اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: لبنان کے المنار ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں اقوام متحدہ کے امدادی ادارے انروا کے فلسطینی پناہ گزینوں کے امور کے ترجمان عدنان ابو حسنہ نے کہا ہے کہ ایک لاکھ فلسطینی، کہ جن کے گھر گذشتہ برس غزہ پر صیہونی حکومت کے پچاس روزہ حملوں میں تباہ ہو گئے تھے، آج بھی در بدر ہیں- عدنان ابو حسنہ نے مزید کہا کہ انروا نے ساٹھ ہزار ایسے مکانوں کی مرمت کروا دی ہے کہ جنھیں معمولی نقصان پہنچا تھا لیکن اصل تعمیر نو کا کام ابھی شروع نہیں ہوا ہے-
درایں اثنا غزہ پٹی میں انروا کے آپریشن ڈائریکٹر رابرٹ ٹرنر نے غزہ پر صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں کا ایک سال پورا ہونے کے بعد غزہ میں انروا کے دفتر میں منعقدہ ایک اجلاس میں کہا ہے کہ غزہ میں سات ہزار سے زیادہ مکانات پوری طرح تباہ ہوئے ہیں اور ان کی مکمل طور تعمیر نو کی ضرورت ہے- رابرٹ ٹرنز نے غزہ کی افسوسناک صورت حال اور اس علاقے میں موجود متعدد مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت کی جانب سے غزہ کا محاصرہ جاری رہنے کے باعث اس علاقے کی صورت حال بہتر ہونا مشکل ہے- غزہ میں انروا کے آپریشن ڈائریکٹر نے کہا کہ غزہ پٹی کی تعمیر نو کے لئے مثبت وعدے کئے گئے لیکن ابھی تک وہ پورے نہیں ہوئے ہیں-
عرب ممالک نے اکتوبر دو ہزار چودہ میں قاہرہ میں" غزہ کی تعمیر نو" کے زیر عنوان ایک کانفرنس منعقد کی تھی اور غزہ کی تعمیر نو کے لئے پانچ ارب، چار سو ملین ڈالر مختص کئے تھے لیکن لازمی بجٹ نہ ملنے کے باعث اس محصور علاقے کی تعمیر نو کا کام نہایت سستی سے آگے بڑھ رہا ہے- واضح رہے کہ جولائی دو ہزار چودہ میں غزہ پر صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں میں دو ہزار تین سو سے زیادہ فلسطینی شہید اور گیارہ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے- قابل ذکر ہے کہ عالمی برادری نے مجرم صیہونی حکام پر مقدمہ چلانے کے لئے اب تک کوئی اقدام نہیں کیا ہے-
.......
/169