہ تھا کہ اس نے گوانتامو سمیت سعودی عرب، یمن اور بعض افریقی جیلوں میں قید القاعدہ کے دہشت گردوں کو رہا کیا اور کرایا۔ ان دہشت گردوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی اور وہ مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔