لاہور میں دو دہشت گرد گرفتار، خود کش جیکٹ برآمد پولیس نے دو مشتبہ دہشتگرد وں کو گرفتار کرکے ان سے خود کش حملوں میں استعمال ہونیوالی جیکٹ برآمد کرلی ۔ دونوں دہشتگر د ماڈل ٹاؤن سے فرار ہوکر لیاقت آباد کے فلیٹس میں چھپے ہوئے تھے ۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تعاقب کرکے انہیں حراست میں لے لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق گرفتار مشتبہ دہشت گردوں کی عمریں 20 سے25 سال ہیں ۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے دونوں مشتبہ دہشت گردوں کو الگ الگ گاڑیوں میں بٹھا کرنامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہےہنگو:متعدد وارداتوں میں ملوث 2اہم دہشت گرد گرفتار ڈی آئی جی کوہاٹ ڈویژن عبداللہ خان نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے دہشت گرد محمد شاہ اور گل حسن ہنگو میں تخریب کاری کے درجنوں واقعات میں ملوث ہیں ۔۔انہوں نے ماموند خوڑ پولیس چیک پوسٹ کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔جس میں تین پولیس اہلکار جاں بحق اور در زخمی ہوئے تھے ۔دونوں نے ٹل پولیس کی موبائل گاڑی کو بھی دھماکے سے تباہ کیا تھا اس واقعے میں ایس ایچ او یعقوب خان اور چار دیگر پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے ۔دونوں افراد ہنگو کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات اور تجارتی مراکز کو دھماکوں سے اڑانے میں بھی ملوث رہے ہیں۔ڈی آئی جی کے مطابق ہنگو پولیس نے آج علی الصبح ان کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور دونوں کو گرفتار کرلیا ان کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر اہم دستاویزات بھی برآمد کئے گئے ہیں دونوں ملزموں کو تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔وزیرستان آپریشن کا فیصلہ وزیر اعظم کی واپسی پر کیا جائیگا،رحمان ملک پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکیم اللہ محسود اگر زندہ ہے تو وہ اس کا ثبوت دے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے اسلحہ افغانستان سے آ رہا ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ پاک، افغان سرحد سیل کر دینا چاہیے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ملا عمر اور اسامہ بن لادن پاکستان میں موجود نہیں ہیں۔ جی ایچ کیو پر حملہ، ہلاک ہونیوالے دہشتگردوں کے نام سامنے آ گئے انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق جی ایچ کیو پر حملے کے ماسٹر مائنڈ عقیل عرف ڈاکٹر عثمان نے گرفتاری کے بعد اپنے ان ساتھیوں کے نام اگل دیے ہیں جن کے ساتھ اس نے جی ایچ کیو پرحملہ کیا تھا۔عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کے ان ساتھیوں کا تعلق جنوبی وزیرستان،سوات ،پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے جو جی ایچ کیو پر حملے کے دوران پاک فوج کے جوانوں کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گئے تھے۔ان میں جنوبی وزیرستان کا ذاکراللہ محسود،نور الحکیم محسود،ثنا اللہ محسود، عبدالرحمن محسود، عبداللہ محسود ،سوات کا عمیرعرف بلال ،پشاور کا علی اور ڈیرہ اسماعیل خان کا حبیب اللہ شامل ہیں۔ ہلاک ہونیو الے ان دہشت گردوں کی لاشیں ابھی سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں۔