اقوام متحدہ میں امریکہ کے مستقل نمائندے نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف دشمنی کا سلسلہ بند کردے ۔ یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں کہ جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی غزہ میں صہیونی ریاست کے ہاتھوں ڈھائے جانے والے مظالم سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لینے والی ہے ۔ توقع کی جارہی ہے کہ یہ رپورٹ جنرل اسمبلی کے رکن ممالک کی اکثریت کے ووٹوں سے منظور ہوجائے گی۔ اگر ایسا ہوگیا تو صہیونی ریاست کے جنگی جرائم کا کیس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور ہیگ کی عالمی عدالت انصاف میں بھیجے جانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی حامی سیکڑوں علاقائی اور عالمی تنظیموں نے بائیس روزہ جنگ میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مکمل مصداق قرار دیا ہے۔ اس وقت اسرائیلی سیاستدانوں اور فوجیوں کو انسانیت پر روا رکھے جانے والے جن الزامات کا سامنا ہے ان کی وجہ سے وہ مقبوضہ فلسطینی سرزمینوں سے باہر جاتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی برادری صہیونی ذرائع ابلاغ کے تسلط سے کسی حد تک آزاد ہوچکی ہے اور وہ ملت فلسطین کے حقوق کی بازیابی کے لئے قدم اٹھانے پر تیار ہوگئی ہے۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 170055
دنیا بھر میں صہیونی ریاست کے مظالم پر کئے جانے والے اعتراضات میں شدت آرہی ہے لیکن امریکہ نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف آواز اٹھانے کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے ۔