29 اگست 2025 - 21:38
یورپ سنیپ بیک میکانزم کے وہم سے دھوکے میں نہ آئے، وہ اب غیر مؤثر قوت بن کر رہ جائے گا، عراقچی

یورپ کے چنے ہوئے راستے پر اگر قابو نہ پایا گیا تو یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ساکھ کے لئے سنگین نتائج کا سبب بنے گا۔ قانونی طریقہ کار یا قانونی بنیادوں کی پاسداری کے بغیر، نام نہاد سنیپ بیک میکانزم کا استعمال نہ صرف سلامتی کونسل کے فیصلوں پر اعتماد کو کمزور کرے گا، بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سلامتی کونسل ـ اور پوری دنیا ـ آگے بڑھ کر کہہ دے:

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران نے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا:

تین یورپی ممالک، اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ کی نمائندگی کرتے ہوئے، نے جان بوجھ کر ایرانی عوام پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ غیر سنجیدہ اقدام — جس کے خلاف ایران نے واضح طور پر انتباہ دیا تھا — غیر اخلاقی، غیر منطقی اور غیر قانونی ہے۔

ایران یورپ کی توجہ اس بات کی طرف دلانا چاہتا ہے کہ وہ خود کو سنیپ بیک میکانزم کے استعمال کے وہم میں نہ لے، جسے وہ کم از کم ایک شعبے (ایرانی جوہری پروگرام) میں کردار ادا کرنے کے لیے ایک لیورج کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ایران واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ اس راستے پر چلنے سے تین یورپی ممالک (ایران کے حوالے سے) مکمل طور پر غیر مؤثر اور فرسودہ قوتیں بن جائیں گے۔

فکر کی بات یہ ہے کہ تین یورپی ممالک اب اپنے اس غیر ذمہ دارانہ عمل کو " سفارت کاری کو آگے بڑھانے کی کوشش" کے طور پر جواز فراہم کر رہے ہیں۔

میں ذاتی طور پر گذشتہ دو دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شامل رہا ہوں۔ میرے ملک نے اس سال ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے پانچ ادوار میں حصہ لیا۔ مذاکرات کے چھٹے دور کے موقع پرایران پر حملہ ہؤا؛ پہلے اسرائیل نے اور پھر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا۔ یہ نقرت انگیز ہے کہ کہ یورپ اب ایران پر مذاکرات کی میز ترک کرنے اور مذاکرات کو مسترد کرنے کا الزام لگا رہا ہے۔

تین یورپی ممالک کے اقدامات عملی طور پر جارح مؤثر طریقے سے فائدہ پہنچا رہے ہیں اور جو نشانہ بنا ہے اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ امریکہ تھا، ایران نہیں، جس نے یکطرفہ طور پر 2018 میں 1+5 کے ساتھ ایران کے ایٹمی معاہدے (JCPOA) سے علیحدگی اختیار کی اور دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ یورپ تھا، ایران نہیں، جو امریکی علیحدگی کے معاشی اثرات کو کم کرنے کے اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہا۔ یہ یورپ ہی تھا، ایران نہیں، جو نہ صرف منقلی کے دن (Transition day اکتوبر 2023) پر اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، بلکہ اس نے ایران کی شہری ہوا بازی اور جہاز رانی کی صنعتوں پر نئی غیر قانونی پابندیاں بھی عائد کر دیں۔

جیسا کہ میں نے واضح طور پر بیان کیا ہے، تین یورپی ممالک کا فیصلہ سفارت کاری پر نمایاں منفی اثرات مرتب کرے گا۔ یہ اقدام ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان جاری مذاکرات کو شدید طور پر کمزور کرے گا اور ایران کو مناسب ردعمل دکھانے پر آمادہ کرے گا۔

یورپ کے چنے ہوئے راستے پر اگر قابو نہ پایا گیا تو یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ساکھ کے لئے سنگین نتائج کا سبب بنے گا۔ قانونی طریقہ کار یا قانونی بنیادوں کی پاسداری کے بغیر، نام نہاد سنیپ بیک میکانزم کا استعمال نہ صرف سلامتی کونسل کے فیصلوں پر اعتماد کو کمزور کرے گا، بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سلامتی کونسل ـ اور پوری دنیا ـ آگے بڑھ کر کہہ دے: "کافی ہے"۔

یورپ سنیپ بیک میکانزم کے وہم سے دھوکے میں نہ آئے، وہ اب غیر مؤثر قوت بن کر رہ جائے گا، عراقچی

یورپ سنیپ بیک میکانزم کے وہم سے دھوکے میں نہ آئے، وہ اب غیر مؤثر قوت بن کر رہ جائے گا، عراقچی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha