بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کے مطابق، آج (بروز جمعرات 28 اگست 2025ع کو ایرانی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کی طرف سے مسلط کردہ 12 روزہ جنگ کے شہداء ـ بشمول خواتین، بچوں اور خاندانوں ـ کی یاد میں منعقدہ تقریب میں مسعود پزشکیان نے تمام شہداء کو خراج عقیدت و تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: "ایران کے خلاف شروع ہونے والی سازشوں، بددیانتیوں اور دشمنیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: "یہ دشمنیاں اس وقت سے شدت اختیار کرتی چلی آ رہی ہیں جب سے اسلامی انقلاب کامیاب ہؤا ہے اور آج تک جاری ہیں، جبکہ جمہوریت اور انسانی حقوق کا دعویٰ کرنے والے ممالک، انتہائی بے شرمی کے ساتھ، اس ریاست کے وحشیانہ جرائم کو نظر انداز کر رہے ہیں جو پورے خطے میں دہشت گردی کر رہی ہے اور لوگوں کو قتل کر رہی ہے، لیکن ایرانی قوم، جو خود دہشت گردی کا شکار ہے، پر اس پر خطے میں بدامنی پیدا کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔
صدر نے امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے صہیونی ریاست کی شرمناک حمایت اور خطے میں خاص طور پر مظلوم غزہ کے خلاف اس ریاست کے جرائم کی توثیق کی مذمت کرتے ہوئے بیان دیا: "یہی ممالک یہ کہے بغیر کہ ایران نے اب تک کس ملک پر حملہ کیا ہے، ہم پر دہشت گردی کی حمایت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں اور اس کے برعکس مجرم صہیونی ریاست کی مذمت کرنے کے بجائے اس کی حمایت کرتے ہیں۔ میں یقین نہیں کر سکتا کہ یہ انسان ہیں کیونکہ کوئی بھی انسان غزہ میں انسانوں کی کڑھن، دکھ اور تکلیف کو دیکھ کر اس کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔ سوال یہ ہے کہ پھر ان کا دعویٰ کیا ہؤا؟ انسانی حقوق کہاں ہے؟ آج کی دنیا میں ایک نسل کش ریاست کی عسکری، لاجسٹک اور سافٹ ویئر امداد کے لئے ان کی پاس کیا منطق ہے؟
پزشکیان نے اسلامی ایران پر حملے میں صہیونی ریاست اور امریکہ کے مذموم عزائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "وہ سمجھتے تھے کہ ایرانی کمانڈروں اور اعلیٰ حکام کو قتل کرکے وہ ملک کو مفلوج کر دیں گے اور پھر ایرانی عوام ان کی حمایت اور پشت پناہی کریں گے، تاہم نہ صرف ان کا یہ مذموم مقصد حاصل نہیں ہو سکا، بلکہ پوری ایرانی قوم، حتیٰ کہ ان لوگوں نے بھی جو ـ ہم سے بظاہر ناراض تھے ـ ملکی دفاع میں مضبوط موقف اپنایا، کیونکہ کوئی حریت پسند انسان اپنا وطن نہیں بیچتا اور نہ ہی زبردستی اور غنڈہ گردی کے سامنے جھکتا ہے۔"
پزشکیان نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکہ اور مغربی ممالک کے دباؤ کا مقصد ہمارے ملک کو غیر مسلح کرنا ہے، تاکہ کمزور ہوکر ان کے وحشیانہ حملوں کے خلاف نہتا ملک کر بن کر رہ جائے۔"
انھوں نے کہا: "ہم کسی بھی خطرے سے نہیں ڈرتے، ہم پوری وجود کے ساتھ ملک کے مسائل کے حل اور عزیز عوام کی عزت و سربلندی کے لیے کوشاں ہیں۔ ہم جنگ سے بیزار ہیں اور امن و سکون کے متلاشی ہیں، لیکن ہر قسم کی جارحیت کا ثابت قدمی سے جواب دیں گے ایسا کہ دشمن نادم و پشیمان ہو جائے۔"
صدر مملکت نے صہیونی ریاست کے جرائم بالخصوص ایرانی قوم کے خلاف 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے مقابلے میں جمہوری اور انسانی حقوق کی حمایت کے دعویدار ممالک کے دوہرے سلوک اور منافقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "ایک مٹھی بھر ٹائی لٹکائے لوگ، جھوٹی ظاہرداری کے ساتھ، اپنے کنٹرول میں موجود اسٹیجو سے انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں اور اسی دوران ان کی حمایت یافتہ غاصب ریاست معصوم عورتوں اور بچوں پر بم برساتے ہیں۔ یہ بے گناہ جو اپنے گھروں میں سو رہے تھے، انہوں نے کون سا گناہ کیا تھا کہ اس مجرم ریاست نے انہیں خاک و خون میں تڑپا دیا؟"
ڈاکٹر پزشکیان نے صہیونی ریاست کے بزدلانہ اور وحشیانہ حملے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "جب تک ہمارے جسموں میں جان ہے ہم آپ کے عزیزوں کی خدمت کریں گے۔ یہ کوئی تشہیری نعرہ نہیں ہے بلکہ ہمارے وجود کی گہرائیوں سے نکلا ہوا عقیدہ ہے۔ ہم خلوص نیت کے ساتھ اپنی پوری طاقت آپ کی حمایت کے لئے وقف کریں گے، اور ایک ساتھ اور شانہ بشانہ اپنے پیارے ایران کو آباد کریں گے۔"
صدر مملکت نے اس بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام اشخاص منحصر نہیں ہے کہ دہشت گردی سے متزلزل ہو جائے، بلکہ الہی طاقت کے سرچشمے اور اپنے عوام کے ایمان پر انحصار کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا۔"
انہوں نے مزید کہا: "آج ہمارے ہر صوبے کا گورنر بجائے خود ایک صدر کی طرح ہے، اور ہر وزیر اپنے عہدے میں وسیع اختیارات رکھتا ہے، اس کے علاوہ ملک میں ہزاروں قابل، باصلاحیت اور اشرافیہ کی افواج اس قوم کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، اس لیے یہ خیال کہ ہمارے ملک کی قیادت دہشت گردی سے تباہ ہو جائے گی، ایک فریب ہے۔"
صدر نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے صہیونی ریاست کے جرائم کے خلاف دنیا کے آزاد اور حریت پسند ممالک کی ذمہ داریوں کی یاددہانی کرائی اور تقریب میں حاضر غیر ملکی سفیروں سے کہا: "ہماری توقع یہ ہے کہ ایسی دنیا میں، جہاں قانون کے بجائے طاقت کا غلبہ ہو، آپ حریت پسند لوگ صہیونی ریاست کے ظلم و جبر کو قبول نہیں کریں گے اور غزہ کے مظلوم عوام کی آواز پوری دنیا تک پہنچائیں گے۔"
ڈآکٹر پزشکیان نے واضح کیا: "آج کے قاتل اور خونریز سمجھتے ہیں کہ مظالم ڈھا کر اور معصوموں کا خون بہا کر وہ ہمیشہ باقی رہیں گے، لیکن زیادہ دیر نہیں گذرے گی کہ وہ اپنے پیشروؤں کی طرح کی بری موت مریں گے اور ان کا صرف بدصورت اور خفت آمیز نام ہی باقی رہ جائے گا۔"
صدر نے شہیدوں کے بلند مقام کو خراج تحسین پیش کی اور شہداء کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا: "12 روزہ جنگ میں ایرانی قوم کی ثابت قدمی اور استقامت نے ایک بار پھر وطن کی دفاع میں ان کی وفاداری اور مضبوطی کو دنیا پر ثابت کیا۔ آج ہم اپنی قوم کے سامنے سر جھکاتے ہیں اس کی تعظیم کرتے ہیں اور اپنی پوری کوشش کریں گے کہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو ان کی خدمت اور ملک کے مسائل کو حل کرنے کے لئے پڑوسیوں اور دوست اور ہم خیال ممالک کے ساتھ تعاون پر مرکوز کریں، اور ہمیں یقین ہے کہ ایک دوسرے کی مدد سے ہم اپنے ملک کے لئے ایک روشن مستقبل تعمیر کریں گے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ