بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || "بیٹی کی پیدائش ایک نقصان ہے!"؛ یہ نام نہاد اور دعویدار مغربی تہذیبوں کے گہوارے میں خواتین سے متعلق تاریخی نظریئے کی محض ایک جھلک ہے۔
آج کے مغربی ذرائع ابلاغ ایسے حال میں عورتوں کے حقوق کی حمایت کا روپ دھارتے ہیں کہ ان کی پوشیدہ رکھی گئی تاریخ معاشرے کے نصف حصے کے خلاف قانونی اور ساختی (structured) غلامی اور امتیاز سے پردہ اٹھاتی ہے۔
قدیم متون اور تحریف شدہ اسناد کا تجزیہ بتاتا ہے کہ آج انسانی حقوق جیسے عنوانات کے تحت جو تشہیر کی جا رہی ہے، وہ ایک ایسے پس منظر کو چھپانے کی نمائش ہے جو سراسر تذلیل و تحقیر اور ظلم و ستم سے بھرا پڑا ہے۔
قدیم ایتھنز میں، ـ جس کو مغرب "جمہوریت اور فلسفے کا گہوارہ" کہتا ہے، ـ عورت کو حتیٰ کہ آزاد انسانی تشخص بھی حاصل نہیں تھا۔ عورت (بیوی) کے لئے استعمال ہونے والی "قانونی اصطلاح "دامار" (Damar) تھی؛ ایسا لفظ جو (subdue) یعنی "قابو کرنے (تسخیر کرنے، یا زیر کرنے یا فتح کرنے)" کی جڑ سے ماخوذ تھا۔ "ایوا کیولز" (Eva Keuls) اپنی کتاب "فالوس کی حکمرانی" (The Reign of the Phauus) میں اور "ول ڈیورانٹ(Will Durant)" "تہذیب کی کہانی (The Story of Civilization)" میں لکھتے ہیں کہ ایتھنی عورت کو نہ معاہدہ کرنے کا حق تھا، نہ کچھ معمولی سی رقم سے زیادہ قرض لینے کا حق، اور نہ عدالت میں دعویٰ دائر کرنے کی طاقت۔ شوہر کی موت کے بعد بھی اس کو اس کو اس کے ترکے سے کچھ بھی نہیں ملتا تھا۔
یونان کے مشہور فلسفی بھی اس جاہلیت اور استحصال کی تائید کرتے ہوئے اس کو نظریاتی شکل دیتے تھے؛ ارسطو عورت کو "بے فائدہ وجود اور شرّ کا منبع" سمجھتا تھا اور مشہور ریاضی دان، فیثاغورس کا خیال تھا: "ایک اچھا ذریعہ موجود ہے جس نے نظم، نور اور مرد کو پیدا کیا اور ایک شیطانی ذریعہ بھی موجود ہے جس نے انتشار، تاریکی اور عورت کو پیدا کیا ہے۔"
قدیم رومی سلطنت میں عورت 'سازوسامان' کی سطح سے آگے نہ بڑھ سکم۔ بروس فریئر (Bruce Frier) اور تھامس میک گن (Thomas McGinn) اپنی کتاب "روم میں خاندانی قانون (A Casebook on Roman Family Law)" میں سند دیتے ہیں کہ روم کے قوانین کے مطابق عورت شوہر کی مطلق ملکیت سمجھی جاتی تھی۔
قانون مرد کو یہ حق دیتا تھا کہ اپنی بیوی کو ان خطاؤں کی وجہ سے جو اس کی عزت یا ملکیتی حقوق کو مجروح کرتی تھیں، زد و کوب کرے، طلاق دے یا حتیٰ کہ مار ڈالے۔ جنسی امتیاز اس قدر عیاں تھا کہ عورت کی زنا کی سزا موت تھی، لیکن مرد اسی جرم کا مرتکب ہوکر بھی بالکل بے گناہ سمجھا جاتا تھا۔
ساسانی دور کے ایران میں بھی عورتیں ایک سخت طبقاتی نظام کے تحت شیۓ سمجھی جاتی تھیں۔ آرتھر کرسٹینسن (Arthur Christensen) اپنی کتاب "ایران ساسانی دور میں" (L'Iran sous les Sassanides)" میں "قرضی شادی" کے رجحان کی وضاحت کرتے ہیں؛ ایسا قانون جس کے مطابق مرد اپنی بیوی کی رضامندی کے بغیر بھی، اسے ایک مقررہ مدت کے لئے کسی دوسرے مرد کو قرض دے سکتا تھا! اس سودے سے پیدا ہونے والے بچے بھی ماں کے نہیں بلکہ پہلے شوہر کی ملکیت ہوتے تھے اور بعض اوقات انہیں غلاموں کے انداز سے مزدوروں کے طور پر فروخت کیا جاتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: فاطمہ زہرا نصراللہی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ