31 جولائی 2024 - 17:15
تہران میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت؛ سب سے پہلا "کھلا" راز

اسماعیل ہنیہ پر دہشت گردانہ حملہ کرنے والوں کا سب سے بڑا خبط یہ ہے کہ وہ یہ اندازہ لگانے سے قاصر ہیں کہ اس مجاہد شہید کا خون، ایرانی اور فلسطینی قوموں کے درمیان رشتوں کو ناقابل یقین حد تک استحکام کا سبب بنے گا اور اس کے تزویراتی اثرات ان کے لئے تباہ کن ہونگے؛ اسماعیل ہنیہ اب ملت ایران کے عظیم شہداء میں شمار ہونگے؛ اور اس کے معنی یہ ہونگے کہ فلسطین اور فلسطینی ماضی سے کہیں بڑھ کر ایرانیوں کے دلوں میں جگہ بنائیں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ | امریکہ کے "داانشمند تزویرکار!" اس سے پہلے سمجھ چکے ہیں کہ بغداد میں شہید الحاج قاسم سلیمانی کے ساتھ شہید الحاج ابو مہدی المہندس کی شہادت نے ایرانی اور عراقی قوموں کے درمیان قلبی رشتوں کی مضبوطی کا سبب بن گئی! یقینا تہران میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت، ایران میں صہیونیت کے خلاف ایک انتہائی طاقتور لہر کا سبب بنی گی اور ملت فلسطین کے تئیں ان کی حمایت میں دسوں گنا اضافہ ہوگا۔  

صہیونی دشمن بہت جلد، تہران میں، شہید اسماعیل ہنیہ کے ساتھ وداع کے دوران دیکھ لیں گے، کہ انھوں نے ایک وقتی اور جذباتی اندازوں کے مطابق اقدام کرکے کتنا بڑا تزویراتی نقصان اٹھایا ہے۔  کل تک الحاج قاسم سلیمانی فلسطینیوں کے ہاں "راہ قدس کے شہید خاص" تھے اور آج کے بعد اسماعیل ہنیہ "ایران میں مقاومت کے شہید خاص" ہونگے۔

صهیونیست‌ها به زودی در بدرقه شهید اسماعیل هنیه در تهران متوجه خواهند شد که با یک محاسبه غلط هیجانی، چه ضرر راهبردی بزرگی را محتمل شدند. تا دیروز حاج قاسم شهید ویژه راه قدس برای فلسطینی‌ها بود و از امروز «اسماعیل هنیه» شهید ویژه مقاومت در ایران خواهد شد.

بےشک یہ واقعہ ہمارے لئے دردناک اور غم و غصے کا سبب بنا ہے، لیکن ہم اسلامی انقلاب کے 45 برسوں کے دوران اللہ کی اس سنت کا بارہا تجربہ کرچے ہیں کہ کوئی بھی چیز شہید کا خون جاری ہونے سے زیادہ، ہمارے لئے عظیم اور حقیقی کامیابیوں کے حصول میں، ممد و مؤثر ثابت نہیں ہو سکی ہے۔

یاد رکھنا چاہئے کہ الحاج قاسم سلیمانی کا خون زمین پر گرا تو ہم نے طوفان الاقصی، سیف القدس، وعدہ صادق اور یورپی اور امریکی یونیورسٹیوں میں بیداری کی لہروں نیز صہیونی ریاست کے خلاف مغربی باشندوں کے عظیم جلسوں، جلوسوں، مظاہروں اور احتجاجی ریلیوں کا مشاہدہ کیا۔ حالانکہ شاید الحاج قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد کے ابتدائی دنوں میں شاید کچھ لوگ محاذ مقاومت کے لئے اتنی عظیم فتوحات کا تصویر بھی نہیں کر سکتے تھے۔

ہمیں یقین کرنا چاہئے، اور ہمیں یقین ہے کہ محاذ مزاحمت کے دارالحکومت "تہران" میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے پیچھے ایک فتح عظیم مضمر ہے جس کی ضمانت ہمیشہ کی طرح اللہ کی سنتوں کی رو سے، فراہم ہو چکی ہے۔ کشیدگی اور تناؤ سے بھرپور حالیہ چند برسوں کا تجربہ ـ جن کے دوران مغربی ایشیا کے خطے کے سیاسی اور عسکری سفر کی رفتار میں، مقاومت کے حق میں، تیزی آئی ہے ـ ہمیں بتا رہا ہے، کہ آنے والی فتوحات دیر سے نہیں بلکہ عنقریب رونما ہونگی اور ہمیں انہیں بہت جلد دیکھ لیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110