15 جون 2009 - 19:30

ایران کی سیکورٹی فورسز کے اعلی اہلکاروں نے بتایا کہ پاکستانی فورسز کے اہلکار بھی بسا اوقات غلطی سے سرحد عبور کرکے ایران میں داخل ہوتے ہیں مگر ان کے ساتھ نہایت دوستانہ برتاؤ کیا جاتا ہے جبکہ ایرانی اہلکاروں کے ساتھ پاکستانی فورسز کا سلوک دوستانہ نہیں تھا.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کل ایرانی سرحدی پولیس کے 11 اہلکار اسمگلروں کا تعاقب کرتے ہوئے غلطی سے سرحد پار پاکستان چلے گئے. پاکستانی فورسز نے ایرانی پولیس اہلکاروں گرفتار کرکے اعلان کیا کہ انھوں نے سپاہ پاسداران کے گیارہ اہلکار گرفتار کرلئے ہیں. مگر یہ معمہ آج صبح حل ہوا.

حقیقت یہ ہے کہ ریگی ٹولے کی طرف سے دہشت گردی کی کاروائی کے بعد ایرانی وزیر داخلہ نے دورہ پاکستان کے دوران وہ دستاویزات حکومت پاکستان کے حوالے کردیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں کے بعض افراد کا اس ٹولے کے ساتھ قریبی تعلق اور تعاون ہے چنانچہ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے تحقیق کئے بغیر سیکورٹی اہلکاروں کی گرفتاری کو بڑا موضوع بنا کر اس معاملے کی شدت کم کرنے کی کوشش کی.

اس سلسلے میں مختلف رپورٹیں:

بعض پاکستانی ذرائع نے دعوی کیا کہ پاکستانی فورسز نے اپنی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے  جن گیارہ اہلکاروں کو گرفتار کر لیا تھا انکو رہا کرنے کے بعد ایران کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

بلوچستان کے ایک پولیس افسر نے کہا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی افسر حراست میں لئے گئے ایرانیوں سے تحقیقات کر رہے ہیں اور ان کی دو گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئی .

پاکستان کے ایک سکیورٹی عہدے دار نے کہا ہے کہ'یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور ہم اس امر کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ایرانی گارڈز سرحد عبور کر کے ہمارے علاقے میں کیوں داخل ہوئے ہیں'.

ایک اور پاکستانی سکیورٹی عہدے دار نے بتایا ہے کہ انہیں ایران کے سرحدی حکام نے بتایا ہے کہ' پاکستانی سرحد عبور کرنے کا واقعہ حادثاتی طور پیش آیا ہے،پاسداران انقلاب نے جند اللہ کے جنگجوٶں کے خلاف سرحد کے قریب کارروائی شروع کر رکھی ہے اور اس دوران وہ ممکنہ طور پر غلطی سے سرحد عبور کر گئے ہیں'.

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی اس وقت زیرحراست ہیں اور ابھی صورت حال واضح نہیں کہ انہیں کب رہا کیا جائے گا. ایران یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ جند اللہ کے پاکستانی حدود میں ٹھکانے قائم ہیں. ایرانی وزیر داخلہ محمد مصطفیٰ نجار نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران جنداللہ کے لیڈر عبدالمالک ریگی کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ان کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے اطلاع کو بے بنیاد قرار دیا تھا.

گیارہ ایرانی اہلکاروں کی گرفتاری کا واقعہ ایرانی صوبہ سیستان، بلوچستان کے علاقے پشین میں ایک خودکش بم دھماکے میں پاسداران انقلاب کے چھ کمانڈروں سمیت بیالیس افراد کی ہلاکت کے واقعہ کے آٹھ روز بعد پیش آیا ہے.

مذکورہ واقعی کے بعد پاسداران انقلاب کے ایک سنئیر کمانڈر نے پاکستان کی حدود میں جند اللہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا. ایران کا الزام ہے کہ یہ جنگجو گروپ پاکستانی علاقے سے ایران میں کارروائیاں کر رہا ہے.

جبکہ یہ افراد پاسدار نہیں تھے اور سپاہ پاسداران کے مرکزی حکام نے اس سے قبل پاسداروں کے پاکستان میں داخلے کی تردید کی ہے.

اس بات کا اہم ثبوت یہ ہے کہ گرفتارشدہ افراد سے پوچھ گچھ کے دعووں کے برعکس حکومت پاکستان نے آج صبح انہیں رہا کرنے کے بعد اعلان کیا کہ "غیردانستہ طور پر پاکستانی سرحد عبور کرنے والے ایرانی سرحدی محافظوں کو آزاد کردیا گیا ہے۔

پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق غیردانستہ طور پر پاکستانی سرحد عبور کرنے والے ایرانی سرحدی محافظوں کو آزاد کردیا گیا ہے۔فرنٹیئر کور کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ان افراد نے غلطی سے سرحد پار کی تھی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ وہ غلطی سے پاکستانی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ایرانی سرحدی محافظ سمگلروں کا پیچھا کرتے ہوئے نادانستہ طور پر پاکستانی علاقے میں داخل ہوگئے تھے"۔

اس کے باوجود پاکستان بعض ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ پاسداران انقلاب کے 11 اہلکار پاکستانی حدود سے گرفتار ہوگئے ہیں. ان ذرائع نے اپنی کم علمی کا ثبوت دیتے ہوئے سپاہ پاسداران کو بارڈر سیکورٹی فورس قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ "ایرانی بارڈر سیکورٹی فورس پاسداران انقلاب کے 11 ارکان پاکستان کے سرحدی علاقے ماشکیل سے گرفتار کر لیے گئے ہیں"۔

ان ذرائع نے سرکاری ذرائع کا ایرانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کے اہلکار اپنے سرحدی علاقے میں کالعدم تنظیم جنداﷲ کے خلاف کاروائی میں مصروف تھے کہ راستہ بھٹک کر پاکستانی سرحدی علاقے میں پہنچ گئے جہاں انہیں حراست میں لے لیا گیا".

دریں اثناء سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اپنے باضابطہ بیان میں پاکستان حکومت کے اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے کہ انھوں نے پاکستان میں داخل ہونے والے سپاہ پاسداران کے 11 اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے.

العالم ٹی وی چینل کے مطابق سپاہ پاسداران نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس کے بعض اہلکار پاکستان میں گرفتار کئے گئے ہیں. سپاہ پاسداران نے کہا کہ ان کا کوئی اہلکار پاکستان نہیں گیا اور گرفتار نہیں کیا گیا ہے.

سپاہ پاسداران نے جیونیوز کی اس رپورٹ کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے کہ سپاہ پاسداران کے اہلکار ماشکیل کے علاقے میں کاروائی کے لئے معلومات جمع کررہے تهے.

بہر حال حقیقت یہ ہے کہ ایرانی سیکورٹی فورسز یعنی پولیس کے 11 اہلکاروں نے اسمگلروں کا تعاقب کیا اور تعاقب کی حالت میں بارڈر کراس کرگئے جنہیں پاکستانی سیکورٹی فورسز نے گرفتار کیا اور آج پاکستانی سرحدی فورسز کے اعلی اہلکاروں نے پولیس اہلکار ایران کے حوالے کردیئے.

سیستان و بلوچستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کی سیکورٹی فورسز کے اعلی اہلکاروں نے 11 افراد کو تحویل میں لینے کے بعد ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ پاکستانی فورسز کے اہلکار بھی بسا اوقات غلطی سے سرحد عبور کرکے ایران میں داخل ہوتے ہیں مگر ان کے ساتھ نہایت دوستانہ برتاؤ کیا جاتا ہے اور ان کی خاطر مدارت کرکے واپس بھیج دیا جاتا ہے مگر ہمارے اہلکاروں کے ساتھ پاکستانی فورسز کا سلوک دوستانہ نہیں تھا.