بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || "بیٹی کی پیدائش ایک نقصان ہے!"؛ یہ نام نہاد اور دعویدار مغربی تہذیبوں کے گہوارے میں خواتین سے متعلق تاریخی نظریئے کی محض ایک جھلک ہے۔
دوسری اور آخری قسط:
یہ منفعت پرستانہ سوچ حتیٰ کہ تحریف شدہ دینی متون میں بھی رسوخ کر گئی۔ تلمود (یہودی متون کی تفسیر اورصہیونی یہودیوں کے اصل منشور) میں عورت کی بے حقی (Rightlessness) کے بابت کہا گیا ہے: "عورت کیونکر اپنے لئے کچھ رکھ سکتی ہے جبکہ وہ خود شوہر کی ملکیت ہے؟ جو کچھ وہ گلیوں میں سے حاصل کرتی ہے ـ حتیٰ کہ میز پر پڑی روٹی کے ٹکڑے بھی ـ شوہر کی ملکیت ہیں۔ حتیٰ کہ اگر وہ کسی کو گھر بلائے اور اس کی کچھ کھلائے پلائے تو گویا اس نے اپنے شوہر سے چوری کی ہے۔"
عرب جاہلیت کے دور کی ایک تلخ ترین روایت "وأد" یعنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے سے عبارت تھی؛ ایسی رسم کہ کچھ تاریخی شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی تمیم سمیت کچھ عرب قبائل، میں رائج تھی۔ کچھ تاریخی مرویات اس رسم کو اسلام سے پہلے کے دور کے آخری سالوں اور قیس بن عاصم کے واقعے اور حیرہ کے بادشاہ نعمان بن منذر کے دور حکومت سے منسوب کرتی ہیں۔
عرب جاہلیت میں، جب عورت کی زچگی کا وقت آن پہنچتا تھا تو کا وقت آتا، تو اسے ایک گڑھا کھودنا پڑتا تھا۔ عورت اس گڑھے کے کنارے بیٹھ جاتی تھی اوربچی کو جنم دیتی تھ اسے گڑھے میں پھینک دیتی تھی اور اگر لڑکا ہوتا تو اسے رکھ لیتی تھی۔
اسلام نے اپنے ظہور کے ساتھ ہی اس تصور کو چیلنج کیا اور قرآن کریم نے بیٹیوں کو قتل کرنے کی صریح مذمت کی۔ قرآن کا تمام انسانوں کے وقار و کرامت پر نظر، جاہلی معاشرے کے ایک حصے میں بیٹیوں کے بارے میں رائج ذلت آمیز اور جنسی امتیاز کے اس مذموم تصور کے ساتھ، اسلامی تعلیمات کے واضح تقابل کو عیاں کرتی ہے۔
علاوہ ازیں، یہودیت اور عیسائیت کی تعلیمات میں بھی ـ جو اللہ کے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں کی پچھلی نسلوں کے لئے آئیں ـ عورت کو خاص مقام حاصل تھا، ـ لیکن ان کے برخلاف، ان دونوں مکاتب کے پیروکاروں کی غلط سوچ ان کی تحریف شدہ کتابوں کی شکل میں ظاہر ہوئی اور یہ تحریفات انجیل اور تورات میں داخل ہو گئی ہیں۔
تحریف شدہ مسیحی متون میں پولس کے پہلے خط (ایک شخص جس نے خود کو مسیح کا شاگرد سمجھا) میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ "مرد عورت سے نہیں؛ بلکہ عورت مرد سے ہے۔ مرد عورت کی خاطر پیدا نہیں کیا گیا؛ بلکہ عورت مرد کے لئے پیدا کی گئی۔" اور کیتھولک انجیل (باب 22) میں لکھا ہے: "بیٹی کی پیدائش ایک خسارہ اور نقصان ہے!"
ان دستاویزات کا دوبارہ مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ عورت پر ظلم کی تاریخی جڑ یہ تھی کہ عورت کو ایک اوزار اور سازوسامان سمجھا گیا؛ ایسی سوچ جو آج بھی مغرب میں صرف اوزار بدل کر اور ابلاغیاتی لبادہ اوڑھ کر اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مآخذ:
1۔ کتاب 'تہذیب کی کہانی' (جلد دوئم) از ویل دورانت
2۔ کتاب 'ناگفتہ ہائے صورتی (ان کہی گلابی باتیں)' از محمدحسین راجی
3۔ کتاب 'L'Iran sous les Sassanides (ایران ساسانی دور میں)' از آرتھر کریسٹین سن
4۔ کتاب 'زن در تاریخ اندیشہ اسلامی (عورت اسلامی فکر کی تاریخ میں)' از فتحیہ فتاحی زادہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: فاطمہ زہرا نصراللہی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ