23 جولائی 2020 - 11:59
مصطفیٰ الکاظمی کا ایران دورہ اور دشمنوں کی ناکامیاں

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے واضح اور صریح موقف کے ذریعے عراق میں ایران کے کردار کے بارے میں پائے جانے والے بہت سارے شبہات اور سوالات کے جواب دے دیے اور ان تعلقات کے لیے روشن مستقبل کا نقشہ کھینچ دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراقی وزیر اعظم کا تہران دورہ ، جو وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے اور وہ بھی ایسے حالات میں جب انہوں نے سعودی عرب کا طے شدہ دورہ ملتوی کر کے ایران کو انتخاب کیا، بہت سارے پیغامات پر مشتمل ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس دورے نے ان لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک دی جو ایران اور عراق کے تعلقات کو خراب کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔
مصطفیٰ الکاظمی کے عراق کے منصب وزارت عظمیٰ پر براجمان ہونے کے ابتدائی لمحوں میں ہی بعض عراقی عناصر اور کچھ دیگر ممالک خصوصا امریکہ اور سعودی عرب نے، ان دو برادر اور دوست ملکوں؛ ایران و عراق کے مابین تعلقات پر تبصرے کرنا شروع کر دئے اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ الکاظمی ایران کے عراق میں پائے جانے والے اثر و رسوخ کو کم کر دیں گے۔  
عراقی وزیر اعظم کا تہران دورہ اور سیاسی ، معاشی  اور سیکیورٹی کے ہر سطح پر اس کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا کہ ایران اور عراق کے تعلقات گہرے اور مستحکم ہیں، اور یہ تعلقات اس سے کہیں زیادہ گہرے ہیں کہ عراق میں حکومت کی تبدیلی انہیں متاثر کر سکے کیونکہ ایران اور عراق کے مشترکہ مفادات اور مشترکہ چیلنجز ہیں اور ایران نے حالیہ برسوں اور دہائیوں میں یہ ثابت کیا ہے کہ یہ ایک ایسا اتحادی ہے جس پر سخت بحران اور سختی کے وقت اعتماد کیا جاسکتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی سے ہوئی ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی عراق کی حمایت میں مستحکم پوزیشن کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا ، "ایران خودمختار، متحد، سربلند اور آزاد عراق چاہتا ہے، اور کبھی بھی عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔"
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ ایران ، امریکہ کے ساتھ عراق کے تعلقات میں مداخلت نہیں کرے گا ، لیکن اپنے عراقی دوستوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ امریکہ کو پہچانیں اور سمجھیں کہ کسی بھی ملک میں امریکی موجودگی فساد اور تباہی کا بڑا سبب ہے ، اور ایران توقع رکھتا ہے کہ عراقی حکومت، پارلیمنٹ اور قوم کا امریکیوں کے انخلاء کے حوالے سے فیصلہ عملی صورت اختیار کرنا چاہیے اس لیے کہ ان کی موجودگی سے سلامتی استحکام کو نقصان پہنچے گا۔  
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے واضح اور صریح موقف کے ذریعے عراق میں ایران کے کردار کے بارے میں پائے جانے والے بہت سارے شبہات اور سوالات کے جواب دے دیے اور ان تعلقات کے لیے روشن مستقبل کا نقشہ کھینچ دیا۔

بقلم الف۔ عین۔ جعفری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲