اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی- ابنا - کی رپورٹ کے مطابق خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں شدت پسندوں کے خلاف اہم آپریشن آج صبح شروع کیا گیا جسے آپریشن "خوخ بہ دی شم" (پسند آؤں گا تمہیں) کا نام دیا گیا ہے ۔ مقامی زبان میں خوخ بہ دی شم حریف کو سخت سزادینے کے معنی میں استعمال کیاجاتاہے ۔آپریشن کے آغاز سے پہلے تحصیل باڑہ کے دیہی علاقوں میں صبح سویرے غیر معینہ مدت تک کرفیو نافذ کردیا گیا جبکہ شہری علاقوں میں یکم ستمبر سے نافذ کرفیو میں دیا جانے والا وقفہ بھی ختم کردیا گیا ۔ آپریشن میں زمینی دستوں کے ساتھ ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹربھی حصہ لے رہے ہیں ۔تحصیل باڑہ کے علاقوں گورگری ،ملک دین خیل اور وادی تیراہ میں فورسز کی کارروائی میں پندرہ شدت پسندمارے گئے اور چھ کو گرفتارکرلیا گیا ۔ سکیورٹی فورسز کامیابی سے اپنے اہداف حاصل کررہی ہیں اور شدت پسندوں کے کئی مشتبہ ٹھکانے اور12 گاڑیاں بھی تباہ کردی گئیں۔فورسز کے دستوں نے شدت پسندوں کے اہم گڑھ گورگری کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہاں قومی پرچم لہرادیا ۔گورگری میں شدت پسندوں کے ٹارچر سیل سے بھاری ہتھیار بھی قبضے میں لئے گئے ہیں ۔تحصیل باڑہ کے قبائل نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے۔ باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار میں لیویز کے ہیڈ کوارٹر پر شدت پسندوں نے رات گئے راکٹ فائر کئے۔حملے میں لیویز کا حوالدار زخمی ہوگیا جسے خاراسپتال منتقل کیاگیا ایک راکٹ قریبی گھر میں گرا جس سے دو بچے جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوگئے اور کئی دکانوں اور ایک پیٹرول پمپ کو بھی جزوی نقصان پہنچا ۔ فورسز نے خار ، یوسف آباد اور ملحقہ علاقوں میں غیر معینہ تک کرفیو نافذ کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا۔ ادھر اورکزئی ایجنسی سے ملحقہ علاقے شاہو خیل میں رات بھرسیکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر گولہ باری کی جس سے چار شدت پسند ہلاک اور ان کے چار ٹھکانے تباہ ہوگئے ۔ وزیرستان میں فورسز سے جھڑپوں میں تین شدت پسند ہلاک ہوگئے جنوبی وزیرستان کے علاقوں آسمان منزہ ،مکین اور لدھا میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ۔ لڑائی میں تین شدت پسند ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ۔17 اکتوبر سے جاری آپریشن راہ نجات میں اب تک سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے سو سے زائدٹھکانوں کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے جن میں شدت پسندوں کے اہم مراکز اور خودکش حملے کے تربیتی مراکز بھی شامل ہیں ۔ بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی قبضے میں لیا گیا ہے ۔آپریشن میں اب تک تقریباً چھ سو شدت پسند مارے جاچکے ہیں ۔ قبل ازیں کل رات کو جنوبی وزیرستان میں مزید نو عسکریت پسند مارے گئے جبکہ خیبر ایجنسی میں مارٹر گولے گرنے سے چھ افراد جاں بحق ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز نے زندہ نرائی کا علاقہ محفوظ بنا لیا۔ مقابلے میں ایک فوجی زخمی ہوا جبکہ اسلحہ اور گولہ بارود کی بڑی کھیپ برآمد کر لی گئی۔کرام کے مقام پر جھڑپ میں ایک شدت پسند ہلاک اور دو جوان زخمی ہوئے۔سیکورٹی فورسز نے تبئی سر میں گولڈن چوٹی کو شرپسندوں سے صاف کر کے پوزیشن مستحکم کرلی۔ اس دوران مقابلے میں آٹھ شرت پسند ہلاک ہوگئے۔خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل کے بازار اور قریبی چھاوٴنی پرمارٹر گولے گرنے سے چھ افراد جاں بحق اور سات سیکورٹی اہلکاروں سمیت انیس افراد زخمی ہوگئے۔ مارٹر گولے وادی تیراہ سے فائر کیے گئے،جن میں چار گولے لنڈی کوتل کے بازار میں گرے جبکہ دو چھاوٴنی پر گرے۔اورکزئی ایجنسی اور ہنگو میں تین دن کے دوران آپریشن اور بمباری سے پچیس عسکریت پسند ہلاک اور پینتیس زخمی ہوگئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ہنگو کے علاقے شاہو خیل میں بمباری سے عسکریت پسندوں کے گیارہ مراکز تباہ کردیئے گئے۔ادھر مہمند ایجنسی کی تحصیل بانیزئی میں سیکورٹی فورسز اور امن کمیٹی نے عسکریت پسندوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی۔ جھڑپ کے دوران اہم کمانڈر عبدالولی ولد عرب خان سمیت چار عسکریت پسند گرفتار کرلئے گئے۔ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔ادھر سرحد حکومت نے پشاور اور نواحی علاقوں کیلئے دو ہزار جوانوں پر مشتمل کمیونٹی پولیس فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ جس کیلئے 48کروڑ روپے مختص کر دئیے ہیں۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کمیونٹی فورس کے جوانوں کا انتخاب ہر علاقے کے عمائدین کی مشاورت سے میرٹ پر کیا جائے گا۔ کمیونٹی فورس کی ابتدائی مدت دو سالہ کنٹریکٹ پر ہو گی اور پولیس میں بھرتی کے معیار پر پورا اترنے والے جوانوں کو منتخب کیا جائیگا۔ جس کیلئے سرحد حکومت نے 48کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔ وزیر اطلاعات کے مطابق کمیونٹی پولیس فورس کے قیام کا مقصد پشاور اور نواحی علاقوں میں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانا ہے۔ سرحد کے وزیر اطلاعات کے مطابق آئندہ چھ ماہ میں پشاور اور گرد و نواح میں اٹھارہ پولیس اسٹیشن قائم کئے جائیں گے۔ جو نفری اور جدید آلات سے لیس ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہنگامی طور پر وفاق سے ایک ہزار ایف سی اہلکار بھی طلب کئے گئے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ پشاور میں دہشت گردی میں معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کے پیش نظر سرحد حکومت عید الاضحٰی سادگی سے منائے گی۔میاں افتخار حسین نے سیکیورٹی کے پیش نظر پشاور میں غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف متعلقہ سرکاری اداروں کو سرچ آپریشن اور فوری رپورٹ حکومت کو بھجوانے کی ہدایت کی۔ صوبائی وزیر اطلاعات کے مطابق پشاور میں باہر سے آکر رہنے والوں کے کوائف اکٹھے کیے جائیں گے اور مساجد میں دوسرے علاقوں کے آئمہ کو واپس ان کے علاقوں کو بھیجا جائے گا۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 172939
مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن جاری ہے اور پشاور میں کمیونٹی پولیس فورس قائم کی جارہی ہے.