یمنی حکومت کی جانب سے اہل تشیع کے خلاف جنگ کا آغاز
نیویارک میں 11 ستمبر 2001 دہشت گردی کا مشکوک واقعہ معاصر تاریخ میں بڑے واقعات و حادثات کا سرچشمہ ثابت ہوا؛ گویا یہ واقعہ دنیا میں نئے نظام کے تعارف کے لئے ترتیب دیا گیا تھا؛ دنیا میں بری تبدیلیاں آئیں۔ ان سب واقعات کے آغاز کے لئے بش انتظامیہ نے 11 ستمبر کے بعد "دہشت گردی کے خلاف عالمی معاہدے" کی تجویز پیش کردی اور دنیا کو امریکی قیادت کے تحت دہشت گرد مخالف عالمی اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کی اور بہت سے ممالک ـ خاص طور غیر منتخب عرب حکمران ـ اس غیر مکتوب معاہدے میں شامل ہوکر امریکی سیادت کے سامنے ہمیشہ کی مانند ایک بار پھر سربسجود ہوئے۔
مشرق وسطی کے علاقے میں مغرب زدہ ملک یمن امریکہ کا اہمترین حلیف ٹہرا اور امریکہ کے جاسوسوں اور فوجی اہلکاروں سمیت اسرائیلی وفود کا بھی اس ملک میں آنا جانا شروع ہوا اور یہی امر یمن میں عوامی رد عمل کا موجب ہوا۔
اسی اثناء میں علامہ بدرالدین الحوثی کے فرزند "سید حسین طباطبایی الحوثی" ـ جو اس وقت تک یمنی پارلیمنٹ میں شیعیان صعدہ کے نمائندے اور سیاسی جماعت "حزب الحق" کے سیکریٹری جنرل تھے جو شیعیان صعدہ کو تفسیر قرآن پڑھاتے اور مذہبی مجالس کا اہتمام کیا کرتے تھے ـ نے 17 جنوری 2002 کو شہر "مران" کے "مدرسہ امام ہادی علیہ السلام" میں "مستکبرین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فریاد" کے تحت "اللہ اکبر، مردہ باد امریکہ، مردہ باد اسرائیل، لعنت بر یہود اور فتح صرف اسلام کی ہے" کو علاقے کے اہل تشیع کا شعار قرار دیا اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ قرآن اور اہل بیت (ع) کی تعلیمات کی متابعت کریں۔
ان کی اس اپیل پر یمن کی عوام کی ایک بڑی آبادی نے لبیک کہہ دی اور سرگرم شیعہ نوجوانوں نے "الشباب المؤمن" کے نام پر ایک تنظیم کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے یمنی حکمرانوں کی طرف سے امریکہ اور غاصب صہیونی ریاست کے ساتھ خفیہ معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے صالح ـ بش اتحاد کی مذمت کی۔
سید حسین الحوثی کی دعوت کا اثر اتنا تھا کہ صنعا کی جامع مسجد میں نماز جمعہ میں شرکت کرنے والے مسلمانوں نے اہل تشیع کے چار نعرے اٹھائے۔ اس واقعے نے یمنی حکمرانوں کو ہراساں کردیا اور جنرل علی عبداللہ صالح نے یمنی اہل تشیع کے تاریخی انقلابی جذبے کے پیش نظر سید حسین پر دہشت گردی کا الزام لگا کر امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تا کہ بیرونی امداد کے ذریعے شیعیان یمن کو کچل سکے۔
جنرل صالح نے اسی نےت کو عملی جامہ پہنانے کے ارادے سے 2004 میں امریکی ریاست جارجیا کے آئس لینڈ کمپلیکس میں منعقد ہونے والے جی ایٹ کے رکن ممالک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی اور اس وقت کے امریکی صدر بش سمیت یورپی ممالک کے سربراہوں سے بات چیت کی۔
اس نے مغربی ممالک سے شیعیان یمن اور القاعدہ کی سرکوبی کے لئے امداد کی درخواست کی اور کہا کہ شیعیان یمن کے علاوہ سنی علاقوں میں القاعدہ نے بھی اپنے اڈے قائم کرلئے ہیں۔
جنرل صالح نے امریکہ سے واپسی کے ساتھ ہے یمنی افواج کو صوبہ صعدہ ـ خاص طور پر "نشور، آل صیفی، ضحیان، اور مران" کی شیعہ علاقوں پر حملے کا حکم دیا۔ اور ساتھ ہے یمنی فضائیہ کی فائتر بمبار طیاروں، سینکڑوں توپوں اور ٹینکوں کی ذریعی ان علاقوں پر بمباری اور گولہ باری کا آغاز کرایا۔ حملے سے صرف ایک روز بعد 18 جنوری 2004 کو یہ سرسبز و شاداب اور پر فضا علاقہ متی، آگ اور خون کی جہنم میں تبدیل ہوا۔
جنرل علی عبداللہ صالح ٹھنڈے دماغ سے شیعیان یمن کو کچل دینا چاہتا تھا چنانچہ اس نے علاقے پر مکمل سینسر نافذ کیا اور مسلم ممالک کے ٹیلی ویژن چینلز سمیت الجزیرہ، العربیہ اور العالم کے نمائندوں کو یمن چھوڑنے کی ہدایت کی اور تین ماہ تک اس علاقے کو بموں اور گولوں کا نشانہ بنایا۔ البتہ جنگ جاری رہی اور افواج نے تقریبا آٹھ مہینوں کے بعد 10 ستمبر 2004 کو "مران" کے شہر پر قبضہ کیا اور سیدحسین الحوثی شہید ہوئے تو یمنی آمر نے باقاعدہ جنگ بندی کا اعلان کیا۔
حکمران فتح کا جشن منانے کی تیاریاں کررہے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ سید حسین الحوثی کی شہادت کے بعد وہ صوبہ صعدہ پر مسلط ہوجائیں گے مگر لڑائیوں کا نےا سلسلہ شروع ہونے کے ساتھ ہی ان کا خیال ڈراؤنے سپنے میں تبدیل ہوا اور یہ لڑائیاں شیعیان یمن کے خلاف دوسری جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔
دوسری جنگ
صوبہ صعدہ کے باشندوں کی مظلومیت اور "سید حسین طباطبایی الحوثی" کو شہید کہنے والے عوام کے درمیان ان کی روز افزوں شہرت اور کتب و تقاریر کی صورت میں ان کی تعلیمات عام ہونے کی وجہ سے شیعیان زیدی کے درمیان صوبہ صعدہ کے عوام کے ساتھ ہمدردی میں زبردست اضافہ ہوا اور "حیدان" کے علاقے سمیت یمن کے مختلف صوبوں کے عوام شمالی یمن میں منہدم ہونے والے گھروں اور آبادیوں کی تعمیر نو کی غرض سے اس علاقے میں جا پہنچے؛ مگر یمنی افواج نے اس بار حیدان کے علاقے کو شمالی یمن کے عوام سے ہمدردی کرنے کے جرم میں شدید ترین فضائی اور زمینی حملوں کا نشانہ بنایا اور ان حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ شہید اور زخمی ہونے والے تمام افراد غیر مسلح اور عام نہتے شہری تھے۔
یمنی افواج اور الحوثیوں کے درمیان دوسری جنگ پہلی جنگ کے ٹھیک ایک سال بعد جنوری 2005 کے آخری ایام سے شروع ہوئی اور اس بار جنگ کی وسعت کہیں زیادہ تھی اور کوہ مران سے لے کر حیدان کے علاقے تک پھیل گئی۔ سید حسین الحوثی کے والد "بدرالدین الحوثی" نے اس جنگ میں شیعیان یمن کی قیادت سنبھالی۔
جنگ کے ابتدائی ایام میں ہی 23 شیعہ مجاہدین شہید اور 51 گرفتار ہوئے اور یمنی فوج نے صرف آٹھ فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا۔
بدرالدین الحوثی نے اپنے فرزند سید حسین کی شہادت کے بعد صنعا میں اپنی رہائش ترک کردی اور صعدہ کے دشوار گزار پہاڑوں میں جابسے۔
علامہ بدرالدین الحوثی یمن میں عظیم علمی اور فقہی شخصیت مانے جاتے تھے چنانچہ جنرل علی عبداللہ صالح نے انہیں بڑی تنخواہ اور 200 مسلح محافظ دینے کی پیشکش کی مگر انھوں نے سرکاری تجویز ٹھکرادی اور مرکزی حکومت کے خلاف جنگ کے لئے کمربستہ ہوئے۔
"نشور" اور "حیدان" کے عوام دوسری جنگ کے بعد "النقعہ"، "مطرہ"، "آلسالم"، "عصاید" اور "بنیمعاذ" کے پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
یمنی آمریت نے 27 مارچ 2005 کو دوسری جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا۔ یمن کے اہل تشیع کے قتل عام کے نتیجے میں جنرل صالح کر وسیع بین الاقوامی اور اندرونی اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا مگر آمر کے لئے صرف امریکہ کی خوشنودی درکار تھی اور وہ اہل تشیع کو امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں بڑی رکاوٹ سمجھتا تھا چنانچہ اس نے ایک بار پھر صوبہ صعدہ کے اہل تشیع کی نسل کشی کا ارادہ کیا۔ کیوںکہ اس کو سعودی عرب اور امریکہ کے دباؤ کا سامنا تھا جبکہ وہ اہل تشیع کے خلاف دوسری جنگ میں بھی امریکی اور سعودی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔
اس بار اس نے سادات پر بھی شدید ترین حملے کئے اور اہل تشیع کو مذہبی اعمال و مراسمات سے منع کیا۔
یمن ہی کے ایک شیعہ عالم دین ـ جو وہابی تھے اور شیعہ ہوگئے ہیں ـ اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ سرکاری اہلکاروں نے جنرل علی عبداللہ صالح کی ذاتی ہدایات کے تحت صعدہ اور صنعا میں شیعہ مساجد پر حملے کئے اور تمام مقدس کتب ـ جیسے نہج البلاغہ، صحیفہ سجادیہ، کے نسخے اٹھاکر ٹرکوں میں بھر دیئے اور صنعا کے مرکزی چوک "ساحةالحریة" (آزادی چورنگی) میں دارالحکومت کے عوام کی آنکھوں کے سامنے نذر آتش کئے۔
انھوں نے کہا کہ یمنی افواج نے علی محسن الاحمر کی سرکردگی میں شیعہ علاقوں پر حملوں کے دوران کسی بھی جرم و ظلم و ستم سے دریغ نہیں کیا اور کیمیاوی اور آتشی بموں کے ذریعے ان علاقوں کے عوام کیا قتل عام کیا اور شیعہ مجاہدین کی لاشیں جلادینے کے بعد ان کے جلے ہوئے باقیات فوجی گاڑیوں سے باندھ کر روز روشن عوام کے سامنے سڑکوں پر گھسیٹتے رہے تا کہ علاقے کے لوگ حکومت کی درندگی سے خائف ہوں اور حکومت کے خلاف دوبارہ مزاحمت کی جرأت نہ کرسکیں۔
انھوں نے کہا کہ اہل تشیع تمام مراحل میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہوتے تھے کیوںکہ وہ پر امن انداز میں مسائل کے حل کے خواہاں تھے مگر سعودی عرب کے وہابی اور عراق کے بعثی