15 جون 2009 - 19:30

آج (بروز ہفتہ) یمن کی ایک عدالت نے ـ گذشتہ سال گرفتار ہونے والے ـ آٹھ شیعہ مجاہدین کو موت کی سزا سنائی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمنی عدالت نے آٹھ شیعہ مجاہدین کو سزائے موت، 12 مجاہدین کو 12 سالہ قید، ایک مجاہد کو تین سال اور ایک کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ دو افراد کو بری کردیا گیا ہے۔

مذکورہ افراد گذشتہ سال سیکورٹی فورسز کے قتل کے الزام میں دارالحکومت سے 30 کلومیٹر دور بنی حشیش نامی شہر کے نواح میں یمنی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ یمن کے شمالی علاقوں میں زیدی شیعہ رہتے ہیں جنھوں نے طویل عرصے تک مذہبی، سیاسی اور معاشی شعبوں میں حکومت کا امتیازی سلوک اور محرومیت برداشت کرنے کے بعد 2004 میں عبدالمالک الحوثی کی قیادت میں حکومت کے خلاف احتجاج کا آغاز کیا اور جب حکومت نے انہیں سختی سے کچلنا شروع کیا تو یہ احتجاج مسلح جدوجہد میں بدل گیا.

2004 سے لے کر اب تک علی عبداللہ صالح کو اہل تشیع کی سرکوبی کے سلسلے میں سعودی حکمرانوں کی ہمہ جہت حمایت اور عملی/ فوجی اور مالی تعاون حاصل رہا ہے اور حال ہی میں بعد رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب نہ صرف ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذریعے شیعیان زیدیہ کی سرکوبی میں علی عبداللہ صالح کی حمایت کررہا ہے بلکہ اس وقت اس نے سینکڑوں القاعدہ کے ممبران سمیت باقاعدہ سعودی فوجی بھی یمن کے شمالی علاقوں میں روانہ کئے ہیں.

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد شیعہ مجاہدین کو مختلف سزائیں سنائی جاچکی ہیں. گذشتہ منگل کے روز ایک یمنی عدالت نے 16 شیعہ مجاہدین کو سزائے موت اور 11 دیگر کو 15 سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں.

یمنی شیعہ مجاہدین کے قائد عبدالمالک حوثی اس وقت جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی بسر کررہے ہیں اور اگلے ہفتے یمن کی عدالت ان کی غیرموجودگی میں ان پر مقدمہ چلانے والی ہے۔

علی عبداللہ صالح کو اس وقت شمال میں اہل تشیع کے خلاف جنگ، جنوب میں سوشلسٹ علیحدگی پسندوں اور مغربی سرحدوں پر سعودی عرب کے حمایت یافتہ القاعدہ دہشت گرد تنظیم کے پیروکاروں کی شورش کا سامنا ہے اور سعودی عرب کی حکومت ان شورشوں کو شدت بخشنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے کیونکہ سعودی عرب یمن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے درپے ہے اور اس کی وجہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان ارضی تنازعات ہیں.